Skip to content
مودی کے ایوارڈز اور اڈانی کا وارنٹ
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم کا یہ معمول ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران خوب محنت کرتے ہیں ۔ پولنگ کے دن کسی مندر وغیرہ میں بیٹھ کر اپنی تصویریں نشر کرواتے ہیں اور پھر آرام کرنے کے لیے غیر ملکی دورے پر نکل جاتے ہیں ۔ اس بار مہاراشٹر نہ سہی جہاں کے لوگ ان سے بیزار تھے جھارکھنڈ میں موصوف نے خوب محنت کی۔ اتر پردیش نہیں گئے کیونکہ وہ خود چاہتے ہیں بی جے پی کےامیدوار ہار جائیں ۔ ان کی ہار سے سرکار تو نہیں گرے گی مگر وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ کو گراکر ان سے چھٹکارہ پانا آسان ہوجائے گا ۔ غیر ملکی دورے کی بات آئی تو یہ ایک حقیقت ہے کہ روس کے دورے نے یوروپی ممالک کو ان سے ناراض کردیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ کبھی ہندوستانی برآمدات کو روکتا ہےتو کبھی ہندوستانیوں کو بھگاتا ہے۔ کینیڈا تو ہاتھ دھو کر پیچھے پڑا ہوا ہے ۔ مشرق و سطیٰ جاو اسرائیل کی مذمت کرنی پڑتی ہے۔ ایسا کرنے سے نیتن یاہو سمیت اندھے بھگت بھی ناراض ہوجاتے ہیں۔ پڑوس میں ایسا ایک ملک نہیں ہے جو مودی اور اڈانی سے ناراض نہ ہو ایسے میں ’جائیں تو جائیں کہاں؟‘ اس سوال کے جواب میں حواریوں نے کیریبین ممالک کی ایک کانفرنس ڈھونڈ نکالی اور اس میں مودی جی مہمان کے طور پر پہنچ گئے جیسے پچھلے سال نائیجیریا جیسے غیر اہم ملک کو جی ٹوئینٹی میں مبصر کے طور پربلا لیا گیا تھا ۔
وزیر اعظم کو برازیل کے اندر جی ٹوئینٹی اجلاس میں جانے کے لیے درمیان میں کہیں رک کر آرام کرنا تھا اس لیے نائیجیریا کا انتخاب کیا گیا تاکہ ایک غیر ملکی دورکے کی آڑ میں جی ٹوئینٹی کےاحسان کا بدلہ بھی وصول ہو جائے ۔ اس کے ساتھ موقع کا فائدہ اٹھا کروفاقی جمہوریہ نائیجیر کے صدر، احمد ٹینوبو کے ہاتھوں سے ’’گرینڈ کمانڈر آف دی آرڈر آف نائجر‘‘ کا ایوارڈ بھی لے لیا گیا ۔ بس پھر کیا تھا گودی میڈیا نے ایسا شور مچانا شروع کیا کہ گویا پورا افریقہ فتح ہوگیا حالانکہ اس کے صرف دو دن بعد کینیا نے اپنے ملک سے اڈانی کو بے آبرو کرکے نکال باہر کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور گوتم اڈانی چونکہ ایک جان دو قالب ہیں اس لیے ایک کا کھوٹ دوسرے کی چوٹ بن جاتا ہے۔ نائیجیریا کوئی بہت بڑا ملک نہیں ہے ۔ اس کی کل آبادی مودی جی کرم بھومی یعنی اترپردیش کے برابر ہے اور جی ڈی پی میں بھی اس کا نمبر 53؍ واں ہے۔
گودی میڈیا نے وزیر اعظم کے اعزاز کی بابت بتایا گیا کہ 1969 کے بعد اس اعزاز سے نوازے جانے والے وہ پہلے غیر ملکی رہنما ہیں ۔سچائی یہ ہے کہ مودی سے پہلے ملکہ الزبتھ دوم کویہ ایوارڈ دیا گیا تھالیکن مودی اور ان کے بھگتوں کو اپنی ہر حصولیابی کے ساتھ پہلا نمبر لگانے کی بیماری ہے اس لیے ایسا احمقانہ دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ ا س اعزاز نے مودی جی کے تمغوں کی تعداد 18؍ تک پہنچا دی لیکن وہ چاہتے تھے کہ کم از کم ایک ساتھ پہلے والی عرفیت لگ جائے تو انہوں نے ایک انوکھا تماشا کیا ۔ نائیجیریا سے برازیل ہوتے ہوئے وہ گیانا پہنچے ۔ وہاں پر انہوں نے ایک دن میں دو عدد ایوارڈس حاصل کرکے ورلڈ ریکارڈ بناکر اندھے بھگت بچوں کی طرح اچھل اچھل کر تالیاں بجانے موقع عنایت کردیاکیونکہ مودی جی نے کم از کم ایک کام تو ایسا کیا جو ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا یعنی ایک اعزاز کے ساتھ دوسرا ایوارڈ فری میں لے آئے ۔
عام طور یہ سب بازار میں ہوتا ہے کہ جب کوئی مال بکنا بند ہوجائے اور اس کے سڑ جانے خطرہ ہوتوشاطر دوکاندار اپنے بخیل گاہکوں کو بیوقوف بناکر اپنی جیب بھر لیتا ہے ۔ احمق گاہک یا ووٹر کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ لالچ میں آکر وہ ازخود اپنا ووٹ اور نوٹ کس کی جھولی میں ڈال رہا ہے ۔ ویسے ہر سرکار چاہتی ہے کہ ملک کے رائے دہندگان احمق رہیں تاکہ ان کو بیوقوف بنانے میں زیادہ محنت نہ کرنی پڑے ۔ اپنے سہ روزہ دورے میں اس بار مودی جی نے تین تمغے حاصل کیے یعنی اوسطاً فی دن ایک لحاظ سے انہیں کامیابی ملی ۔ گیانا اور باربڈوس کے عظیم اعزازات کے ساتھ انہیں ملنے والے بین الاقوامی ایوارڈز کی کل تعداد 20 ہو گئی ۔ اگلے سال اپریل تک اگر وہ بھوٹان جیسے نامعلوم ممالک کے مزید 2؍ ایوارڈ حاصل کرلیں تو سالانہ اوسط دو ہوجائے گا جو برا نہیں ہے ۔
یہ حسن اتفاق ہے کہ اپنے ملک میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے ، ان کو لباس سے پہچاننے کا دعویٰ کرنے والے، انہیں درانداز کہہ کر منگل سوتر تک چھن جانے کا خوف دلانے والے ، ان کی اوقاف پر نگاہِ غلط رکھنے والے اور ان کے پرسنل لاء کو ختم کرکے یکساں سیول کوڈ لانے کی دھمکی دینے والے مودی کو اعزاز حاصل کرنے کی خاطر کبھی تو نائیجیریا کے احمد ٹینوبو کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے تو کبھی گیانا کے صدر ڈاکٹر محمد عرفان علی کے سامنے سرجھکانا پڑتا ہے ۔گیانا کے اعلیٰ ترین قومی اعزاز حاصل کرنے والے مودی چوتھے غیر ملکی رہنما ہیں۔ صدر عرفان علی نے اس موقع پر غربت کو کم کرنے اورقربت کو بڑھانے پر زور دیا نیز وزیر اعظم نریندر مودی نے ‘آرڈر آف ایکسیلنس’ ایوارڈ کو نہ صرف ا ن کا بلکہ ہندوستان کے 140 کروڑ لوگوں کا اعزاز قرار دیا ۔
اس تعریف و توصیف کو پڑھنے ، سننے اور موبائیل پر دیکھنے کے بعد یہ تجسس پیدا ہواکہ کیوں نہ مودی جی کی زندگی میں چار چاند لگانے والے ملک بابت بھی کچھ معلومات حاصل کی جائے۔ اس کوشش میں ایسے دلچسپ انکشافات ہوئے کہ انہیں جان مودی کر بھگتوں کو دُکھ ہوگا ۔ وہ سوچیں گے کہ وزیر اعظم مودی نے اسے حاصل کرکے اپنی عزت و توقیر بڑھانے کے بجائے گھٹائی ہے۔ گیانہ کی جملہ آبادی 8.14 لاکھ ہے۔ اس کے باوجود مودی جی اس سے بہت کچھ سیکھنا مثلاً وہاں پر 54.2% عیسائی ہیں ۔ 31.0% ہندومذہب کو مانتے ہیں جبکہ اسلام کے پیروکار صرف 7.5% ہیں نیز 4.2% تو بے دین ہیں۔ 3.1% لوگ دیگر مذاہب کو مانتے ہیں۔ وہاں باہمی احترام اور عوامی نمائندگی کا یہ عالم ہے کہ صدر مملکت عرفان علی مسلمان ، وزیر اعظم مارک فِلپ عیسائی ہیں ۔ دو نائب صدور میں سے ایک ہندو اور دوسرا عیسائی ہے۔ اس کے برعکس مودی سرکار کو پورے ملک کے پندرہ فیصد مسلمانوں میں کوئی وزیر تو دور رکن پارلیمان و اسمبلی تک نہیں ملتا ۔
