Skip to content
مہاراشٹر اور جھارکھنڈ: انتخابی نتائج کے فرق کا معروضی جائزہ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مہاراشٹر کے اندر زبردست کامیابی درج کرانے والی بی جے پی جھارکھنڈ میں بری طرح ہار گئی۔ اس کے پس پشت جو دو عوامل کارفرما ہیں ان میں سے ایک کا تعلق حکمت عملی سے ہے اور دوسرا عملی رویہ سے متعلق ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جانتی ہے کہ انتخابی کامیابی کے لیے اقتدار کا ہاتھوں میں رہنا بے حد ضروری ہے۔ اتفاق سے ان دونوں صوبوں حزب اختلاف کی حکومتیں تھیں اس لیے ان کو بے دخل کرنے کے لیے ریشہ دوانیوں کا آغاز بہت پہلے ہوگیا ۔ مہاراشٹر کے اندر ایسا کرنے کی خاطر سب سے پہلے انیل دیشمکھ کو جیل بھیجا گیا اور پھر سنجے راوت کو گرفتار کیا گیا۔ بی جے پی والے یہ سوچ رہے تھے کہ اس سے ڈر کر شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے سپر ڈال دیں گے مگر وہ حربہ ناکام ہوا۔ اس کے بعد ایکناتھ شندے کو بلیک میل کرنے کے ساتھ وزارت اعلیٰ کا لالچ دیا گیا اور یہی قدم بی جے پی کے لیے ماسٹر اسٹروک بن گیا ۔ جھارکھنڈ میں ہیمنت سورین کو بھی ڈرایا دھمکایا گیا مگر وہ نہیں ڈرے۔ بی جے پی کے پاس ان کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا کیونکہ وہ پہلے سے وزیر اعلیٰ تھے اس لیے جیل بھیج دیا گیا ۔ یہ بی جے پی کی سب سے بڑی غلطی تھی جس کی بہت بڑی قیمت اسے چکانی پڑی ۔
مہاراشٹر کے اندر بی جے پی نے اپنے سےکم ارکان اسمبلی کی جماعت کے رہنما کو وزیر اعلیٰ کا عہدہ سونپ کر جس ایثار و تحمل کا مظاہرہ کیا جھارکھنڈ میں نہیں کرسکی ۔و ہاں پر صبرواحتیاط کے بجائے جبر و رعونت غالب آگئی اور اس نے سارا کھیل بگاڑ دیا۔ کسی پارٹی کے لوگوں سے اقتدار کا چھن جانا ان کو غم وغصے کا شکار کرتا ہے ۔ اسی لیے بی جے پی نے 105؍ ارکان اسمبلی کے رہنما دیویندر فڈنویس کو نائب وزیر اعلیٰ اور 40؍ باغی ارکان کے لیڈر ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز کیا۔ کسی بھی سیاسی جماعت سے اس کے ارکان اسمبلی سمیت پارٹی نشان تک کو چرا لینا کارکنان کی دلآزاری کرتا ہے ان کی دلجوئی کے لیے شیوسینک کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا ۔ ایسا کرنے سے شیوسینکوں کو محسوس ہوا کہ اقتدار کی تبدیلی کے باوجود وہی حاکم ہیں ۔ اس طرح احساسِ محرومی کو کم کرکے یہ پیغام دیا گیا کہ بی جے پی کوئی شیوسینا کی دشمن نہیں ہے بلکہ ان کے اصل نظریہ ہندوتوا کی محافظ ہے ۔ اس نے اقتدار کی خاطر نظریہ پامال کرنے والےادھو کو سزا دی ہے۔ اس طرح ایکناتھ شندے کی غداری کو ڈھانپ دیا گیا ۔
شیوسینکوں کے دل میں بال ٹھاکرے کے سبب ادھو کے تئیں عقیدت ہے اس لیے بی جے پی نےسنجے راوت پر ہاتھ ڈال کر دباو تو بنایا گیا مگر براہِ راست ادھو ٹھاکرے کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ اس طرح ادھو ٹھاکرے کو ممکنہ ہمدردی کے حصول سے محروم رکھنے کی کا میاب کوشش کی گئی ۔ انیل دیشمکھ کے ذریعہ ادیتیہ ٹھاکرے کو پھنسانے کی جو سازش رچی گئی تھی اگر وہ کامیاب ہوجاتی نیز انہیں قتل کے جھوٹے الزام میں گرفتار کرلیا جاتا تو اس کا شدید ردعمل ہوتا اور آج بی جے پی کو یہ کامیابی نہیں ملتی۔ ایکناتھ شندے کے لیے بھی اس کے بعد شیوسینکوں میں جانا مشکل ہوجاتا ۔جھارکھنڈ میں یہی احتیاط ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔ وہاں ہیمنت سورین کی گرفتاری عمل میں آئی۔ اس سے نہ صرف جھارکھنڈ مکتی مورچہ بلکہ پورے آدیباسی سماج نے بی جے پی کو اپنا دشمن سمجھ لیا ۔ اس کے اثرات دو مرتبہ ظاہر ہوئے۔ پہلے تو پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی قبائلیوں کے لیے مختص ساری نشستیں ہار گئی اور پھر اسمبلی انتخاب میں ایک آدھ کو چھوڑ آدیباسی علاقہ میں اسے کوئی کامیابی نہیں ملی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیار سے تو عوام کو بیوقوف بنایا جاسکتا ہے مگر مار کر ایسا کرنا ممکن نہیں ہےبلکہ الٹا نتیجہ نکلتا ہے۔
حکمتِ عملی کے لحاظ سے دیکھیں تو جھارکھنڈ میں قبائلی سماج کو بنگلا دیشیوں کی آڑ میں مسلمانوں سے ڈرانے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے برعکس مہاراشٹر میں ہندو او بی سی سماج کو مراٹھوں سے خوفزدہ کیا گیا۔ مراٹھوں کا معاملہ حقیقت سے قریب تر تھا کیونکہ او بی سی سماج روزمرہ کی زندگی میں ان کی بدسلوکی کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ مسلمانوں کا خوف خیالی تھا ۔ اس لیے مہاراشٹر میں ہندووں کو ایک کو دوسرے ڈراکر اپنا کام نکالنے کا حربہ کامیاب رہا مگر جھارکھنڈ میں مسلمانوں کے خطرے سے خوفزہ کرکے خود کو محافظ بناکر پیش کرنا کام نہ آیا ۔ جھارکھنڈ میں براہِ راست مسلمانوں کا نام لینے کے بجائے بنگلا دیشی دراندازوں کو شوشا چھوڑا گیا جو پوری طرح الٹا پڑگیا ۔ جھارکھنڈ اور بنگلادیش کے درمیان مشترک سرحد نہیں ہے ۔ سرحد پر بنگلا دیشیوں کو روکنا ریاستی حکومت کی نہیں بلکہ مرکزی سرکار کی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں اگر امیت شاہ یہ الزام لگائیں کہ بنگلادیشی آرہے ہیں یا لائے جارہے ہیں تو وہ خودان کے خلاف چلا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی کیوں کررہے ہیں؟
کسی مسکین بنگلا دیشی کو اگر جھارکھنڈ آنے کی مجبوری لاحق ہوجائے تو اسے وہاں آنے کے لیے مغربی بنگال یا آسام سے ہوکر آنا پڑتاہے ۔ ان ریاستوں سے آنے والوں کو روکنا جھارکھنڈ کی حکومت کے لیے ناممکن ہے۔ یہ بات اگر ہیمنت سورین کے بس میں ہوتی تو سب سے پہلے وہ آسام کے بدزبان وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کو اپنی ریاست میں آنے سے روک دیتے ۔ بی جے پی کی دوسری بڑی غلطی ہیمنتا بسوا سرما کے ہاتھوں میں انتخابی مہم کی کمان دینا تھا۔ وہ جب گھس پیٹھیوں کی بات کرتے تھے تو عوام کو خود ان کے اندر ایک گھس پیٹھیا نظر آتا تھا ۔ ہیمنتا بسوا سرما نے اپنی بدزبانی سے عام لوگوں کے ساتھ خود بی جے پی کے کارکنان کو بھی ناراض کیا ۔ انہیں احساس ہوا کہ پارٹی کا ان پر اعتماد نہیں ہے۔ وہ ان کو نااہل سمجھتی ہے اس لیے باہر سے لاکر ایک غیر جھارکھنڈی کو ان پر مسلط کردیا گیا۔ اس لیے ہیمنتا بسوا سرما نے بی جے پی کو ہیمنت سورین سے کم نقصان نہیں پہنچایا۔
