Skip to content
مہاراشٹرکے انتخابی نتائج،حزب اختلاف کرےاحتساب
ازقلم: جاوید جمال الدین
مہاراشٹر اسمبلی کی 288،نشستوں کے انتخابات حیرت کن ہیں اور جو ذہنوں میں پہلے سے سوچ رکھا تھا، اگر اُس سے بر خلاف کچھ ہوتو ظاہر ہے ،وہ عجیب محسوس ہوتا ہے ۔ ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے ساتھ ہی ایک دیڑھ گھنٹے میں جورحجانات سامنے آنے شروع ہوئے انہوں نے حزب اختلاف اور اس کے حامیوں کے ہوش اڑادیئے۔واضح رہے کہ 288 حلقوں میں ایک ہی مرحلے میں 20نومبر کوووٹنگ ہوئی تھی اور الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیاکہ ریاست میں تین عشرے بعد ریکارڈ 65 فیصد سے زائد ووٹ ڈالے گئے ۔اچانک ووٹنگ فیصد میں اضافہ بھی شک وشبہات پیدا کرتا ہے۔ مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کی کمزوری اور سستی نے کیا کچھ کر دیا،اس پربعد میں بات کریں گے،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی کی انتخابی مہم میں فرقہ وارانہ خطوط پر پولرائزیشن نے بھی مہا وکاس اگھاڑی کو نقصان پہنچایا۔ آر ایس ایس نے پوری طرح مہا یوتی کے لئے کام کیا،ایم وی اے اس نظریہ کا مؤثر جواب دینے اور عوام کو متبادل نظریہ پیش کرنے میں ناکام رہا۔کئی علمائے کرام کی تنظیموں اور ایک عالم دین سجاد نعمانی انتخابی دنگل میں باقاعدہ کود پڑے اور یہیں سے ‘ووٹ جہاد’ کے بی جے پی کے نعرے کو تقویت ملی،نائب وزیراعلی دیویندر فڈنویس نےموصوف کے اعلان کے بعد ہر انتخابی جلسہ میں ان کے بیانات سناکر رائے دہندگان کو اکسایااور اُس میں انہیں کامیابی نصیب ہوئی ہے۔یہاں بھی احتساب کی ضرورت ہے۔
مہاراشٹر میں اصل مقابلہ مہایوتی اور مہاوکاس اگھاڑی کے درمیان رہا۔مہایوتی میں بی جے پی، شیو سینا(شندے) اور این سی پی(اجیت پوار) شامل ہیں، جبکہ مہاوکاس اگھاڑی میں کانگریس، این سی پی (شرد پوار) اور شیو سینا (ادھویعنی یو بی ٹی) شامل ہیں۔ ریاست میں اس وقت مہایوتی حکومت تھی جوکہ 2022 میں شیوسینا اور این سی پی میں بغاوت کرواکر راتوں رات قائم کی گئی تھی اور جس کی قیادت شیوسینا لیڈر ایکناتھ شندے کر رہے تھے۔ دیویندر فڑنویس اور اجیت پوار ان کی حکومت میں نائب وزراعلی کے عہدے پر فائز رہے۔حالانکہ بی جے پی سب سے بڑی پارٹی تھی،لیکن مرکزی لیڈرشپ کے کہنے پر وہ آخری وقت میں مجبوری میں نائب وزیراعلی بن گئے۔کچھ عرصہ مایوسی کابھی شکاررہے۔
مہاراشٹر میں،2022 میں 288 رکنی اسمبلی میں صرف 40 ایم ایل اے کے ساتھ ایکناتھ شندے نے ریاست کا وزیر اعلیٰ بن کرعوام کو چونکا دیا۔یہ سیاسی ہلچل نہ صرف شیو سینا کی تاریخ کی سب سے سنگین بغاوت تھی بلکہ پارٹی کی تقسیم اور ٹھاکرے خاندان کو بے دخل کرنے کا باعث بھی بنی۔تین دہائی قبل چھگن بھجبل کی قیادت میں پہلی بار ایک بڑی بغاوت ہوئی تھی،لیکن شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کی مضبوط قیادت کی وجہ سے پارٹی کی جڑیں مضبوط رہیں،لیکن اس بار الگ نظارہ رہااور یہ حقیقت ہے کہ تیس برسوں میں سیاست کاانداز بدل گیا بلکہ ملک میں دس برس میں بی جے پی نے طریقہ کار کو بدل کر رکھ دیا۔
