Skip to content
ندیم خان: اب قلم پھینک دوں یا اور جسارت سےلکھوں
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
دہلی میں ساڑھے دس سال اور گجرات کے اندر12برس سرکار چلانے کے باوجود مودی اور شاہ کی جوڑی اتنا نہیں سمجھ سکی کہ دنیا میں دوطرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک تو لڑنے والے اور دوسرے ڈرنے والے ۔ ان میں سے لڑنے والے کبھی نہیں ڈرتے اور ڈرنے والے کبھی نہیں لڑتے ۔ ندیم خان اگر ڈرنے والوں میں سے ہوتے تو کب کا میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے مگر انسان جب ظلم کرتا ہے تو وہ اندر ہی اندر موجودہ حکمرانوں کی مانند ڈر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے ۔ ڈر پوک لوگوں کی عقل ماوف ہوجاتی ہے وہ اپنے سائے سے بھی خوف محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ حکومت وقت کے ساتھ یہی ہورہا ہے ورنہ وہ ندیم خان کو ہراساں کرنے کی سعی نہ کرتی ۔ اس معاملے میں پولیس کی سازش کو بے نقاب کرنے کا پورا انتظام مشیت نے یوں کیا کہ وہ پوری طرح برہنہ ہوکر رہ گیا اور اب اس کے پاس منہ چھپانے کی جگہ نہیں ہے۔ندیم خان دہلی میں ر ہتےہیں ۔ یہ تماشا اگر ان کے شہر میں موجودگی کے وقت ہوتا تو پولیس اس طرح بے نقاب نہ ہوتی ۔
ان لوگوں نےندیم خان کو پریشان کرنے کی خاطر وہ دن طے کیا اور اے پی سی آر کے دفتر گئے جب وہ بنگلورو میں اپنے بھائی کے پاس تھے ۔ انتظامیہ نے یہ سوچ کر 29نومبر کی رات ۹؍ بجے کا وقت چنا کہ اگر ندیم خان ہتھے چڑھ جاتے تو ہفتہ اور اتوار تک تو جیل کی ہوا کھلائی جاتی مگر جس کو اللہ رکھے اس کو کون چکھے؟ اس لیے20 عدد پولیس والوں کا جتھا صرف چوکیدار کو ڈرا دھمکا کر بے نیل و مرام لوٹ آیا۔ ان لوگوں کو اب بھی اپنی حماقت کا احساس نہیں ہوا تو دوسرے دن صبح میں پھر دفتر پہنچ کر وہاں موجود عملہ سے پوچھ تاچھ کرنے لگے ۔ وہ بھول گئے کہ یہ وکلاء کا دفتر ہے وہاں بیٹھنے والے لوگ قائدہ قانون جانتے ہیں ۔ اس لیے جب سامنے سے سوالات کی بوچھار ہوئی تو زیرو بٹا سناّٹا۔ پولیس کے پاس ان کے کسی سوال کا جواب نہیں تھا اسلیے وہ رسوا ہوکر بھاگ کھڑی ہوئی ۔
اس چھاپہ ماری سے ڈرنے کے بجائے اے پی سی آر کے وکلاء الٹا تھانے پہنچ گئے اور کاغذ دکھانے پر اصرار کرنے لگے ۔ پولیس افسران کے پاس کاغذ ہوتا تو دکھاتے اس لیے منہ دکھانے لائق نہیں رہے لیکن انتظامیہ کی سمجھ میں یہ آگیا کہ یہاں دھاندلی نہیں چلے گی بلکہ جھوٹ سچ کاغذ تو بنانا ہی پڑے گا ۔ اس طرح گاڑی آگے اور گھوڑا پیچھے کی مصداق بحالتِ مجبوری 30؍ نومبر کی دوپہر 12:48 بجے ایک ایف آئی آر درج کی گئی جبکہ اس سے 16؍ گھنٹے قبل اچھل کود شروع ہوگئی تھی ۔ ندیم خان کے دہلی لوٹنے کا انتظار کرنے کے بجائے اسی دن شام ۵؍ بجے بنگلورو پہنچ جانا انتظامیہ کی تیسری غلطی تھی۔ دہلی سے بنگلورو کا فاصلہ 1740 کلومیٹر ہے اور ہوائی سفر دو گھنٹے 50منٹ میں طے ہوتاہے۔ اس سفر کے لیے کم ازکم ایک گھنٹہ قبل ہوائی اڈے پر جانا نیز شاہین باغ سے ائیرپورٹ کے لیے کم ازکم ایک گھنٹہ اور بنگلورو ہوائی اڈے سے ان کے بھائی کا گھر بھی مان لو ایک گھنٹہ اس طرح کم از کم 6؍ گھنٹے کا سفر لازمی ہوجاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صبح ۱۱؍ بجے سے قبل روانگی ہوگئی جبکہ ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی ۔ شناختی کارڈ کے بغیر سادہ لباس میں جانے والے یہ چار لوگ اس خوش فہمی میں تھے کہ انہیں دیکھ کر ندیم خان خوف کے مارے بلا چوں چرا ان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوجائیں گے ۔ان بیچاروں نے یہ تک نہیں سوچا کہ جب اے پی سی آر کے دفتر کا عملہ کاغذ دکھانے کا مطالبہ کرتا ہے تو ان کا سربراہ یہ کیونکر نہیں کرے گا جبکہ اسے سوچنے اور دیگر ماہرین قانون سے مشورہ کرنے کا بھی موقع مل چکا تھا۔ بنگلورو پہنچنے کے بعد پولیس والوں کو احساس ہوا ہوگا کہ یہ صاحب تو ان کے رعب میں آنے والوں میں سے نہیں ہیں ۔ ان لوگوں نے وہاں پانچ گھنٹے بیٹھ کر اہل خانہ کو پریشان کیا مگر بات نہیں بنی کیونکہ وارنٹ تو دور وہ نوٹس تک نہیں لائے تھے ۔ سچ تو یہ ان لوگوں کے پاس رضاکارانہ طور پر ساتھ چلنے کے لیے اصرار بلکہ دھمکی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا اور کنگ خان کو لانے کے یہ کافی نہیں تھا۔
بالآخر پریشان ہو کر ان لوگوں نے دہلی سے نوٹس منگوایا تو پتہ چلا کہ ایف آئی آر میں فوجداری کی دفع 196, 353(2) اور61 کے تحت الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان ساری دفعات میں زیادہ سے زیادہ سزا 7؍ سال سے کم ہے اس لیے گرفتاری ضروری ہی نہیں ہے۔ اس طرح اپنے ہی جال میں گرفتار انتظامیہ ناکامی و رسوائی سمیٹ کر لوٹ آیا۔ ندیم خان کو ان شاء اللہ قبل از گرفتاری ضمانت مل جائے گی۔ حقوق انسانی کی خاطر جدوجہد کرنے والے اس جہد کارکو ہراساں کرنے کی کوشش انتظامیہ کو مہنگی پڑی کیونکہ اس سے سیول سوسائٹی کے اندر بھونچال آگیا ۔ پرشانت بھوشن، ڈاکٹر سنیلم ، ڈاکٹر آنند پرکاش تیواری اور یوگیندر یادو جیسے بے شمار لوگ ندیم خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے اور سرکاری زیادتی کی مذمت کرنے لگے ۔ ملک کے اندر ظلم و جبر کے خلاف ہر تحریک میں پیش پیش رہنے والے ندیم بھارت جوڑو ابھیان کے قومی جنرل سکریٹری بھی ہیں اس لیے بی جے اے نے ندیم خان کی خلاف دہلی پولیس کی غیر قانونی دھمکی آمیز کارروائی کی بھر پور مذمت کی ۔
اپنے خصوصی بیان میں بی جے اے لکھا کہ ندیم خان انسانی حقوق کے ایک سرکردہ کارکن ہیں اور یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ کے بانیوں میں سے ہیں۔ وہ عام شہریوں بالخصوص اقلیتوں کے قانونی اور آئینی حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ دہلی پولیس کے ذریعہ 30 نومبر کو بنگلور میں بغیر وارنٹ گرفتاری کی کوشش کو غیر قانونی اور مضحکہ خیز تھی ۔ دہلی پولیس کے ذریعہ ایک مشہور فرقہ وارانہ ٹرول کے ٹویٹ کی بنیاد پر، ندیم خان پر نفرت کو ہوا دینے کے الزام تعجب خیز ہے ۔ اس بیان میں ایسوسی ایشن فار دی پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے ایک نمائش کے دوران کیے گئے قانونی عدالتی کام کی وضاحت کو نفرت انگیز جرائم میں شمار کرنا حماقت ہے ۔اسے آزادی اظہار کو روکنے کی دانستہ اور بدنیتی پر مبنی کوشش قرار دے کر ندیم خان اور ان کے ساتھیوں کو دھمکانے پر دہلی پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ۔
