Skip to content
سنبھل کا قاتل کون؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
سنبھل کی شاہی جامع مسجد پرپچھلے ہفتہ اچانک ضلعی عدالت میں مندر ہونے کا دعویٰ ٹھونکا گیا تو عدالت سے آناً فاناً سروے کا حکم دےدیا اور چند گھنٹوں کے اندر سروے کا کام بھی ہوگیا مگر منشاء کے مطابق دنگا فساد نہیں ہوا۔ اس ناکام سازش کو کامیاب کرنے کی خاطر دوبارہ اتوار کو سروے ٹیم مسجد پہنچ گئی اور سوچی سمجھی سازش کے تحت فساد بھڑکا کر4؍بے قصور لوگوں کی جان لے لی۔ 23؍ سالہ بلال اپنی کپڑےکی دوکان بند کر کے گھر آتے ہوئے گولی لگی ۔21؍ سالہ نعیم غازی کو اپنی دکان کا سامان لینے کے لیے جاتے ہوےگولی ماری گئی۔ 25؍ سالہ نعمان سسرال جاتے ہوئے اور 18؍ سالہ محمد کیف راستے میں شہید ہوے ۔مسجد انتظامیہ کمیٹی کے صدر ظفر علی نے مقامی پولیس اور انتظامیہ کو تشدد کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوے کہا کہ مسجد کی کھدائی کی افواہ پھیلنے سے بھیڑ مشتعل ہوئی اور حالات خراب ہوئے۔ظفر علی کو انتظامیہ ڈرا دھمکا خاموش کررہا ہے۔
ظفرعلی کے مطابق مسجد کا دوسرا سروے عدالت کی مرضی سے نہیں بلکہ ضلع مجسٹریٹ کے حکم پر ہوا تھا ۔اس غیر قانونی فعل کے لیے سنبھل کی ایس ڈی ایم وندنا مشرا اور پولیس سرکل افسر انوج کمار قصوروار ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایس ڈی ایم نے زبردستی وضو خانہ کا پانی نکلوایا، جبکہ ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈنڈے سے پانی کی گہرائی ناپنے پر راضی ہوگئے تھے۔ ایس ڈی ایم کی ضد پر حوض کا پانی نکالنے سے باہر جمع لوگوں کو غلط فہمی ہوگئی کہ مسجد میں کھدائی کی جا رہی ہے۔ اس اشتعال سے حادثہ رونما ہوا ۔ظفر علی نے یہ سنگین الزام بھی عائد کیا کہ ’’جب مسجد کے باہر بھیڑ جمع ہو رہی تھی تو پولیس سرکل افسر انوج کمار نے ان لوگوں کو گالیاں دیں اور لاٹھی چارج کروا دیا۔ اس سے افرا تفری مچ گئی۔
اس لیے فساد اور اموات کے لیے ایس ڈی ایم وندنا مشرا اور پولیس سرکل افسر انوج کمار ہی ذمہ دار ہیں ۔
سنبھل میں چونکہ گولی سے اموات ہوئی ہیں اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے وہ کس نے چلائی؟ ظفر علی کہتے ہیں کہ انہوں نے خود پولیس کو بھیڑ پر گولیاں چلاتے دیکھا ہے۔یہ بیان اس لیے درست معلوم ہوتا ہے کہ شہید ہونے والے چاروں نوجوان مسلمان ہیں۔ یہ سوچنا بعید از قیاس ہے کہ مسجد کے تحفظ میں جمع ہونے والے مسلمانوں نے خود اپنی ہی قوم کے نوجوانوں پر گولی چلائی ہو۔ ایسے میں شک کی سوئی ہندو دنگائی یا پولیس پر اٹکتی ہے۔ پولیس نے اگر گولی نہیں چلائی ہو تب بھی دنگائیوں کو آنےسے روکنا اور انہیں گرفتار کرنا بھی انتظامیہ کی ہی ذمہ داری ہے۔ سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر راجندر پنسیا نے سروے کی اجازت دینے والے بیان کی تردیدکی لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کس کے حکم پر کیا گیا؟ اس طرح تو یہ معاملہ اور بھی زیادہ تشویشناک ہوجاتا ہے۔