بی جے پی کی فرقہ پرستی کے مقابلے انڈیا محاذ نے قبائلی تشخص و وقار کو انتخابی مدعا بنایا ۔ اس میں بھی ہیمنتا بسوا سرما کی آمد نے بڑا تعاون کیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی یا امیت شاہ کا بربنائے عہدہ کسی ایک صوبے سے تعلق نہیں بلکہ پورے ملک سے ہے اس لیے ان کی آمد کو گوارہ کرنا تو عوام کی مجبوری ہے لیکن آسام کے وزیر اعلیٰ کا جھارکھنڈ میں کیا کام ؟ اس سوال کا ذہن میں آنا فطری امر ہے۔ ۔ ہیمنتا بسوا روزمرہ کی سرگرمیوں میں اس قدر ملوث ہوگئے تھے کہ جب چھوٹے موٹے امیدوار پرچۂ نامزدگی داخل کرنے کے لیے جاتے تو وہ بھی پہنچ جاتے لیکن بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ بابو لال مرانڈی کے ساتھ نہیں گئے۔ ویسے بھی بی جے پی کے آدیباسیوں کو بی جے پی سے ایک تلخ تجربہ ہوچکا ہے جب دس سال قبل ان پر اڑیشہ کے رہنے والے غیر قبائلی رگھوبر داس کو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے تھوپ دیا گیا تھا۔ وہ اس قدر غیر مقبول وزیر اعلیٰ تھا کہ پانچ سال حکومت کرنے کے بعد خود اپنی نشست نہیں بچا سکا اور فی الحال اڑیشہ کا گورنر بنا ہوا ہے۔
ہیمنت سورین کو ہٹاکر جیل بھیجنے کے سبب بھی قبائلی لوگ مرکزی حکومت کو اپنا دشمن سمجھنے لگے تھے۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے بھی وہی بنگلادیشی ہواّ کھڑا کیا ۔ امیت شاہ نے تو صرف این آر سی تک کی بات کہی مگر مودی جی اسے ’روٹی ، بیٹی اور ماٹی‘ تک لے گئے۔ یہ نعرہ الٹا پڑگیا کیونکہ ایک طرف مہاراشٹر کی لاڈلی بہنا کی مانند ہیمنت سورین بھی خواتین کو سرکاری خزانے سے روپیہ تقسیم کرکے روٹی بنانے کے اناج فراہم کررہے تھے بلکہ گیس سلنڈر بھی مہیا کیا جارہا تھا۔ خواتین کے بس کے سفر کو مفت کردیا گیا تھا ۔ روٹی کے بعد بیٹی کی جانب اشارہ کرکے لوجہاد کا شوشا چھوڑنے کی کوشش کی گئی تو خوددار قبائلیوں نے اسے اپنی بیٹیوں کی تذلیل و توہین سمجھا اور بگڑ گئے۔ قبائلی سماج کے لوگ جنگل اور زمین کی پرستش کرتے ہیں۔ ان سے یہ کہنا کہ کوئی ان سے زمین چھین رہا ہے مضحکہ خیز بات تھی۔ اس لیے در اندازی کا فارمولا الٹ گیا۔ اس پر یہ سوال کہ حسینہ واجد کو پناہ دینے والےاور جھارکھنڈ میں بجلی بناکر بنگلا دیش بھیجنے والے اڈانی کے سرپرست اگر پڑوسی ملک سے عوام کو ڈرائیں تو ڈرنے کے بجائے ہنسیں گے نہیں تو کیا کریں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے مرحلے کی پولنگ سے قبل ۷؍ ریلیاں کیں اور ان میں ۴۰ حلقہ ہائے انتخاب کے رائے دہندگان شریک تھے۔ ان میں سے صرف ۹؍مقامات پر بی جے پی کو کامیابی ملی یعنی ان کا اسٹرائیک ریٹ صرف ۲۲ ؍ فیصد رہا جو شرمناک ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات ثبوت ہے کہ اب مودی جی کا جادو فیل ہوچکا ہے۔ یہ بات وہ خود سمجھ گئے اور پہلے مرحلے کے بعد جھارکھنڈ جانے کے بجائے غیر ملکی دورے پر نکل گئے۔ خیر ان سارے عوامل کی بناء پر جھارکھنڈ میں بی جے پی چاروں خانے چت ہوگئی۔ مہاراشٹر میں اس طرح کی حماقتوں سے اجتناب اور شیوسینکوں کے احساسات و جذبات کا پاس و لحاظ نیز مراٹھوں کو ساتھ رکھنے کے لیے ایکناتھ شندے اور اجیت پوار کا بہترین استعمال کام آگیا۔ خیر اس ہارجیت کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہندووں کو مسلمانوں سے لڑانے کے بجائے انہیں آپس میں لڑانا بی جے پی کے لیےسیاسی اعتبار سے مفید تر ہے۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...