وزیر اعظم نے وہاں جاکر صرف دیوالی اور ہولی منانے کی خوشی ظاہر کی ۔ رام مندر اور کمبھ میلے میں لوگوں کو آنے کی دعوت دی تو کیا ہندوستان سے جاکر گیانا میں بسنے والے سارے لوگ صرف ہندو ہیں۔ سچائی یہ ہے موصوف بیرون ملک بھی وہ اپنی تنگ نظر ی پر قابو نہیں پاسکے ؟ گیانا کے ایوارڈ پر پھولے نہیں سمانے والے مودی جی اور ان کے اندھے بھگتوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ معیشت کے لحاظ سے دنیا بھر میں اس کا 161 واں نمبر ہے۔ اس مسکین ملک میں صرف 10 غیر ملکی سفارت خانے ہیں ۔ گیانا کی جی ڈی پی 17 بلین ڈالر سے کم ہے جبکہ ایوارڈ لیتے وقت اکیلے اڈانی کی جائیداد 70بلین ڈالر سے تھوڑی سی کم تھی اور ایوارڈ کے ایک دن بعد گھٹ کر 60 سے کچھ کم ہوگئی ۔ گیانا کی حیثیت اور اور اس کے اعزاز کی یہ قدروقیمت ہے کہ جس پر مودی جی اترا رہے ہیں ۔ باربڈوس یا ڈومینیکا کی حالت بھی کوئی بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔
آر ایس ایس کے مرکز ناگپور میں ہر سال دسہرہ کے دن اسلحہ کی پوجا کی جاتی ہے۔ اس موقع پر سر سنگھ چالک( قومی سربراہ ) اپنے خطاب میں تنظیم کی حصولیابیوں کا ذکر کے مستقبل کے خطرات و لائحۂ عمل کا ذکر فرماتے ہیں ۔ امسال موہن بھاگوت نے اپنی تقریر کی ابتدا میں کہا تھا ’بھارت پچھلے کچھ سالوں میں بڑھی ہوئی ساکھ کے ساتھ دنیا میں مضبوط اور زیادہ قابل احترام بن گیا ہے لیکن مذموم سازشیں ملک کے عزم کا امتحان لے رہی ہیں‘‘۔ اس بابت بیچارے موہن بھاگوت کی کوتاہ بینی بنگلہ دیش تک محدود ہوکر رہ گئے اس لیے کہ انہیں وہاں کے ہندووں کا ذکر کرکے ملک کے اندر مسلمانوں کے تئیں نفرت پھیلانا اور مہاراشٹر کی بی جے پی کو انتخاب میں فائدہ پہنچانا تھا ۔ اس چکر میں موصوف یہ بتانا بھول گئے کہ امریکہ اور کینیڈا جیسے بڑے ممالک میں ہندوستان کا احترام بڑھ رہا ہے یا اس کی مٹی پلید ہورہی ہے ۔
موہن بھاگوت نے یہ بھی کہا تھا کہ :’ عوام، حکومت اور انتظامیہ کی وجہ سے عالمی سطح پر ملک کی شبیہ ، طاقت، شہرت اور مقام بڑھ رہا ہے‘۔ یعنی ملک وشو گرو بن رہا ہے۔اب وہ وشو میں چور اور اچکوں کا گرو بن رہا ہے یا شرفاء میں اس کا شمار ہورہا ہے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے انتخابی مہم سے فارغ ہوتے ہی وزیر اعظم نریندر مودی دنیا بھر میں گھوم گھوم کر ملک کا نام روشن کرنے کے کام میں جٹ گئے لیکن ان کے ڈوپلیکیٹ گوتم اڈانی عالمی سطح پر بدنامی بٹورکر سارا کام خراب کردیا ۔ اس کے باوجود دنیا بھر کے میڈیا میں ہندوستان کا ڈنکا بجنے سے بہت سارے شہرت پسند لوگ خوش ہیں کیونکہ ’بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا ؟‘
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...