موصوف نے اپنی پریس کانفرنس ظفر علی پر الزام لگایا کہ انھوں نے ایک گمراہ کن بیان دیا ہے اور کہا کہ عدالت کا حکم دوپہر 2.38 بجے (24 نومبر کو) آیا اور پھر ہم شام تقریباً 5.30 بجے مسجد پہنچے جبکہ حادثہ تو صبح رونما ہوچکا تھا ۔اس لیے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش تو وہ خود کررہے ہیں۔ اس سروے کے لیے اتوار کے دن عدالت کا کھلنا اور حکمنامہ دینا بھی ناقابلِ فہم ہے کیونکہ اس میں کوئی جلدی نہیں تھی۔ ظفر علی کے بیان کی تردید میں ڈاکٹر پنساریہ پوچھتے ہیں کہ وہ سروے کرا رہےتھے یا گولی باری دیکھ رہے تھے کیونکہ دونوں ایک ہی وقت ہوئے۔ ایسے میں ایس ڈی ایم سے سوال ہے کہ کیا سروے آنکھ بند کرکے کیا جاتا ہے اور اگر اس کام کے دوران گولیوں کی آواز سنائی دے تو کیا انسان اپنے کان اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتا ہے۔ یہ کنفیوژن کھڑاکرنے والے پنساریہ نے یہ نہیں بتایا کہ آخر گولی کس نے چلائی اور کس کے ایماء پر یہ قتل و غارتگری انجام دی گئی؟
ظفر علی نےوزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے یہ گزارش کرکے انہیں دھرم سنکٹ میں ڈال دیا کہ وہ واردات میں ہلاک بے گناہ نوجوانوں کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیں۔ اس لیےکہ ایسا کرنا ان کے لیے نقصان دہ ہے نیز اس سے قبل انہیں اپنے ہی حکم پر گولی چلانے والے پولیس اہلکاروں کو سزا بھی دینی ہوگی جو ناممکن ہے۔ سرکار نے تو الٹا سنبھل سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمان ضیاء الرحمن برق اور سنبھل صدر کے رکن اسمبلی اقبال محمود کے بیٹے کے خلاف ایف آئی آر درج کروادی ہے۔ برق نے مسلم طبقہ کو نشانہ بنانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے بُرا حال آزادی کے بعد کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ سنبھل ایس پی کرشن کمار نے ضیاء الرحمن برق اور سہیل اقبال پر بھیڑ کو اکسانے کاالزام لگایا ہے جبکہ انہوں نےتوبجا طور پر اس فساد کو منصوبہ بند سازش کہا تھا۔ یہ رویہ امیر قزلباش کے اس شعر کی مصداق ہے؎
اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا
کانگریس کے پون کھیڑا نےاس فساد کو ’بنٹوگےتو کٹوگے‘ سے جوڑ کر کہا مظاہرین پر سیدھی فائرنگ بی جے پی اور آر ایس ایس کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ اس کے ذریعہ مذہبی بنیادوں پر سماج میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔پون کھیڑا نےالزام لگایا کہ انتظامیہ امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے بجائے بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایجنڈا کو عملی جامہ پہناکرسماج کو تقسیم کررہا ہے۔ وہ بولے سنبھل میں رونماہونے والے انتہائی حساس اور سنگین واقعات سے ظاہر ہوتاہے کہ یوگی راج میں اتر پردیش کا کوئی بھی شہری ’سیف‘ یعنی محفوظ نہیں ہے۔ کھیڑا کے مطابق برسوں سے خیر سگالی اور ہم آہنگی کی علامت مغربی اتر پردیش میں ، ایک سازش کے تحت اپنے سیاسی مفادات کی خاطر سماج میں فرقہ پرستی کا زہر پھیلا کر تین بے قصور وں کو ہلاک اور کئی لوگوں کو زخمی کیا گیا ۔انہوں نے یوگی پر قتل کا الزام لگاکرکہا کہ بی جے پی کا مقصد سروے کرانا نہیں بلکہ بھائی چارہ ختم کرکے نفرت پھیلانا اور فرقہ وارانہ آگ لگانا ہے۔
