Skip to content
ظریفانہ: اتنا ہنگامہ کیوں ہے بھائی ؟ کون بنے گا وزیر اعلیٰ ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن مراٹھے نے کلن پنڈت سے پوچھا یار جھارکھنڈ میں ہمارے ساتھ الیکشن ہوا ۔ وہاں حلف برداری ہوگئی اور یہاں زیرو بٹا سناّ ٹا، کیا مطلب؟
کلن نے سمجھاتے ہوئے کہا بھیا مہاراشٹر بڑا صوبہ ہے ۔ اس لیے مسائل بھی بڑے ہیں ۔ دھیرج رکھو سب ٹھیک ہوجائے گا ۔
مجھے پتہ ہے لیکن یہاں کی جیت بھی تو بہت بڑی ہے اس لیے کوئی مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہیے ۔
یار للن تم سمجھتے کیوں نہیں ؟اسی بڑی جیت نے تو سارا کھیل بگاڑدیا ہے۔
للن چکرا گیا اور بولا یار یہ تو سنا تھا کہ چھوٹی کامیابی بڑے مسائل کو جنم دیتی ہے مگر بڑی فتح تو سارے مسائل حل کر دیتی ہے ۔
جی ہاں مگرایسا ہوتا نہیں ہے۔ ہمارے فڈنویس نے اس بار چائے میں ضرورت سے زیادہ شکر ملا دی اور اسی سے سب گڑ بڑ ہوگئی۔
یار یہ درمیان میں چائے اور شکر کہاں سے آگئی ؟ فی الحال تو چائے کی پتی نے کڑواہٹ پھیلا رکھی ہے ۔
کلن بولا اب تم صحیح پکڑے ۔ اعلیٰ کمان اوپر سے اضافی پتی ڈال کر چائے کو ٹھیک کررہا ہے ۔
اچھا تو کیا ایکناتھ شندے اس میں پانی ملا کر چائے کو پتلا کررہے ہیں ؟
ارے بھائی اس اناتھ کی بات ہی نہ کرو ۔ ٹشو پیپر کی مانند اس کا استعمال ہوچکا ۔ تم تو جانتے ہی ہوکہ اب اس کی جگہ کہاں ہونی چاہیے؟
جی ہاں غداروں کی جگہ کوڑے دان میں ہے مگر اس کو وہاں ڈال کر فڈنویس کا ڈھکن کیوں نہیں لگا دیتے؟
تم بھول گئے شکر والی بات ؟ فڈنویس سے اگر اندازے کی غلطی نہیں ہوتی تو وہ بڑے آرام سے اب تک وزیر اعلیٰ بن چکا ہوتا ۔
یار میں تو اس کو پچھلے پانچ سالوں سے آرام کرتا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔ مجھے افسوس ہے کہ پچھلی بار سب سے بڑی پارٹی بننے کے بعد بھی محروم رہ گیا ۔
ہاں یار ڈھائی سال قبل اس نے بڑی محنت سے شیوسینا کو توڑا مگر پھر خود ٹوٹ گیا ۔ ایک وزیر اعلیٰ کا نائب بننے پر تیار ہوجانا سراسر بے عزتی ہے۔
للن بولا یہی تو تم براہمنوں کی کمزوری ہے کہ ہر ذلت کو چپ چاپ برداشت کرلیتے ہو۔ ہمارے شندے کو دیکھو کس طرح ہاتھ پیر مار رہا ہے۔
کلن نے بگڑ کر کہا شاہ جی کے سامنے کسی کی ایک نہیں چلتی ۔ بہت جلد اس کے ہاتھ پیر توڑ کر اسے آئی سی یو میں داخل کردیا جائے گا ۔
اچھا! اپنےا میت شاہ پر کہیں احمد شاہ ابدالی کا اثر تو نہیں ہے جس نے پانی پت کے میدان میں مراٹھوں کو بری طرح کچل دیا تھا؟
کلن بولا نہیں بھیا وہ تو سامنے سے لڑتا تھا اور یہ پیچھے سےسازش کرتا ہے اس لیے ان دونوں کی کیا نسبت ؟
اچھا تو اب کیا چکر چل رہا ہے ؟ تم تو سنگھ کے اندر کی باتیں جانتے ہو کچھ ہمیں بھی بتاو؟
بھائی دیکھو ایسا ہے کہ اس بار سنگھ نے جان توڑ محنت کی اور اب بھی فڈنویس کو وزیر اعلیٰ بنانے پر زور لگا رہا ہے مگر ہماری سنتا کون ہے؟
یار ساری دنیا میں تو یہی ڈنکا بج رہا ہے کہ موجودہ سرکار کا ریموٹ کنٹرول ناگپور میں ہے۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟
بھیا ہم بھی چاہتے ہیں کہ یہ غلط فہمی پھیلی رہے اس لیے تردید نہیں کرتے لیکن خوش فہمی تو آخر خوش فہمی ہی ہوتی ہے۔
یار یہ بتاو کہ اگر سنگھ کی مہاراشٹر میں بھی نہیں چلتی تو اور کہاں چلتی ہوگی ؟
بھائی تم اپنے ہی آدمی ہو اس لیے کیا چھپانا ۔ سنگھ فی الحال کہیں نہیں چلتی ۔
یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ میرے گلے سے یہ بات نہیں اترتی ۔
اچھا یہ بتاو کیا تم نے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کی وہ تقریرنہیں سنی کہ جس میں وہ ہر مسجد کے نیچے شیولنگ تلا ش کرنے سے منع کرتے ہیں۔
جی ہاں وہ تو سبھی نے سنی ہے کیونکہ مسلمانوں نے بھی اسے خوب وائرل کیا ۔
اچھا تو کیا اس پر کوئی کان دھرتا ہے۔ نہ عدالت ، نہ حکومت ، نہ انتظامیہ اور نہ عوام ۔
ہاں یار اگر ان کی بات مان لی جاتی تونہ سنبھل کا مسئلہ پیش آتا۰۰۰
اور نہ اجمیر تک بات جاتی ؟
ہاں یار لیکن تم مہاراشٹر کو چھوڑ کر کہیں اور نکل گئے ۔ یہ بتاو کہ آخر دیویندر فڈنویس کو کب تک ترسایا جائے گا ؟ وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا یا نہیں ؟؟
دیکھو بھائی یقین کے ساتھ تو نہیں کہہ سکتا کہ مودی و شاہ کے دماغ میں کیا ہے ؟ مگرپھر بھی امکان کم لگتا ہے۔
اچھامگر ابھی تو تم نے کہا تھا کہ سنگھ اس کے لیے زور لگا رہا ہے۔
جی ہاں تم صرف اپنے کام کی بات یاد کرلیتے ہو ۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ فی الحال سنگھ کا زور نہیں چلتا ۔
اچھا تو کس کا چلتا ہے ؟
میں بتا چکا ہوں کہ دماغ صرف اور صرف مودی کا چلتا ہے ان کے احکامات پر عمل در آمد کے لیے شاہ جی ہاتھ پیر چلاتے ہیں۔
اچھا تو کیا اس دھاندلی کو سنگھ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلے گا ؟
دیکھو بھائی یہ ان کی مجبوری ہے۔ جس طرح مسلمان ہماری حمایت نہیں کرسکتے اسی طرح سنگھ کانگریس کا حامی نہیں بن سکتا۔
کلن نے پوچھا ، اچھا تو کیا ہماری اسی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے؟ یار یہ تو بہت بری بات ہے لیکن ایسے میں فڈنویس کیا کریں گے؟
صبر اور کیا ؟ تمہیں یاد ہے ڈھائی سال قبل وہ ناراض ہوکر چلے گئے تھے مگربلیک میلنگ کے بعد ناک رگڑ کر نیابت قبول کرنی پڑی ۔
ہاں یار وہ بھی میری سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ انہیں نائب وزیر اعلیٰ بننے پر کیوں مجبور کیا گیا؟ وہ الگ تھلگ بھی تو رہ سکتے تھے ؟؟
ارے بھیا ان کو مرکز میں وزیر بنایا جاسکتا تھا ۔ جے پی نڈا کی جگہ پارٹی کی قیادت سونپی جاسکتی تھی لیکن اگر کسی کی ذلت ہی مقصود ہوتو کیا کیا جائے؟
میں نے سنا ہے اب پھر انہیں جے پی نڈا کی جگہ فکس کرنے کی سازش چل رہی ہے۔ کیا یہ درست ہے؟
اچھا یہ بتاو کہ نڈا آخر کرتے کیا ہیں؟ پارٹی کو تو شاہ جی اور سرکار پردھان جی چلاتے ہیں ۔ نڈا تو ہار کا ٹھیکرا پھوڑنے کے لیے صرف مکھوٹا ہے۔
تو کیا اس زبردست کامیابی کے بعد بھی فڈنویس کے ساتھ ایسا برا سلوک کیا جائے گا؟ آخر کیوں؟؟
فڈنویس نے بی جے پی کو مودی سے بھی بڑی کامیابی دلوادی ۔ اس لیے اس کے پر کتر کر مفلوج کرنے کی بڑی ضرورت ہے تاکہ زیادہ نہ اڑے ۔
