Skip to content
بارگاہ حضرت معین الدین چشتی ؒکے متعلق بے بنیادد عوے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش .
کل ہند مرکز مجلس چشتیہ کے زیراہتما م خانقاہ صوفیہ ابولعلائیہ منڈی میرعالم میں احتجاجی جلسہ
حیدرآبادیکم دسمبر(راست) کل ہند مرکز مجلس چشتیہ کے زیراہتمام خانقاہ صوفیہ ابوالعلائیہ منڈی میرعالم میں بارگاہ حضرت معین الدین چشتی ؒ کے متعلق شرپسندوں کی جانب سے کی جارہی گستاخیوں اور اسے دوسرے مذہب کی عبادتگاہ قرار دیئے جانے کے پروپیگنڈہ کی پرزور مذمت کی گئی۔ سرپرست جلسہ صوفی شاہ محمد مظفر علی چشتی ابوالعلائی (سجادہ نشین ومتولی بارگاہ حضرت شیخ جی حالی ؒ)نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہندوستان ایک پرامن ملک ہے اور اس ماحول کوپیدا کرنے میں صوفیوں اور سنتوں نے بڑی محنت کی ہے۔
ہندوستان کی ہزاروں سال کی تاریخ سے یہاں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کررہتے ہیں اور ایک دوسرے کے تہواروں اور عیدوں میں شرکت کرتے ہیں اور غیرمسلم بھائی بزرگان دینؒ سے بڑی عقیدت رکھتے ہیں اور ان بارگاہوں پرپابندی سے حاضری دیتے ہیں۔ اپنی مرادیں پاتے ہیں۔ ایسے میں بارگاہ حضر ت معین الدین چشتی ؒ کے تعلق سے جوغلط دعوے کئے جارہے ہیں یہ بالکل قابل مذمت ہیں اورتمام ہندوستانیوں کوایک جٹ ہوکر اس کے خلاف آواز اٹھانا چاہئے ورنہ یہ کھیل چلتا رہا تو ہندوستان ترقی کے راستے سے ہٹ جائے گا ۔
انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے وزیراعظم،صدرجمہوریہ کے علاوہ دنیا بھر کے تمام اعلیٰ سیاسی،مذہبی،سماجی قائدین اور بڑی شخصیات بارگاہ سے عقیدت رکھتے ہیں اور عرس کے موقع پر چادر روانہ کرتے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولاصوفی ارشدچشتی ابوالعلائی(سجادہ نشین خانقاہ صوفیہ ابوالعلائیہ) نے کہاکہ سلطان ہند خواجہ معین الدین چشتی ؒکی بارگاہ کو بنیاد بناکر چند شرپسند عناصر ماحول کوخراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں اورایک کتاب کا حوالہ دے رہے ہیںجبکہ اس کتاب کا مصنف خود انگریزوں کاخاص آدمی تھا اورانگریزوں کی ہمیشہ یہ چال رہی ہے کہ وہ ہندوئوں اورمسلمانوں کولڑاکر ہندوستان پر حکومت کرتے رہے ہیں۔
قریب800سال سے ہرراجہ،مہاراجہ،بادشاہ ، حکمرانوں اور تمام وزرائے اعظم ہند نے آپؒ سے نسبت رکھی ہے۔ آج آر ایس ایس بھی انگریزوں کی طرح ہندوئوں اورمسلمانوں کولڑاکر فرقہ پرستوں کوحکومت کے تخت پربیٹھارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے چند سالوں سے اقلیتو ں کی عبادتگاہوں کومسلسل نشانہ بنایاجارہا ہے۔سنبھل کی مسجد کا سروے کرنے کیلئے آنے والی ٹیم کے ساتھ بڑی تعداد میں شرپسند عناصر بے وجہ نعرے بازی کررہے تھے جس کی وجہ سے ماحول خراب ہوا اور پولیس نے معصوم نوجوانوں کواپنی گولی کانشانہ بناکرانہیں شہید کردیا۔
انہوں نے کہاکہ ہماری صفوں میں چند منافق آگئے ہیں اور وہ ٹی وی پرمباحثوں میں حصہ لے کر اس پروپیگنڈہ کاحصہ بن رہے ہیں ،ایسے لوگوں کوہمیں پہچاننا چاہئے اور ان کابائیکاٹ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ حضرت معین الدین چشتی ؒ کا دربار تمام لوگوں کیلئے ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ وہاں کسی کے داخلہ پرکوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ دربار ہندوستان کی گنگاجمنا تہذیب کی اعلیٰ مثال ہے جہاں مسلمانوں کے سا تھ ساتھ بڑی تعداد میں ہندئو بھائی بھی اپنی مرادیں مانگتے ہیں ۔ایسی جگہ کے تعلق سے کی جارہی ہے شرپسندی کوکوئی سیکولر اورپرامن ہندوستانی برداشت نہیں کرے گا ۔
مولانا نے کہاکہ ایک کے بعد ایک مسلمانوں کی عبادتگاہو ں کونشانہ بنانے کا سلسلہ رکنا چاہئے اور اس کے لئے ہندوستانی کی عدلیہ،حکمرانوں اورسیاسی ومذہبی قائدین کوٹھوس فیصلہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب ہندو اورمسلمان مل جل کررہیں اورامن وشانتی رہیں۔ اگرہر طرف انتشار کا ماحول رہے گا توملک بربادی کی طرف چلے جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ وقف ایکٹ بل کوہرحال میں روکنا چاہئے ورنہ ہماری زمینوں کو چھین کرہندوستانی سرمایہ کاروں کے حوالے کردیاجائے گا۔ اس موقع پرصوفی شاہ زبیر چشتی ابوالعلائی( سجادہ نشین ومتولی بارگاہ صوفی باباؒ،جل پلی)، مولانا سید شاہ فضل اللہ قادری الموسوی(سجادہ نشین بارگاہ موسیٰ قادری ؒ)، مولانا افضل مرزا چشتی محبوبی، صوفی شاہ محمد دانش علی چشتی ابوالعلائی(سینئرایڈوکیٹ ،ہائی کورٹ تلنگانہ) ، مولانا سیدشاہ تنویر عالم قادری الموسوی، مولانا سید شاہ عین اللہ حسینی(چشتی چمن)، مولانا صوفی شاہ خرم علی چشتی ابوالعلائی، حافظ عرفان قادری کے علاوہ عوام الناس کی کثیرتعداد اس موقع پرموجودتھی۔
Post Views: 40
Like this:
Like Loading...