Skip to content
سیاسی غلامی ملک کو درپیش سب سے بڑا بحران ہے۔ ایس ڈی پی آئی
کالی کٹ ،21نومبر(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کیرلا کی6ویںریاستی نمائندہ کونسل گزشتہ 19اور 20نومبر 2024کو کالی کٹ اسپن کورٹ یارڈ میں منعقد ہوا۔ ایس ڈی پی آئی کے قومی نائب صدر محمد شفیع نے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کو جس سب سے بڑا بحران کا سامنا ہے وہ سیاسی غلامی ہے اور کوئی بھی پارٹی اس کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ حکمران اور اپوزیشن دونوں پارٹیاں عوام کے سنگین مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہیں۔
مرکزی حکومت ملک کی بہت چھوٹی اقلیت کارپوریٹس کے مفادات کے تحفظ کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کو بے روزگاری، مہنگائی، غربت، غذائی قلت، یونیورسٹی کے امتحانات میں تاخیر وغیرہ جیسے مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، عوام کی اکثریت بی جے پی حکومت کی تباہ کاریوں سے دوچار ہے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت نفرت اور منافرت سے بھوک پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن میں مرکزی حکومت کے عوام مخالف موقف پر ردعمل ظاہر کرنے کی ہمت نہیں ہے اور نہ ہی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت ہے۔ صورتحال یہ نظر آتی ہے کہ ملک میں کوئی مضبوط اپوزیشن نہیں ہے۔
منی پور میں مسیحی برادری گزشتہ ڈیڑھ سال سے وحشیانہ مظالم کا شکار ہے۔ حالیہ دنوں میں صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ وزیراعلیٰ کے رشتہ دار کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا۔ حکام مجرموں کو قابو کرنے یا تشدد کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ ملک میں وراثت اور تنوع میں اتحاد فاشسٹ حکمرانی کے تحت مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ آر ایس ایس کے تابع حکمرانی کے نظام کی وجہ سے ملک انتہائی قابل رحم سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے۔
معاشرے کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اگر کسی گروہ پر حملہ ہونے کے وقت وہ غیر فعال رہے تو مجرم بھی ان کی طرف پلٹ جائیں گے۔ کیرالا وزیرِ اعلیٰ پنارائی وجین نے کیرلا کو آر ایس ایس کے لیے ایک زرخیز مٹی بنا دیا ہے، جیسا کہ کانگریس کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے بابری مسجد کے انہدام میں آر ایس ایس کی مدد کی تھی۔ محمد شفیع نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی اس فلاحی ریاست کے خواب کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے جس کا خواب ہمارے قوم کے معماروں اور آزادی پسندوں نے دیکھا تھا۔
ایس آر سی کا آغاز منگل، 19 نومبر 2024 کو صبح 09:30 بجے، ریاستی صدر موٹوپژا اشرف مولوی نے کوزی کوڈ بیچ پر اسپن کورٹ یارڈ کے احاطے میں پرچم لہرانے کے ساتھ کیا۔ انہوں نے ایس آر سی کی صدارت کی۔ قومی جنرل سیکریٹریان پی عبدالمجید فیضی اور الیاس محمد تھمبے، قومی سیکریٹری فیصل عزالدین، نیشنل سیکریٹریٹ کے اراکین سی پی عبداللطیف اور دہلان باقوی، این ڈبلیو سی کے رکن ظہیر عباس اور ریاستی عہدیداران بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوسرے دن ریاست کیرلا کی اگلے تین سال کی میعاد27۔2024 کیلئے نئی منتخب ریاستی کمیٹی کا اعلان کیا گیا۔
جس کے تحت ریاستی صدر کے طور پر سی پی اے لطیف، ریاستی نائب صدور کے طور پر پی عبدالحمید، تلسی دھرن پللیکل ،ریاستی جنرل سکریٹریان کے طور پر پی آر سید، پی پی رفیق، رائے اراکل ، پی کے عثمان، کے کے عبدالجبار، ریاستی سکریٹریان کے طور پر جانسن کنڈاچیرا، کرشنن ارنجیکل ، پی جمیلہ ، انصاری اناتو، ایم ایم طاہر، منجو شامویلاڈم، این کے رشید عثمانی اور ریاستی ورکنگ کمیٹی اراکین کے طور پر موٹو پوژا اشرف مولوی، اجمل اسماعیل ، وی ٹی اکرام الحق، اڈوکیٹ اے کے صلاح الدین، وی ایم فیصل، ٹی ناصر، جارج منڈاکایم، اشرف پروچامبلم، وی کے شوکت علی، نمی نوشاد منتخب ہوئے۔
Like this:
Like Loading...