Skip to content
جمعہ نامہ: سنبھل کا واقعہ اورمعرکۂ فرعون و کلیم
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’۰۰ ایسی ہی باتیں اِن سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے۔اِن سب (اگلے پچھلے گمراہوں) کی ذہنیتیں ایک جیسی ہیں‘‘۔یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ زمان و مکان کی تبدیلی کے باوجود نمرود و فرعون یا نیتن یاہو و مودی کا طرز فکرا یک جیسا ہوتا ہے۔ فرمان ِ قرآنی ہے:’’ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا "چھوڑو مجھے، میں اِس موسیٰؑ کو قتل کیے دیتا ہوں، اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو‘‘۔ سوال یہ ہے کہ آخر فرعون نے اپنے پرورش کردہ موسیٰؑ کو شہید کردینے کا ارادہ کیوں کیا ؟ کتاب الٰہی میں خود فرعون کایہ جواب درج ہے :’’ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا‘‘۔ یہی خوف ظالم حکمرانوں کو اسلام کا دشمن بنا دیتا ہے کہ جس مذہب اور نظریہ کی آڑ میں وہ عوام کو غلام بناکر ان کا استحصال کرتے ہیں دین اسلام اسے چیلنج کردیتا ہے اس لیے مفسدین بہتان تراشتے ہیں :’’ ملک میں فساد برپا کرے گا‘‘۔ معجزاتِ موسوی ؑ سے عاجز:’’فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا "یقیناً یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے ۔ تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے، اب کہو کیا کہتے ہو؟‘‘ یہاں بین السطور یہ اعتراف موجود ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے حضرت موسیٰ ؑ کی مخالفت کررہے تھے ۔
یوگی اور مودی نے مسلمانوں کے ذریعہ اپنے اقتدار کو لاحق خطرات محسوس کرلیےہیں ۔ اسی لیے طرح طرح کی ریشہ دوانیوں اورجورو ستم کا بازار گرم رکھا ہے۔ حضرت موسیٰؑ کو زیر کرنے کی خاطر جس طرح جادوگروں کی مدد لی گئی تھی اسی طرح میڈیا کی بازی گری کا استعمال ہورہا ہے۔ اس پیشکش کے باوجود کہ اگر وہ غالب رہے تو وہ سرکار دربار میں شامل ہوں گےجب جادوگر ایمان لے آئے تو فرعون نے اسے اپنی توہین گردانتے ہوےسوال کیا:’’تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟‘‘اور پھر بہتان لگاتا ہے:’’ یقیناً یہ کوئی خفیہ ساز ش تھی جو تم لوگوں نے اس دارالسلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو‘‘۔ ا پنا اقتداربچانے کے لیے وہ دھمکاتا ہے:’’ اچھا توا س کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا‘‘۔ سنبھل میں رونما ہونے والے واقعات کو ان آیا ت کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال واضح ہوجاتی ہے۔
باطل حکمراں جب بھی خوفزدہ ہوتے ہیں تو اپنے مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کی خاطر ظلم و جبر کی روش اختیار کرتے ہیں۔ جادوگروں کی غیر معمولی استقامت کے جواب میں :’’ فرعون سے اُس کی قوم کے سرداروں نے کہا "کیا تو موسیٰؑ اور اُس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟‘‘۔ یہاں فساد پھیلانے کا الزام تو زیب داستان کے لیے تھا کیونکہ بیچارے نہتے جادوگر کربھی کیا سکتے تھے مگر فرعون اور اس کے معبودانِ باطل کا انکار نزاع کی اصلی وجہ تھی ۔ موجودہ حکمرانوں کی نظر میں مسلمانانِ ہند کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ ان خدائی کے منکر ہیں ۔ اپنے درباریوں کے سوال پر فرعون نے جواب دیتاہے:’’میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے‘‘۔
سنبھل کی جامع مسجد کے تحفظ میں جمع ہونے والے لوگوں پر سیدھے فائرنگ عصرِ حاضر کی فرعونیت نہیں توکیا ہے؟ اس صورتحال میں مسلمانانِ ہند کے لیے حضرت موسیٰؑ کی یہ نصیحت مشعل راہ ہے:’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں”۔ اللہ کا ڈر اور آخرت کی کامیابی کا یقین ہی اہل ایمان کو باطل طاقتوں کے خوف و خطر سے بے نیاز کردیتا ہے ۔ فرعون کی دھمکی کے جواب میں حضرت موسیٰؑ کہتے ہیں : "میں نے تو ہر اُس متکبر کے مقابلے میں جو یَوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے ر ب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے”۔ اترپردیش کی سیاست سے واقف کار لوگوں کی رائے ہے کہ پارلیمانی انتخاب میں ناکامی کے بعد یوگی کی رخصتی طے ہوچکی ہے۔ اپنے اقتدار کو بچانے کی خاطر وزیر اعلیٰ نے پہلے بہرائچ میں فساد کروایا مگر وہ داوں الٹا پڑگیا کیونکہ مرنے والا نوجوان مسلمان نہیں تھا اور دو ہندو نوجوانوں کو فساد کرنے کے الزام میں گرفتار بھی کرنا پڑا۔ اب سنبھل کا تنازع کھڑا کیا گیا تاکہ کسی نیتن یاہو کی طرح خانہ جنگی کا ماحول بناکر اپنے اقتدار کو بچایا جاسکے ۔ یوگی نے جب بھی اپنے انتہا پسند حامیوں کو یہ سمجھا کر خوش کرنے کی کوشش کی کہ وہ مسلمانوں کو ڈرا نے میں کامیاب ہوگئے ہیں اہل ایمان نے اپنے عمل سے اس کی ترید کردی ۔ ماضی میں نوپور شرما کے خلاف پہلے کانپور اور اس کے بعد پوری ریاست میں ہونے والا احتجاج اس کا ثبوت تھا ۔
سنبھل کی مسجد کے تحفظ میں مسلمانوں کا جمع ہوجانا بتاتا ہے کہ اب مسلمان بابری مسجد میں 1949کے اندر مورتیاں رکھنے پر خاموش رہنے کی غلطی کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اہل ایمان نے اپنی مسجد کے تحفظ پانچ نوجوانوں کی شہادت دی مگر خوف و دہشت میں مبتلا نہیں ہوئے۔ مسلمانوں کی یہی دلیری باطل کے ایوانوں میں لرزہ پیدا کردیتی ہے۔ معرکۂ فرعون کلیم کے حوالے سے رب کائنات نے اہل ایمان کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ: ’’ اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہی کو وارث بنائیں اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں‘‘۔ظلم کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس نویدصبح کے بعد فرمانِ قرآنی ہے:’’ اور ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا ‘‘۔ یہاں پھر سے اس اقتدار سے محرومی کے ڈر کر ذکر ہے جس نے موجودہ حکمرانوں کو باولا کردیا ۔ اسی لیے آئے دن مساجد اور درگاہوں کا سروے کرکے مسلمانوں کی دلآزاری اورہمت شکنی کرکے انہیں مایوسی کا شکار کیا جاتا ہے مگر اس طرح باطل قوتیں نہ ماضی میں کامیاب ہوئی ہیں اور نہ مستقبل میں کامران ہوں گی ۔ ان شاء اللہ۔
Like this:
Like Loading...