حقوق انسانی کے حوالے سے ملک کی سب سے سرکردہ تنظیم دی پیوپلس یونین فار سوِل لبرٹیز (پی یو سی ایل) نے اس معاملے میں دہلی پولیس کی طرف سے کی جانے والی غیر قانونی حرکت کی کڑی مذمت کی ۔ اس نے پولیس کی عجلت پسندی اور کسی وارنٹ یا قانونی طریقہ کار پر عمل کیے بغیر ہی دہلی پولیس کی ٹیم کو ندیم خان اور اس کے اہل خانہ کو 6 گھنٹے تک ڈرانے دھمکانے اور زور زبردستی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ۔ پی یو سی ایل کے مطابق سوشیل میڈیا پر دائیں بازو کے گروپس ندیم خان کو اس لیے نشانہ بناتے رہے ہیں کیونکہ وہ پولیس کی زیادتیوں اور ہجومی تشدد میں ریاست کی شمولیت کے زاویے سے نہ صرف شدید تنقید بلکہ مظلومین کو انصاف دلانے جدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ ماب لنچنگ اور ہجومی تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے خان اور اے پی سی آر کے خلاف بدنیتی پر مبنی سوشیل میڈیا میں یہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ انہوں نے پچھلے دنوں دہلی میں ایک نمائش کا اہتمام کرکے منافرت کی بنیاد پر ہوئے جرائم اور ہجومی تشدد پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کو اجاگر کیا تھا ۔
معروف وکیل اور سماجی خدمت گار ونئے شرینواس نے پولیس کی اس زیادتی پر کہا کہ ” ندیم خان کے معاملے میں دہلی پولیس کا رویہ بالکل نامناسب ہے ۔ اس سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس سے قانون پر عوام کا اعتماد اور بھروسہ کمزور ہوتاہے وہ بولے ندیم اور اے پی سی آر والوں کو بے زبانوں کی آواز بن کر کام کرنے کے سبب نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس قابل مذمت حرکت کے خلاف کرناٹکا حکومت کو آگے بڑھ کر کارروائی کرنی چاہیے ۔”مشہور وکیل پرشانت بھوشن نے ندیم خان کے ساتھ اپنی تصویر کو ایکس پر شائع کرکے ایک طویل مذمتی بیان لکھا ۔اس لب لباب یہ ہے کہ :’’ فرقہ وارانہ جرائم کو بے نقاب کرنے کے لیے اے پی سی آر کے سکریٹری ندیم خان کو دہلی پولیس کا ہراساں کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ان جرائم میں ملوث ہے۔ ان پولیس افسران کو معطل کیا جانا چاہیے اور مجرمانہ دھمکی کے لیے مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ دنیا کے سارے انصاف پسند لوگ پرشانت بھوشن کی تائید اور ندیم خان کی حمایت کرتے ہیں ۔ مقبول و معروف شاعر سرفراز بزمی کا یہ قطعہ ندیم خان کے لیے بہترین خراج تحسین ہے؎
وقت کی آنکھوں میں صدیوں کی تھکن تو ہی بتا
اب قلم پھینک دوں یا اور جسارت سے لکھوں
مابدولت کا یہ فرمان ملا ہے مجھ کو
ظلم کو ظلم بھی ظالم کی اجازت سے لکھوں
Like this:
Like Loading...