راہل گاندھی نے تو صرف فرقہ واریت سے دور ر ہ کر امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی درخواست کی مگر پرینکا گاندھی نے سنبھل واقعہ پر یوگی حکومت کے غلط رویہ کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس موضوع پر دوسرے فریق کی بات سنے بغیر اور دونوں فریقوں کو اعتماد میں لیے بنا انتظامیہ کی جلد بازی کے ساتھ کارروائی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے خود ماحول خراب کیا۔ انتظامیہ نے مناسب طریقہ کاراختیار کرکے اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا۔پرینکا گاندھی کے مطابق "اقتدار میں بیٹھ کر امتیازی سلوک، ظلم اور پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرنا نہ تو عوام کے مفاد میں ہے اور نہ ملک کے لیے بہتر ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کو اس معاملے کی نوٹس لیتے ہوئے انصاف کرنے اور عوام سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک ماہ قبل اپنے مشاہدے میں لکھا تھا کہ ٹرائل کورٹ کے جج بعض اوقات مجرموں کو بری ہونے کے واضح کیس میں بھی اعلی عدالتوں کے خوف کی وجہ سے مجرموں کو سنگین جرائم میں مجرم قرار دیتے ہیں۔یہ بہت ہی سنگین مگر نہایت درست مشاہدہ تھا ۔ ایسا صرف افراد کے ساتھ نہیں قوموں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال سنبھل کی جامع مسجد کا تنازع ہے۔ پچھلے منگل کو وشنو شنکر نام کا ایک سرپھرا وکیل سنبھل کی ضلع عدالت میں جاکر جامع مسجد کے ہری ہر مندر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس پر عام طور سے تاریخ پہ تاریخ دینے والی عدالت فوراً سروے کرنے کا حکم دے دیتی ہےاور چند گھنٹوں میں کمیشن ایڈوکیٹ کے ذریعے ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی کا سروے کا کام ہونے لگتا ہے۔ اس سے سارے ڈرامہ کا طے شدہ ہونا ازخود ثابت ہوجاتا ہے۔یہ حکم اس مسجد کی بابت دیا گیاجو 1529 سے موجود ہے ۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق ایک محفوظ علاقہ ہونے کے سبب اسے ہر دخل اندازی سے تحفظ حاصل ہے مگر عدالت ان تمام حقائق سے چشم پوشی کرتی ہے۔ اس طرح اے ایس آئی، یوپی حکومت، جامع مسجد کمیٹی اور سنبھل ضلع مجسٹریٹ کو فریق بنا کر ایک نیا تنازع کھڑا کردیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ 1991 میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ 1947 کے بعد سے جو بھی مذہبی مقامات ہیں وہ اسی حالت میں رہیں گے۔ اس بابت ایوانِ پارلیمان نے قانون بھی بنا رکھا ہے ۔ اس لیے ایسے عدالتی احکامات کا مقصد ملک کا ماحول خراب کرنا نہیں تو کیاہے؟ عدالتیں بھی ماحول کو بہتر بنانے کے بجائے خرابی پیدا کررہی ہیں ۔ الہ باد ہائی کورٹ نے مذکورہ بالا ناانصافی کی وجہ یہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اپنی ذاتی ساکھ اور کیریئر کے امکانات کو محفوظ کرنےکی خاطرجج سزا کا حکم دیتے ہیں۔ نچلی عدالت تو اوپر والوں کو خوش کرنے کے لیے ایسے احکامات جاری کرتی ہے لیکن عدالتِ عظمیٰ یہ سب کیوں کرتی ہے؟ کیونکہ سپریم کورٹ نے خود بلا طلب سروے کے فتنہ برپا کیا تھا۔ ملک بھر میں سرطان کی مانند پھیلنے والے اس فتنے کی داغ بیل سابق چیف جسٹس چند چوڑ نے ڈالی کیونکہ اگر کسی عبادتگاہ کی حیثیت کو بدلنا ہی نہ ہو تو اس کے سروے کی ضرورت عدالتی نہیں سیاسی ہے؟ سنبھل کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا ہی انصاف کا کم ازکم تقاضہ ہے۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...