یار یہ تو بہت بری بات ہے ؟ وہ اپنے سنگھ کا ’پہلے قوم پھر تنظیم اور آخر میں فرد‘ کا نعرہ کہاں گیا ؟
اوہو وہ ہاتھی کے دانت تو دکھانے کے لیے ہوتے ہیں۔ کھاتے وقت سب سے پہلے فرد پھر تنظیم اور آخر میں قوم کا نمبر آتا ہے۔
یار تم مجھے مت گھماو اور یہ بتاو کہ جس دیویندر فڈنویس کو بغیر کسی محنت کے دس سال قبل وزیر اعلیٰ بنادیا گیا تھا آخر اسے اب کیوں نہیں بنایا جارہا؟
بھیا ایک وجہ تو میں نے بتا دی کہ شاہ جی نہیں چاہتے کہ آگے چل کر ان کا ایک اور حریف عالمِ وجود میں آجائے ۔
ہاں یار اس سے قبل یوگی کو بنانے کی سزا وہ بھگت ہی رہے ہیں ۔ ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو دہلی کے آگے دم ہلاتا رہتا لیکن مودی کو کیا مسئلہ ہے؟
مودی سراٹھانے والا نہیں گردن ہلانے والا وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں اسی لیے مدھیہ پردیش کی غیرمتوقع کامیابی کے بادجود شیوراج ماما کو ٹاٹا کردیا گیا۔
کیا صرف یہی ایک وجہ ہے یا کوئی اور کھچڑی بھی پک رہی ہے۔
دیکھو بھائی تم تو جانتے ہی ہو کہ تمہارا مراٹھا سماج 30 فیصد ہے اور ہم براہمن صرف 10 فیصد ہیں اس لیے فڈنویس سے نقصان ہوسکتا ہے۔
للن نے کہا ارے بھائی ویسے تو مسلمان بارہ فیصد ہیں ۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
آبادی کے علاوہ مہاراشٹر کی 75 فیصد زمین ، 55 فیصد تعلیمی ادارے ،70 فیصد کوآپریٹیو سوسائٹی اور81 فیصد شکر کارخانےمراٹھوں کے پاس ہیں
ہاں یار تم براہمنوں کے پاس سرکاری نوکری کے سوا کچھ بھی نہیں اور چاکری میں پیسے تو ملتے ہیں عزت نہیں ملتی۔
ہاں بھائی اسی لیے بال ٹھاکرے نے بھی ہمارے منوہر جوشی کو الیکشن سے پہلے ہٹا دیا تھا ۔
وہ تو ہے مگر مودی جی نے تو فڈنویس کو نہیں ہٹایا۔
کلن نے جواب دیا اسی لیے تو پچھلے انتخاب میں نہ صرف نشستیں گھٹ گئیں بلکہ سرکار بھی نہیں بن پائی ۔
ارے بھائی لیکن اس بار تو زبردست کامیابی مل گئی نا؟
ہاں مگر براہمن وزیر اعلیٰ تھوڑی نا تھا؟ وہ توایک مراٹھا وزیر اعلیٰ اور دوسرے نائب وزیر اعلیٰ کے مراٹھا ہونے کی وجہ سے ہوا ۔ ورنہ ۰۰۰
ورنہ کیا ؟ فڈنویس انتخاب نہیں جیت پاتے؟
میں تو کہتا ہوں بری طرح ہار جاتے۔ یہ مراٹھوں اور اوبی سی کے اشتراک کا کمال ہے۔ ماضی میں کانگریس یہ کرتی رہی اس بار ہم نے کردیا ۔
للن نے سوال کیا تو کیا تمہارا مطلب ہے برہمن ووٹرس سے کوئی فرق نہیں پڑا؟
پڑا کیوں نہیں ۔ مسلمانوں کے جو ووٹ کانگریس کو ملتے تھے وہ ہمیں نہیں ملتے اس کمی کو برہمنوں نے پورا کیا ہے بس۔ کیا سمجھے؟
اچھا تو کیا مسلمانوں اور برہمنوں کی سیاست میں کوئی فرق نہیں ہے؟
بہت بڑا فرق ہے۔ وہ اپنی ساری توانائی اپنے اندر صرف کردیتے ہیں جبکہ ہم لوگ مراٹھوں اور او بی سی میں گھس کر کام کرتے ہیں ۔
اچھا !مگرپھر بھی تمہاری باتوں سےایسا لگتا ہے کہ اس بار پھر تو فڈنویس کی دال نہیں گلے گی ؟
کلن بولا جی ہاں لیکن مودی ہے تو ممکن ہے۔ وہ آخری وقت میں کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ہم لوگ اسی پر امید لگائے بیٹھے ہیں ۔
اچھا ہے لگے رہو۔ امید پہ دنیا قائم ہے۔
Post Views: 198
Like this:
Like Loading...