Skip to content
جھانسی: اسپتال کی آگ سے نفرت کی آگ تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
1991میں سنیل دت نے جہیز کی لعنت پر فلم بنائی تو اس کا نام رکھا ’یہ آگ کب بجھے گی؟‘ وہ اگر حیات ہوتے تو نفرت کے خلاف اس فلم کا سیکوئیل بناتے ۔ وطن عزیز میں نفرت کی آگ کس طرح دہک رہی ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے دنوں جب جھانسی کے سرکاری اسپتال میں دہک اٹھا تو ہندو جاگرن منچ کے ایک رہنما نے ایکس پر سوال کیا ’ کہیں حکومتِ وقت کو بدنام کرنے کی خاطر تو کسی نے اسپتال میں آگ نہیں لگائی‘۔ اترپردیش کی بدنام ترین حکومت کی نیک نامی پر چار چاند لگانے کے لیے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی یہ ایک مذموم کوشش تھی۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ گورکھپور کی طرح یہاں بھی اپنی جان پر کھیل کر بچوں کی بچانے والایعقوب منصوری مسلمان تھا۔ اس نے پانچ بچوں کو بچایا مگر اپنی جڑواں بیٹیوں کی حفاظت نہیں کرسکا ۔ اس بے لوث جذبۂ خدمت پر ہندو جاگرن منچ کا مذاق اڑاتے ہوئے لوگوں نے لکھا کہ اندھ بھکتو اور گالیاں دو۔ یہ بھی لکھا گیا کہ کہیں اسی کو(ڈاکٹر کفیل کی مانند) ماسٹر مائنڈ نہ بتا دینا ۔ ہمیر پور کا یعقوب اپنی بیوی ناظمہ کے ساتھ پہلی نوزائیدہ جڑواں بیٹیوں کا انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں علاج کروا رہا تھا کہ اسپتال میں آگ لگ گئی۔
یعقوب کھڑکی توڑ کر آئی سی یو میں داخل ہوااور جتنے نوزائیدہ بچوں کو بچا سکتا تھا بچایا۔ اس وقت بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگانے والے اور جئے شری رام کا نعرہ لگوا جعلی دیش بھگت دم دبا کر فرار ہوچکے تھے ۔ یعقوب منصوری اور ان کی اہلیہ ناظمہ کے علاوہ اپنے پہلے بچے کو جنم دینے والی سنجنا کماری نےکہا کہ ’میرا بچہ میری آنکھوں کے سامنے جل کر مر گیا اور میں بے یار و مددگار کھڑی دیکھتی رہ گئی۔ اسپتال کی غفلت نے میرے خوابوں کو تباہ کر دیا۔ سنتوشی دیوی کے مطابق جب اس نے چیخوں کی آوازیں سنیں تو اس وقت تک ان کا بچہ جا چکا تھا۔جھانسی میڈیکل کالج کے این آئی سی یو میں جب آگ لگی تو کلدیپ یادو بھی وہیں موجود تھے اور ا س نے بھی چار نوزائیدہ بچوں کی جان بچائی۔ایسا کرتے ہوئے اس کا ہاتھ بھی جل گیا، پھر بھی وہ اپنا فرض نبھاتا رہا۔ جب اس کا بچہ نہیں ملا تو کلدیپ اور ان کے اہل خانہ ہسپتال کے گیٹ پر ہڑتال پر بیٹھ گئے لیکن بعد میں پتا چلا کہ ان کا بچہ سلامت ہے یعنی وہ جب دوسروں کے بچوں کو آگ کی لپیٹ سے نکال رہا تھا تو کوئی اور اس کے بچے کو بچا رہا تھا ۔ اسے انسانیت کہتے ہیں۔
ہندوتوا نوازوں کو یادو سماج سے بھی اتنی ہی پرخاش ہے جتنی مسلمانوں سے ہے۔ اتفاق سے مصیبت کی اس گھڑی میں انہیں دو نوجوانوں نے اہم ترین کردار ادا کرکے اپنے عمل سے مخالفین کو منہ توڑ جواب دے دیا ۔ اس سانحہ کے بعد سوشل میڈیا پر تین دنوں سے ‘جھانسی’ ٹرینڈ کر تارہا ۔ اس میں لوگ یعقوب منصوری کے ساتھ دیگر بچانے والوں کا ذکر کرکے لکھ تھے اس طرح کے واقعات کے باوجود سیاست داں ہندو مسلم کی سیاست میں لگے ہوئے ہیں۔ایک صارف نے لکھا کہ اخلاقی طور پر یہ سماج مر چکا ہے۔ راہل نامی ایک صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ‘یعقوب منصوری کھڑکی توڑ کر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر یونٹ میں داخل ہوئے اور بہت سے بچوں کو بچایا لیکن اپنی جڑواں بچیاں کھو دیں۔ کہانی ختم۔‘ ایک صارف نے اترپردیش حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ‘وہ فوڈ وینڈر ‘ (یعنی ٹھیلے پر سامان بیچنے والا)ہیں۔ کل جب سڑک پر آئیں گے تو کچھ زومبی صرف یعقوب منصوری نام کی وجہ سے ان سے کھانا خریدنے سے انکار کر دیں گے۔ فرقہ وارانہ انڈیا کی حقیقت۔’
ملک کی سیاسی جماعتوں نے بھی اس بے لوث خدمت کو سراہا ۔ کانگریس پارٹی کی ترجمان سوپریا شریناٹے نے ایکس پر لکھا: ’یعقوب منصوری کے علاوہ جھانسی کے ایک اور مسیحا سامنے آئے۔ پشپیندر نے بھی بچوں کی جان بچائی‘۔انہوں نے آگے لکھا’یہ نیک بندے ہیں۔ ان کے جیسے اور ہونے چاہیے۔ ان کے حوصلوں پر انسانیت زندہ ہے اور انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں۔ کاش بٹنے کٹنے کی بات کرنے والے یہ بات سمجھیں۔’ مجلس اتحادالمسلین کے رہنما اور رکن پارلیمان اسدالدین اویسی کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہوگیا جس میں وہ کہتے ہیں کہ یعقوب منصوری نے دس بچوں کی جان بچائی تو کیا اب ’یوگی آدتیہ ناتھ ان کے سامنے بول سکتے ہیں کہ ‘بٹیں گے تو کٹیں گے‘؟ عام آدمی پارٹی رکن پارلیمان سنجے سنگھ نے حکومت کی لاپروائی کو نشانہ بناتے ہوئے اسے غفلت کی انتہا قرار دے کر کہا کہ اس سے سمجھا جا سکتا ہے اتر پردیش میں عام لوگوں، خاص کر کے بچوں کی صحت اور زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ وہ بولے لوگوں کو ہر معاملے پر نفرت کی آگ میں جھونکا جاتا ہے اور ہر معاملے پر انہیں تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اتر پردیش حکومت اپنا ظلم چھوڑ کر، اپنی لاپروئی تسلیم کرےاور متاثرین کے اہل خانہ کو کم از کم ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دےنیز اس آگ کے لیے ذمہ دارلوگوں پر سخت کارروائی کرے۔
کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے اس دل دہلا دینے والے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ انتہائی افسوسناک خبر ہے۔ اس وقت الفاظ بے معنی ہیں، لیکن ہم ان خاندانوں کے غم میں شریک ہیں جنہوں نے اپنے معصوم بچوں کو کھو دیا۔”اترپردیش میں حزب اختلاف سماجو ادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی جھانسی میڈیکل کالج میں آگ لگنے کے واقعہ کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو صلاح دی کہ سب ٹھیک ہونے کا جھوٹا دعوی کرنے کے بجائے طبی شعبے کی بدحالی پر توجہ دیں ۔انہوں نے مذکورہ سانحہ کو بے حد تکلیف دہ اور تشویش ناک بتایا۔ یادو نے آکسیجن کانسنٹریٹر میں آگ لگنے کے لیے اسپتال انتظامیہ کی لاپروائی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔یادو نے خراب معیار کے آکسیجن کنسنٹریٹر مہیا کرنے والے افسران پر تادیبی کاروائی کا مطالبہ کیا اوروزیر اعلی کو انتخابی مہم کے بجائےصحت و طبی شعبے کی بدحالی پر دھیان دینے کی تلقین کی۔
