Skip to content
اللہ تعالی نے جنت کے عوض مومنوں کے جال اور مال کو خرید لیا ہے ۔مولانا حافظ پیرشبیر احمد کا بیان
حیدرآباد (28؍ نومبر2024ء)
حضرت مولانا حافظ پیرشبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں قرآن پاک کی آیت ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃالخ ترجمہ خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔
اور یہی بڑی کامیابی ہے۔اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ للہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن بندے جب راہ حق میں اپنے مال اور اپنی جانیں دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم سے انہیں جنت عطا فرمائے گا۔ بندہ اپنی چیز جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہی ہے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کی اطاعت گذاری سے مالک الملک خوش ہو کر اس پر اپنا اور فضل کرتا ہے سبحان اللہ کتنی زبردست اور گراں قیمت پروردگار کیسی حقیر چیز پر دیتا ہے۔
دراصل ہر مسلمان اللہ سے یہ سودا کرچکا ہے۔ اسے اختیار ہے کہ وہ اسے پورا کرے یا یونہی اپنی گردن میں لٹکائے ہوئے دنیا سے اٹھ جائے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓنے لیلۃ العقبہ میں بیعت کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اپنے رب کے لئے اور اپنے لئے جو چاہیں شرط منوالیں۔ آپ نے فرمایا میں اپنے رب کے لئے تم سے یہ شرط قبول کراتا ہوں کہ اسی کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرنا۔ اور اپنے لئے تم سے اس بات کی پابندی کراتا ہوں کہ جس طرح اپنی جان ومال کی حفاظت کرتے ہو میری بھی حفاظت کرنا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے پوچھا جب ہم یونہی کریں تو ہمیں کیا ملے گا ؟
آپ نے فرمایا جنت ! یہ سنتے ہی خوشی سے کہنے لگا واللہ اس سودے میں تو ہم بہت ہی نفع میں رہیں گے۔ بس اب پختہ بات ہے نہ ہم اسے توڑیں گے نہ توڑنے کی درخواست کریں گے پس یہ آیت نازل ہوئی یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، نہ اس کی پرواہ ہوتی ہے کہ ہم مارے جائیں گے نہ اللہ کے دشمنوں پر وار کرنے میں انہیں تامل ہوتا ہے، مرتے ہیں اور مارتے ہیں۔ ایسوں کے لئے یقینا جنت واجب ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں نکل کھڑا ہو جہاد کے لئے، رسولوں کی سچائی مان کر، اسے یا تو فوت کر کے بہشت بریں میں اللہ تبارک و تعالیٰ لے جاتا ہے یا پورے پورے اجر اور بہترین غنیمت کے ساتھ واپس اسے لوٹاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ذمے ضروری کرلی ہے ۔ اس واقعہ بیعت عقبہ میں جو معاہدہ رسول اللہ ﷺ سے ہوا اس کی ظاہری صورت بیع و شراء کی بن گئی، اس لئے شروع آیت میں شرائے لفظ سے تعبیر کیا گیا تھا، اس جملہ میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ معاملہ یبع تمہارے لئے نفع کا سودا اور مبارک ہے، کیونکہ ایک فانی چیز جان و مال دے کر ہمیشہ باقی رہنے والی چیز بدلے میں مل گئی اور غور کیا جائے تو خرچ صرف مال ہوا، جان تو یعنی روح تو مرنے کے بعد بھی باقی رہے گی اور ہمیشہ رہے گی، اور مال پر غور کیا جائے تو وہ بھی تو حق تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے،
انسان تو اپنی پیدائش کے وقت خالی ہاتھ آیا تھا، اسی نے سب سامان اور مال و دولت کا اس کو مالک بنایا ہے، اپنے ہی عطیہ کو آخرت کی نعمتوں اور جنت کا معاوضہ بنا کر جنت دیدی، اسی لئے حضرت فاروق اعظم نے فرمایا کہ یہ عجیب یبع ہے کہ مال اور قیمت دونوں تمہیں ہی دے دیے۔حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ سنو ! یہ کیسی نفع کی تجارت ہے جو اللہ نے ہر مومن کیلئے کھول دی ہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تمہیں مال بخشا ہے تم اس میں سے تھوڑا خرچ کرکے جنت خرید لو ۔اللہ تعالی ہم کو صحیح علم اور علم کی توفیق عطافرمائے آمین۔
Post Views: 9
Like this:
Like Loading...