Skip to content
اڈانی تنازع: امریکی الزامات اور بین الاقوامی ساکھ کا امتحان
ازقلم:شیخ سلیم ،ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
امریکی حکام نے اڈانی گروپ اور اس کے بانی گوتم اڈانی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے، جس میں توانائی کے منصوبوں کے حصول کے لیے بھارتی حکام کو مبینہ رشوت دینے کے الزامات شامل ہیں۔ یہ تحقیقات نیویارک کے مشرقی ضلع کے یو ایس اٹارنی کے دفتر اور محکمۂ انصاف کے تحت ہو رہی ہیں، جو امریکی Foreign Corrupt Practices Act (FCPA) کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر مرکوز ہیں۔امریکی خوانین کے مطابق رشوت خوری بڑا جرم ہے اور ایسے معاملات سامنے آنے پر قوانین نافذ کرنے والے ادارے سخت ترین اقدام اٹھاتے ہیں۔
اڈانی گروپ نے ان الزامات کو مکمل طور پر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے، اور اپنے مالیاتی معاملات کو شفاف اور قانونی قرار دیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ انہیں رشوت ستانی کے کسی بھی معاملے کا علم نہیں ہے، اور یہ الزامات بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اڈانی گروپ نے امریکی مارکیٹ میں 600 ملین ڈالر کے بانڈ جاری کرنے کی اپنی منصوبہ بندی کو واپس لے لیا ہے۔ اس فیصلے کو 2023 کی ہنڈن برگ رپورٹ کے اثرات اور حالیہ الزامات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، جس میں اڈانی گروپ پر مالی بے قاعدگیوں اور اسٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔
حالیہ الزامات کا مقصد اڈانی گروپ کے عالمی مالیاتی منصوبوں کو روکنا سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے ایسی سخت تحقیقات کے بعد گروپ کے امریکی مالیاتی مارکیٹ میں داخلے پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ بھارت میں اس معاملے پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن اس سے بھارتی کمپنیوں کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پچھلے سال ہنڈنبرگ کی رپورٹ کے بعد اڈانی گروپ کے شیئرز میں بہت زیادہ گراوٹ دیکھی گئی تھی مگر بعد میں یہ شیئرز کافی سنبھل گئے تھے۔ کسی قسم کی کوئی انکوائری وغیرہ نہیں کی گئی یہ کہا جاسکتا ہے بھاجپا سرکار کی طرف سے مکمل چشم پوشی کی گئی تھی۔ راہول گاندھی نے پارلیمینٹ ہاؤس میں بھی اس معاملے کو اٹھایا تھا اور بعد میں ہر جلسے میں ہر پریس کانفرنس میں وزیر اعظم پر اڈانی گروپ سے دوستی کا برابر الزام لگاتے رہے۔ عموماً جو سرمایہ دار سرکار کے قریب ہوتے ہیں اُنکی مالی بدعنوانی پر کوئی خاص رد عمل نہیں ہوتا۔ سرکاری بینک بڑے بڑے سرمایہ داروں کا کئی لاکھ کروڑ کا قرضہ معاف کر چکے ہیں۔ اب بھی اسکی کوئی امید نہیں ہے مرکزی سرکار اس رشوت خوری کے معاملے میں کوئی تفتیش کریگی۔گودی میڈیا اڈانی کی حمایت میں میدان میں کود گیا ہے۔
گروپ کے شیئرز پر فوری اثر محدود رہا، لیکن طویل مدتی اثرات کا انحصار تحقیقات کے نتائج پر ہوگا۔ اڈانی گروپ کے مطابق یہ الزامات ایک منصوبہ بند پروپیگنڈا ہیں، جس کا مقصد ان کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔ یہ تنازع نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی و اقتصادی چیلنجز کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
Like this:
Like Loading...