اکھلیش یادو نے نائب وزیر اعلی برجیش پاٹھک پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ’ رہی بات اترپردیش کے’ہیلتھ اور میڈیکل وزیر’ کی تو ان سے کچھ نہیں کہنا ہے کیوں کہ طبی سہولیات کی بدحالی انہیں کے سبب سےہے۔ یادو نے اپنے بیان میں تنگ نظرفرقہ وارانہ سیاست کرنے والے وزیر صحت کے بارے میں بتایا کہ ان کے پاس نہ کوئی طاقت ہے اور نہ ہی قوت ارادی، بس نام کی تختی ہے۔ تمام مغموم اہل خانہ کو 1۔1 کروڑ مالی مدد کے طور پر دینے مطالبہ کرنے کے ساتھ یادو نے یہ بھی کہہ دیا کہ گورکھپور نہ دہرایا جائے۔یہ نہایت لطیف اشارہ ڈاکٹر کفیل احمد کی جانب تھا ۔ وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے بلا وجہ انہیں اپنا حریف سمجھ کر بغض و حسد کے تحت یہ کہہ کر جیل بھیج دیا تھا کہ ’بہت ہیرو بنتا ہے۔ اب میں دیکھتا ہوں ‘۔ وہ کئی ماہ بغیر کسی قصور جیل میں رہے اور بالآخر یوپی کی سرکار کو زبردست پھٹکار سنا نے کے بعد عدالت نے ڈاکٹر کفیل کو باعزت بری کردیا ۔
تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ اتر پردیش کی یوگی حکومت نے آٹھ ماہ قبل اس اسپتال کے بارے میں ڈینگ مارتے ہوئے اسے عالمی معیار کی سہولت والا ادارہ کرکے اپنی پیٹھ تھپتھپائی تھی۔ کھوکھلی تشہیر میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہاں بچوں کے لیے بہت عمدہ سہولیات مہیا کی گئی ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ اسپتال کے اندر نصب آگ بجھانے والے آلات نے 2020 سے کام کرنا چھوڑ دیاتھا۔سرکار کا دعویٰ ہے کہ جون میں موک ڈرل ہوئی لیکن سیلنڈر پر تاریخ کو نہیں دیکھا گیا اور چشم دید گواہ بتاتے ہیں کہ آگ لگنے پر الارم نہیں بجا ۔ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ موک ڈرل عملاً نہیں بلکہ صرف کاغذ پر ہوئی ۔ اس سانحہ کے بعد جب نائب وزیر اعلیٰ پاٹھک کے دورے کی خبر آئی تو اسپتال کا عملہ ان کے استقبال کی خاطر راستے کی دیواروں پر چونا لگانے میں جٹ گیا۔اس بات کے ذرائع ابلاغ میں آنے حکومت پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
ریاستی حکومت نےبہت ساری بدنامی سمیٹنے کے بعد اب تفتیش شروع کی ہے کہ چونا لگانے کا حکم کس نے دیا تھا ؟ بنیادی بات تو یہ ہے کہ جس خوشامدی تہذیب و روایت کو پروان چڑھایا گیا ہے اس کے تحت یہ نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟جو سرکار اپنی بنیادی ذمہ داری ادا نہیں کرتی وہ اسی طرح کے نمائشی کاموں پر گزارہ کرتی ہے اور بی جے پی والوں کا اوپر سے نیچے تک یہی حال ہے۔ ان لوگوں کو تصویریں کھنچوانے اور ویڈیو بناکر پھیلانے کے سوا کسی کام میں دلچسپی نہیں ہے۔ جھانسی کے اسپتال میں ان کی تیاری کا یہ عالم تھا کہ فائر بریگیڈ کو بلانے میں بیس منٹ لگ گئے۔ اس کی ۶؍ گاڑیاں آگ بجھانے میں ناکام ہوگئیں تو فوج کو بلانا پڑا اور وہ آدھے گھنٹے بعد اس میں کامیاب ہوسکا ۔ اس طرح تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد جاکر آگ بجھی۔ یہ آگ تو خیر بجھ گئی لیکن سنگھ پریوار جو نفرت کی آگ ملک میں لگا رہا ہے اس کو بجھانے میں کتنا عرصہ لگے گا کوئی نہیں جانتا لیکن یعقوب، پشپندر اور راہل جیسے لوگ اگر اپنی ذمہ داری ادا کرتے رہیں گے تو یقیناً بہت جلد یہ آگ بھی بجھ جائے گی ۔ ان شاء اللہ۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...