Skip to content
سنبھل کے واقعات افسوس ناک ہیں۔
ازقلم: شیخ سلیم
سنبھل میں سینکڑوں سال پرانی جامع مسجد کے اچانک سروے کا عدالتی حکم اور اس کا فوری نفاذ ایک ایسا افسوسناک واقعہ ہے جس نے علاقے کے حساس ماحول کو خراب کر دیا۔ یہ قدم 1991 کے مذہبی مقامات ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت 15 اگست 1947 سے پہلے موجود عبادت گاہوں کی حالت کو جوں کا توں برقرار رکھنے کی ضمانت دی گئی تھی۔ اس قانون کا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا تھا، لیکن حالیہ سروے اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہے۔ یہ نہ صرف قانون کی توہین ہے بلکہ سماج میں تفریق اور خوف و ہراس کو بڑھانے کی ایک سوچی سمجھی سازش بھی لگتی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں، جہاں کہیں بھی اقتدار میں ہیں، اس قسم کے اقدامات کے ذریعے فرقہ وارانہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انتظامیہ کی مدد سے حساس مسائل کو ہوا دی جاتی ہے۔ آج کل کچھ افراد کے ذریعے مساجد کا سروے کروانے کی مانگ کی جاتی ہے ، پھر عدالتوں سے اِجازت نامے حاصل کیے جاتے ہیں۔
عوام کی توجہ تعلیم، صحت، بیروزگاری اور کسانوں جیسے حقیقی مسائل سے ہٹائی جا سکے۔ سنبھل جیسے واقعات کا مقصد صاف ہے سماج کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنا اور انتخابات میں فائدہ اٹھانا۔
یہ کوئی اتفاق نہیں کہ حالیہ فائرنگ کے نتیجے میں پانچ مسلمانوں کی شہادت کی خبر سامنے آئی ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ پولیس فائرنگ میں زیادہ تر مسلمان ہی ہلاک ہوتے ہیں، اور فسادات کے دوران بھی زیادہ تر گرفتاریاں مسلمانوں کی ہی کی جاتی ہیں۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے، جس پر فوری طور پر نہ صرف توجہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھانے کی بھی ضرورت ہے۔
سیاسی جماعتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس نفرت کی سیاست کے خلاف کھڑے ہوں۔ خاص طور پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو سنبھل کے اس واقعے کو پارلیمنٹ میں اٹھانا چاہیے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ یہ معاملہ صرف ایک شہر یا ایک طبقے کا نہیں، بلکہ پورے ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ نفرت پھیلانے کی کوشش اور سازش ہے جو سماج کے تانے بانے بکھیر دیگا۔ نفرت سے سماج کو صرف اور صرف نقصان ہوگا۔
سپریم کورٹ کو بھی ایسے معاملات میں فوری مداخلت کرنی چاہیے تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی طبقے کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ عدالت کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ مذہبی مقامات کے سروے اور پولیس کے متعصبانہ رویے جیسے معاملات ملک کی یکجہتی اور امن کے لیے کتنے نقصان دہ ہیں۔
ان سب کے زریعے ملک کے اصل مسائل، جیسے کہ تعلیم کی بدحالی، صحت کے ناقص نظام، بیروزگاری کی بڑھتی شرح، اور کسانوں کے مسائل، مسلسل نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کی تمام تر توجہ نفرت کی سیاست کو ہوا دینے اور سماج میں تقسیم پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔ یہ وقت ہے کہ عوام ان سازشوں کو سمجھیں اور ان عناصر کو مسترد کریں جو نفرت کا بیوپار کر رہے ہیں۔
سنبھل کے واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ نفرت کی سیاست ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بچانا، تعلیم اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانا، اور کسانوں و مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی نفرت اور تفریق کی سیاست کے خلاف کھڑے ہونے میں تاخیر کی، تو اس کا نقصان پورے ملک کو بھگتنا پڑے گا۔
Post Views: 18
Like this:
Like Loading...