ایکناتھ شندے کئی دہائیوں قبل تھانے میں ایک آٹو رکشا ڈرائیورتھے اور ان کا مہاراشٹر کی سیاست کے عروج تک کا سفر بڑالچکدارہا ہے۔شندے کی زندگی کا آغاز تھانے کے ایک معمولی مراٹھی اکثریتی علاقے کسان نگرستارا میں ہوا۔ غربت کے ساتھ جدوجہد کرنے والے خاندان میں پیدا ہوئے، شندے کو مالی مشکلات کی وجہ سے درمیان میں ہی اسکول چھوڑنا پڑا۔ اپنےخاندان کی کفالت کے لیے، انہوں نے ایک مزدور اور بعد میں آٹورکشا ڈرائیور کے طور پر کام کیا۔ ایک آٹورکشا ڈرائیور کے طور پر تھانے کی سڑکوں کے بارے میں شندے کا گہرا علم بعد میں علامتی طور پر سیاست کی پیچیدہ گلیوں میں گھومنے پھرنے کی ان کی صلاحیت کا آئینہ دار ہوگیا۔شندے کا سیاسی سفر آنند دیگے کی سرپرستی میں شروع ہوا، جو تھانے میں شیوسینا کے ایک قابل احترام رہنما تھے۔ اپنے زبردست اثر و رسوخ اور بے خوفی کے لیے انہیں جانا جاتاتھا۔ دیگے نے ایک مقامی تنازعہ پر ایک میٹنگ کے دوران شندے کی قائدانہ صلاحیت کو تسلیم کیا۔انہوں نے شندے کو شیو سینا کے ایک شاخ کے سربراہ کا چیلنجنگ کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا، اور اسے ان خطرات اور تنازعات کے بارے میں خبردار کیا جو اس دوران میں پیش نے تھے۔2010 میں دوبچوں کی حادثاتی موت نے انہیں ہلاکر رکھ دیا ،اور میں کنارہ کش ہوگئے ،لیکن دیگھے نے انہیں دوسروں کی خدمت کرکے غم کوبانٹنے کی نصیحت کی اور پھر انہیں حوصلہ ملااور ایک سیاسی طاقت بن گئے اور اس کا صلہ انہیں 2022 میں مل گیا۔
اگر جائزہ لیں تو کانگریس کی قیادت میں مہا وکاس اگھاڑی( ایم وی اے) کی شکست کے کئی اسباب ہیں اور ان کے لیے سبق بھی ہے اور انہیں خاص طور پر کانگریس کو احتساب کی ضرورت ہے،اس پر سر جوڑ کر بیٹھنے کی بھی ضرورت ہے۔
ویسے تو حالیہ انتخابی شکست کے پیچھے کئی اہم عوامل ووجوہات کارفرما ہیں۔مگر بہت زیادہ خود اعتمادی اور لوک سبھا انتخابات کی کامیابی سے پیدا ہونے والی خوش فہمی اہم ترین وجہ ہے۔ان نتائج نے یہ پیغام دیا ہے کہ ایم وی اے کو تنظیمی سطح پر ایک حکمت عملی تیار کرنے ،لوک سبھا الیکشن کی طرح عوام سے جڑے رہنے، اور ایک عام ورکراور سب کو ساتھ لینےپر توجہ دینے کی ضرورت تھی۔جبکہ معمولی اثر رکھنے والے اتحادیوں کو نظر انداز کرنے کابھی بھاری نقصان اٹھانا پڑاہے۔ایم وی اے نے پسماندہ طبقات اور اقلیتی فرقے کو اعتماد میں لینے کی ذرہ برابر کوشش نہیں کی۔لوک سبھا میں ایک بھی مسلم امیدوار نظر نہیں آتا ہے ۔یہ ناراضگی اور عدم شمولیت کا اثر ووٹ بینک پر نظر آیا۔ ان طبقات سے دوری کی وجہ سے کئی حلقوں میں ووٹوں کی تقسیم ہوئی، جس نے بی جے پی اور مہا یوتی کو فائدہ پہنچایا۔
