Skip to content
جھانسی اسپتال سانحہ: بیمار انتظامیہ اور مفلوج سیاست
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
جھانسی میں واقع مہارانی لکشمی بائی میڈیکل کالج کے این آئی سی یو میں لگی خوفناک آتشزدگی نے 11 بچوں کو لقمۂ اجل بنادیا۔ فی زمانہ اگر رانی لکشی بائی زندہ ہوتیں تو پہلی فرصت میں اپنے صوبیدار کو برخواست کردیتی لیکن ملک کا وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور ریاست کے وزیر اعلیٰ سب کے سب انتخابی مہم میں مصروف ہیں ۔ ان تینوں اہم ذمہ داروں میں سے ایک نے بھی جھانسی جانے کی زحمت نہیں کی ۔ یوگی نے کم ازکم کچھ زبانی جمع خرچ کیا مگر باقی دونوں نے تو ایکس پر ایک پیغام لکھ کر پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار تک نہیں کیا۔ جمعہ کو دیر رات جب یہ تکلیف دہ حادثہ رونما ہوا تو اس وقت وارڈ میں 49 بچے زیر علاج تھے ۔ ان میں سے 38بچوں کو نکالا جاسکا اور تین کی حالت نازک تھی۔ بعد ازاں ایک بچے کی دوران علاج موت ہوگئی تو اس کے والدین کو سرکاری امداد سے محروم کرنے کے لیے کہہ دیا گیا کہ وہ موت جھلسنے سے نہیں ہوئی۔
آگ لگنے کی وجوہات کے حوالے سے کانپور زون کے ADG آلوک سنگھ نے راحت کاموں کی نگرانی کرکے تصدیق کی کہ اس کا سبب الیکٹرک شارٹ سرکٹ تھا ۔ جھانسی کے ضلعی مجسٹریٹ اویناش کمار نے بھی صحافیوں کو بتایا کہ اسپتال کی نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال یونٹ (این آئی سی یو) میں رات 10 بج کر 45 منٹ پر ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی۔ اس سرکاری بیانیہ سے علی الرغم ابتدائی طور پر آکسیجن مشین میں چنگاری سے آگ لگنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے ڈی جی ہیلتھ کی نگرانی میں ۴؍ رکنی کمیٹی تشکیل دے کر ۷؍ روز میں پورے معاملہ کی جانچ کا حکم دےدیا ۔اس کے علاوہ تین مزید جانچ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان میں سے پہلی جانچ محکمہ صحت کی جانب سے کی جارہی ہے، اس میں فائر بریگیڈ کے افسران بھی شامل ہیں۔ دوسری جانچ ضلع سطح پر انتظامیہ کروا رہا ہے جبکہ تیسری مجسٹریٹ کے زیر نگرانی تفتیش ہوگی ۔ ایک کام کے لیے تین مختلف ادارے وقت اور توانائی کا ضیاء ہے لیکن یہ ساری نوٹنکی لوگوں کی توجہ ہٹاکر یہ تاثر دینے کی خاطر ضروری ہے کہ حکومت بہت فکرمند ہے حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو یکے بعد دیگرے اس طرح کے واقعات رونما ہی نہیں ہوتے ۔
ماضی قریب میں گجرات کے اندر دو اور دہلی میں ایک بڑا حادثہ ہوچکا ہے۔ جولائی 2024 میں راجکوٹ(گجرات) کے اندر ٹی آر پی گیم زون کے اندر آگ لگنے سے28لوگوں کی حادثاتی موت ہوگئی تھی۔ اس وقت بھی ابتداء میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتایا گیا مگر بعد میں پتہ چلا کہ گیم زون والوں نے بلدیہ کے آگ بجھانےوالے شعبے سے اجازت تک نہیں لی تھی ۔ اس کے باوجود بڑے دھڑلّے سے وہ کاروبار کررہا تھا کیونکہ اس سیاسی تعلقات مضبوط تھے۔ یہی وجہ ہے کہ گیم زون کے مالک کو بچانے کے لیے شروع میں غلط وجہ بتائی گئی لیکن بعد میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا۔ مئی 2024 میں مشرقی دہلی کے اندر وویک ویہار کے ایک بے بی کیئر یونٹ میں آگ لگ گئی اور اس نے 7 بچوں کو نگل لیا ۔ اس وقت بھی شارٹ سرکٹ کےسبب آکسیجن سیلنڈر کے آگ پکڑنے کی بات سامنے آئی اور دھماکے اس قدر شدید تھے کہ آس پاس کے مکان دہل گئے۔ اس حادثے سے اگر سبق سیکھا جاتا تو جھانسی کے حادثے کو ٹالا جاسکتا تھا لیکن سیاستدانوں کو انتخاب سے اور انتظامیہ کو ان چاپلوسی سے فرصت ہی نہیں ہے ۔ اس لیے بقول حفیظ میرٹھی؎
ایسی آسانی سے قابو میں کہاں آتی ہے آگ
جب بھڑکتی ہے تو بھڑکے ہی چلی جاتی ہے آگ
مئی 2019 میں سورت کے ایک زیر زمین کوچنگ سینٹر کی آگ نے 22 طلباء کی جان لے لی لیکن وہ معاملہ بھی آیا گیا ہوگیا کیونکہ بی جے پی کی ڈبل انجن سرکار بے قصور لوگوں کو سزا دینے میں جتنی دلچسپی لیتی اتنی محنت اپنے چہیتے قصوروار لوگوں کو سزا دلوانے میں نہیں کرتی ۔ ملک بھر کے اسپتالوں میں پچھلے 15 سالوں کے اندر 660 آتش زنی کے سانحات ہوچکے ہیں۔ان میں 200 جانیں گئی ہیں۔ آتش زنی کے ہرواقعہ کے بعد سیفٹی آڈٹ کی بات کی جاتی ہے مگر اس پر عمل در آمد نہیں ہوتا۔جھانسی کے معاملے میں ایک چشم دید گواہ نے بتایا کہ اس نے نرس کو آکسیجن کی ٹیوب کو جوڑنے کی خاطر دیا سلائی جلاتے دیکھا ۔ یہ ٹریننگ کی کوتاہی ہے اور اس کے لیے بھی انتظامیہ ذمہ دار ہےْ۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ وارڈ بوائے نے جب آگ بجھانے والے سیلنڈر کو چلانے کی کوشش کی تو وہ نہیں چلا کیونکہ وہ چار سال قبل ایکسپائر ہوچکا تھا ۔ اس سے زیادہ لاپروائی کیا ہوسکتی ہے کہ جو کام ہر ۶؍ ماہ کے وقفہ سے ہونا چاہیے اسے ۴؍ سالوں تک ٹالا گیا۔
ایسی مجرمانہ کوتاہی کا ارتکاب کرنے والے چونکہ سرکاری داماد ہوتے ہیں اس لیے انتظامیہ انہیں بچانے کی پوری کوشش کرتاہے ۔ وطن عزیز میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ اس واقعہ کے دوسرے دن کانپور دیہات کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے ۶؍ مزدوروں کی موت ہوگئی۔ اسی دن ممبئی کے چیمبور علاقہ میں ایک گھر کی خوفناک آتشزدگی نے سات افراد کو ہلاک کردیا۔ اس سلسلے کے دراز تر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حکومت وقت آ گ سے تحفظ کی بابت بنیادی سہولیات پر توجہ دینے کے بجائے صرف لیپا پوتی میں یقین رکھتی ہے۔ اس طرح کا کوئی حادثہ رونما ہوجاتا ہے تو عوام کی آنکھ میں دھول جھونکنے کی خاطر یوگی جیسے پاکھنڈی وزیراعلیٰ مہلوکین کےورثاء کو ۵-۵؍ لاکھ روپے اور زخمیوں کو۰ ۵-۵۰؍ ہزار روپے کا معاوضہ دینے کا اعلان کرکے اپنے آپ کو ہریش چندر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خود نہیں جاتے تو اپنے نائب ڈاکٹربرجیش پاٹھک کو میڈیکل کالج کا دورہ کرنے اور اس کے بعد مگر مچھ کے آنسو بہانے کےلیے روانہ کردیا جاتا ہے۔ وہ انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوے کہتے ہیں کہ حکومت اس سانحے کی مکمل جانچ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ مشکل کی اِس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کو تعاون کا یقین دلایا جاتاہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان اعلانات سے وہ بچے لوٹ آئیں گے جن کو آگ نے اپنی آغوش میں لے لیا؟ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی ضلع انتظامیہ کو راحت کاموں کو جنگی پیمانے پر انجام دینے کی ہدایت دے کر جھانسی ڈویژنل کمشنر اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس سے 12 گھنٹے کے اندر واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہیں لیکن وہ معاملہ بھی ٹائیں ٹائیں فش ہوجاتا ہے۔ اس معاملے کا ایک شرمناک پہلو یہ بھی ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک اور پرنسپل سیکریٹری صحت ومیڈیکل کا جائے وارادات کا دورہ ہو یا میڈیکل اورضلع انتظامیہ کا وہاں جانا ہر ایک کو وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ سےمنسوب کیا جاتا ہے۔ یعنی ان میں سے کوئی بھی ازخود اپنی ذمہ داری محسوس کرکے اسے ادا کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ بادلِ نخواستہ وزیر اعلیٰ کے احکامات کی بجا آوری کرتا ہے۔ یہ چاپلوسی کی بدترین شکل نہیں تو کیا ہے؟
اس غم و اندوہ کے عالم میں وزیر اعلیٰ ’ بٹیں گے اور کٹیں گے‘ کی سیاست کررہے تھے۔ انہوں نے اپنے نائب اور وزیر صحت کو جھانسی جانے حکم دیا تو انتظامیہ پر بجلی گر گئی ۔ اسپتال کا انتظامیہ ان روتے بلکتے والدین کے آنسو پونچھنے کے بجائے نائب وزیر اعلیٰ کے شایانِ شان استقبال کی تیاری میں جٹ گیا۔ ان کے راستے کی صفائی شروع ہوگئی اور دیواروں چونا لگانے کے کام کا آغاز ہوگیا۔ یہ ڈرامہ بازی اس جائے واردات پر ہوائی جہاں بھگوان داس نامی چشم دید گواہ نے ایک نرس کو دیکھا تھا جبکہ وہ ٹیوب کو دیا سلائی جلا کر جوڑ رہی تھی۔ جہاں آکسیجن کنسنٹریٹر کی دیکھ بھال کا مناسب اہتمام نہیں تھا اور آگ بجھانے والے آلات کی عمر چار سال قبل ختم ہوچکی تھی۔
جھانسی کے اسپتال میں آگ کے لگنے سے آنے والی تباہی کی خاطر پوری طرح یوگی سرکار کی نااہلی ذمہ دار ہے۔ جذباتی نعرے لگا کر عوام کے جذبات کو بھڑکا کر ان کے ووٹ مارلینا الگ فن ہے اور عوامی مسائل کو حل کرنا بالکل مختلف کام ہے۔ یوگی کو اگر اس ناہلی کی سزا سنا کر ریاست کے عوام انہیں ضمنی انتخاب میں ناکام کردیا تواس کا فائدہ اٹھا کر شاہ جی ان کی چھٹی کردیں گے۔ اسی کے ساتھ کیشو پرشاد بھی انہیں اتنے لمبے عرصے تک وزیر اعلیٰ کے عہدے سے دور رکھنے کا انتقام لے لیں گے۔ ایسے میں سڑک کے کنارے کی رنگائی پوتائی سے وہ سارے عیوب نہیں چھپیں گے ؟ آگ کے حوالے سے یوگی سرکار کی سست روی پر حفیظ میرٹھی کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
پاسباں آنکھیں ملے انگڑائی لے آواز دے
اتنے عرصے میں تو اپنا کام کر جاتی ہے آگ
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...