Skip to content
سنبھل کے شعلے، عدالت کا کمبل
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
آگ پر پانی ڈالنے سے اس کے مزید بھڑک جانے کا بھی امکان ہوتا مگر کمبل ڈال دینے سے وہ بجھ جاتی ہے ۔ پانی دراصل ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب ہے ۔ یہ دونوں ساتھ رہیں تو آگ کو بجھاتے ہیں لیکن اگر الگ ہوجائیں تو ہائیڈروجن جلتی ہے اور آکسیجن جلاتی ہے۔ اترپردیش کی سرکار اور انتظامیہ دراصل سنبھل میں تشدد کی آگ کو لگا اور بڑھا رہے تھے لیکن عدلیہ نے اس پر کمبل ڈال دیا ۔ کمبل کی وجہ سے ہوا کے بند ہوجانا آکسیجن کی فراہمی بند کردیتا ہے نیز آگ ازخود بجھ جاتی ہے الاّ یہ کہ شعلے کمبل ہی کو جلا ڈالیں ۔ سابق چیف جسٹس نے گیان واپی مسجد کے سروے کا حکم دے کر 1990میں بنے مذہبی مقامات کے تحفظ کا قانون جلا کر راکھ کردیا ۔ سنبھل سانحہ کے بعد عدالتِ عظمیٰ میں اس بابت زیر التواء مقدمہ پر سماعت کی گذارش کی گئی تو 4 دسمبر کی تاریخ مل گئی ۔ اب چیف جسٹس سنجیو کھنہ کا امتحان ہے کہ وہ فتنہ و فساد کے اس دروازے کو پوری طرح بند کردیں یا کوئی ایسی کھڑکی کھلی چھوڑ دیں کہ جس سے شرانگیزی ہوتی رہے؟
سنبھل میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی خاطر جامع مسجد کے مزید سروے پر روک لگاکر سپریم کورٹ نے ایک مثبت پیغام دیاہے۔ اس نے مسلم فریق کو اپنی بات پیش کرنے کےلیے مناسب وقت دینے کاحکم دیا ۔ عدالت عظمیٰ نے نچلی عدالتوں کو ہائی کورٹ سے واضح ہدایت نہ ملنے کی صورت میں کارروائی کرنے پر روک لگادی ۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربر اہی والی بنچ نے معاملے کی سنگینی کو پیش نظر رکھ کر ہم آہنگی کو مقدم رکھتے ہوئے مسجد کمیٹی کوہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ۔ بینچ نے نچلی عدالت میں پیش کی جانے والی سروے کمشنر کی رپورٹ کو بھی شائع ہونے سے روکنے کی خاطرسیل بند لفافے میں محفوظ کرنے کا حکم دیا ۔ اس معاملے میں عدالت نے یوگی حکومت کو غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنے کی نصیحت کرکے زبردست جوتا مارا اورہدایت دی کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لئے اقدامات کرے۔
سی جے آئی کی گہری تشویش کا اندازہ ان کے حکمنامہ میں درج الفاظ سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سخت ہدایت دیتے ہوے لکھا کہ ’’امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہوگا۔ ہم نہیں چاہتے کہ کچھ بھی ہو… ہمیں مکمل طور پر غیر جانبدار رہنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کچھ بھی غلط نہ ہو۔‘‘۔ بی جے پی کے نزدیک تو انسانی جان کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے مگر ملک کا ہر ادارہ اس کی مانند بے حس بھی نہیں ہے۔ سنبھل میں اتر پردیش کی پولیس نے پہلے تو ہندو شر پسندوں کو مسجد میں گھسنے کا موقع دیا۔ ان کو اشتعال انگیز نعرے لگانے سے نہیں روکا بلکہ خود بھی گالی گلوچ پر اتر آئی ۔ اس پر مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ان پر سیدھے گولی چلا دی گئی۔ اسی لیے عدالت کو پھٹکار لگانی پڑی مگر یوگی کی یوپی پولیس عادی مجرم ہے ۔ ایک سے زائد مواقع پر ملک کی مختلف عدالتوں نے یو پی پولیس کو غیر جانبداری سے کام کرنے اور اپنے فرائض پوری سنجیدگی اور دیانتداری کے ساتھ انجام دینے کی نہ صرف ہدایت دی ہے بلکہ سرزنش بھی کی ہے ۔ اپنی ہدایت میں جسٹس کھنہ نے بلا واسطہ مودی کو لپیٹتے ہوئےکہا کہ ایک معاملے پر پورے ملک کے امن و امان کو بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔
سنبھل کے اندر 19؍ نومبر کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت سول عدالت کے جونیئر جج نے جامع مسجد کے سروے کا حکم جاری کیااور اسی دن فیصلے پر عملدر آمد بھی ہوگیا لیکن چونکہ فساد نہیں ہوا اس لیے 24 نومبر کو شر پسندوں کے ساتھ سروے ٹیم دوبارہ جامع مسجد پہنچی ۔اس کے بعد مظاہرین و پولیس کے درمیان تصادم ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں پولیس فائرنگ سے 6 ؍نوجوان شہید ہو گئے۔ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران جامع مسجد کمیٹی کی جانب سے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے اپنے مؤکل کے لیے قانونی حقوق استعمال کرنے کا موقع طلب کرتے ہوئے کہا کہ 1991 کے عبادت گاہ قانون کی موجودگی میں کسی بھی مسجد یا عبادت گاہ کے سلسلے میں ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اس قانون میں بہت واضح طور پر کہا گیا ہے کہ 1947 سے پہلے کی عبادت گاہوں میں کوئی سروے نہیں ہو گا، کوئی جانچ نہیں ہو گی اور ان کو بدلا نہیں جا سکے گا۔