ایم وی اے کے ایک ایک حلقہ میں ٹکٹ کے لیے ٹکراؤ رہا۔ بہت سے حلقوں میں غیرمقبول امیدواروں کو ٹکٹ دیاگیا، خود بڑے لیڈروں کے درمیان تال میل کی کمی واضح طور پر نظرآرہی ہےایسے بھی الزامات سامنے آئے کہ بعض حلقوں میں ٹکٹ فروخت کیے گئے یا پارٹی نے ایسے لوگوں کو میدان میں اتارا جو عوام کے مسائل سے بے خبر تھے۔ اس کے برعکس، بی جے پی اور مہا یوتی نے انتخابی حلقوں کی گہرائی سے جانچ کرکے مضبوط امیدوار کھڑے کیے۔
لوک سبھا انتخابات کے بہتر نتائج کے بعد مہا وکاس اگھاڑی خوش فہمی اور خود اعتمادی کی کیفیت میں مبتلا ہوگئی۔ یہ اتحاد سمجھنے میں ناکام رہا کہ اسمبلی انتخابات کا زمینی حقائق اور عوامی مزاج سے زیادہ گہرا تعلق ہوتا ہے۔ بہت سی جگہوں پر کم ووٹوں کے فرق سے شکست اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اتحاد نے اپنی انتخابی مہم میں کوتاہی برتی۔
بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے گراس روٹ لیول پر عوام سے جڑنے اور ان کے مسائل کو سننے پر خصوصی توجہ دی، جبکہ ایم وی اے نے عوامی رابطے میں کمی رکھی۔ انتخابی مہم کے دوران صرف جلسے اور تقاریر کافی نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کے ساتھ مستقل رابطہ، ان کے مسائل کا حل نکالنا چاہئیے۔کانگریس، این سی پی(پوار) اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے اندرونی تنازعات اور باہمی عدم اعتماد نے مہا یوتی کے سامنے اتحاد کی طاقت کو کمزور کیا۔جیسے پہلے ذکر کیاگیا ہے کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے میڈیا کے ذریعے زبردست تشہیری مہمات چلائیں، جن میں ان کے ترقیاتی کاموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں ایم وی اے کی کمزوری نمایاں نظرآئی۔اب ضروری ہے کہ مہا وکاس اگھاڑی کو اپنی پالیسیوں اور حکمت عملی کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔ عوامی رابطہ بڑھانے، مضبوط امیدواروں کا انتخاب کرنے اور انہیں اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔
ایم وی اے اور خصوصاً کانگریس کو چاہئیے کہ زمینی لوگوں کو نظر انداز نہ کرے اور پارٹی کے ورکرس کو چاہئیے کہ وہ زمین سے جڑے رہنے کی حکمت عملی سے سبق سیکھیں، چند مہینے اور پیسے کے زور پر اسٹیج پر ہی بیٹھنے کی نہ سوچیں۔پہلے تنظیم کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں ۔مہاراشٹرکے نتائج پرحزب اختلاف اور خصوصی طورپر کانگریس پارٹی لیڈرشپ سنجیدگی سے غور کرے۔ پچھلے پانچ برسوں نے انکشاف کیا ہے کہ مہاراشٹر کی سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے،جو عقل کے خلاف ہو۔ان تمام عوامل کے ساتھ ساتھ اس الیکشن میں ‘لاڈکی بہینا’ اسکیم اور کچھ ترقیاتی منصوبوں نے بھی زبردست کام کیاہے،جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام ایک مستحکم حکومت کے حق میں نظرآئے۔میں بھی صحافی اتوشوس سے متفق ہوں کہ اگرآپ مشین میں کہیں گڑبڑمحسوس کرتےہیں، تو آپ
‘ ای وی ایم ‘پر انگلی اٹھاتے ہیں تواُس کے بعد بطوراحتجاج دوسرا الیکشن نہ لڑیں۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...