مسجد کمیٹی کے وکیل احمدی نے بجا طور پر سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی جانب سے گیان واپی مسجد کے سروے کی اجازت دینے کے فیصلے کو غلط اور عبادت گاہ قانون کے منافی قرار دیا۔ ان کے مطابق مسجد کے سروے کی رپورٹ عام کر دی گئی اور اب وہاں پوجا ہو رہی ہے۔ اس سے گیان واپی مسجد کی ہیئت بدل گئی ہے۔ انھوں نے سنبھل میں مقامی عدالت کی جانب سے شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دینے یا اجمیر کی عدالت کا خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر مندر ہونے کے دعوے کی درخواست منظور کرکے اس پر نوٹس جاری کرنے کو غلط اور غیر قانونی بتایا۔ چیف ایڈوکیٹ احمدی نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایسے 10 مقدمات زیر التوا ہیں، جہاں فوراً سروے کا حکم دے دیا گیا اور سروے کمشنر بھی تعینات کردیا گیا۔ انہوں نے درخواست کی کہ ایسے احکامات پر روک لگائی جائے۔
چیف جسٹس نے سنبھل معاملے میں واضح کیا کہ ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر ٹرائل کورٹ 8 جنوری تک کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔اس فیصلے کے بعد مسلم فریق تو یقینی طور پر الہ آباد ہائی کورٹ جائے گا جہاں اس حوالے سے پہلے ہی کئی پی آئی ایل زیر سماعت ہیں۔ ان میں سے ایک میں سنبھل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، متعلقہ ایس ایچ او اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں یوپی حکومت کو ان افسران کو گرفتار کرنے کی ہدایات دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ حضرت خواجہ غریب نواز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کیا گیا جس میں الزام لگایا کہ پولیس کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوئے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی اس لیے ہائی کورٹ اس کی ہدایت دے۔
ڈاکٹر آنند پرکاش تیواری کی عرضی میں سی بی آئی کو 24 نومبر کو برپاہونے والے تشدد کی وجوہات اور اس میں ملوث لوگوں کی مکمل جانچ کرنے اور عوام پر فائرنگ کی اجازت دینے والے افسر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا گئی ۔ پی آئی ایل میں تمام ذمہ دار افسران کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا کیونکہ انہیں واقعہ کی مکمل معلومات ہے۔اس پی آئی ایل کے اندر ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایس آئی ٹی کے ذریعہ معاملے کی جانچ کرنے کا تقاضہ کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کی طرف سے مقرر کی جانے والی مدت کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی مانگی گئی۔ اس انتہائی سنگین معاملے میں ریاست کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ یوگی ادیتیہ ناتھ کو تو سانپ سونگھا ہوا ہے مگر اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرشاد موریہ نے کہا کہ سنبھل میں امن وامان کے قیام کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایت پرحکومت عمل کرے گی۔دوسرے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے بھی عدالت کے حکم کا احترام کرنے اس پرعمل درآمد کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نظم و نسق کو برقرار کھا جائے گا اور تشدد کے واقعہ کی غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے گی۔
یوگی کی ریاستی حکومت پر عدلیہ کا دباو بڑھا تو اس نے سنبھل تشدد کی جوڈیشل تحقیقات کرنے کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ۔ اس کمیٹی کی سربراہی الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق جج دیویندر کمار اروڑہ کریں گے۔ سابق آئی اے ایس امت موہن اور سابق پولیس سربراہ اروند کمار جین اس میں شامل ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمان ضیاء الرحمن برق نے عدالتِ عظمیٰ کے حکم کا خیرمقدم کیا تاہم اس واقعہ کی تحقیقات کے لیےسپریم کورٹ کے کسی موجودہ جج کے تقررپر زور دیا کیونکہ ہائی کورٹ کا جج کے ریاستی حکومتی دباو میں آنے کا قوی امکان ہے۔ سماجوادی پارٹی نے سنبھل تشددکے مہلوکین کے پسماندگان کو ۵۔۵؍ لاکھ روپے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیاہے نیز حکومت سےبھی ۲۵۔۲۵؍ لاکھ روپے معاوضےکا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اسے صدر جمہوریہ اور سپریم کورٹ کے علاوہ کسی سے انصاف کی توقع نہیں ہے ۔ موجودہ صدر جمہوریہ بھی سرکار کے آگے بے دست و پا ہیں لیکن عدالتِ عظمیٰ اگر چاہے تو اس جِن کو پھر سے بوتل میں بند کرسکتے ہیں مگروہ ایسا کریں گے یا نہیں یہ وقت بتائے گا کیونکہ جب سے انصاف کی دیوی نے آنکھوں سے پٹی ہٹا کر ٹوکور ٹوکوردیکھنا شروع کردیا ہے وہ سرکار کے اشاروں کو خوب سمجھنے لگی ہے۔
Like this:
Like Loading...