Skip to content
اڈانی اور مودی :
من تو شُدم تو من شُدی،
من تن شُدم تو جاں شُدی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایوان پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آئین پر بحث کے حوالے سے تو اتفاق رائے ہوگیا مگر اڈانی اور سنبھل پر اختلافات جاری ہیں۔ حزب اختلاف کا گوتم اڈانی پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کا اصرار ہے۔ اس معاملے میں پہلے تو اپوزیشن نے یہ سوال کیا تھا کہ مودی سے اڈانی کارشتہ کیا کہلاتا ہے؟ پھر کہا کہ اڈانی اور مودی : ایک رہیں گے تو سیف (محفوظ) رہیں گے لیکن اب کھل کر کہا جارہا ہے’اڈانی اور امبانی ایک ہیں یعنی ایک جان دو قالب ہیں۔ اسی لیے اڈانی کا نام آتے ہی سارے مودی بھگت ارکانِ پارلیمان تڑپ جاتے ہیں ۔ ایسے میں امیر خسرو کا وہ فارسی شعر یاد آتا ہے جس کا مفہوم ہے ( میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے، میں تن ہوں اور تو جان ہے۔ پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے)۔ مفہوم سے قطع نظر جو مٹھاس اور موسیقی اصل شعر میں ہے وہ ترجمانی میں کہاں ؎
من تو شُدم تو من شُدی، من تن شُدم تو جاں شُدی تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری
ہندوستان میں چونکہ رشوت خوری عوام کے ڈی این اے شامل ہوگئی ہے اور عام شہریوں کے رگوں میں خون کے ساتھ دوڑتی ہے اس لیے انہیں حیرت ہے کہ ایک ہندوستانی سرمایہ کار ،سرزمین ہند پر اپنے ہی ملک کے سرکاری اہلکاروں کو رشوت دے تو اس پر امریکہ کو اعتراض کیوں ہے؟ اڈانی کی کمپنی میں اگر امریکی سرمایہ کاری نہ ہوتی تو یہ منطق درست ہوتی ۔امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق اڈانی گروپ نے ۳؍ بلین ڈالر کے قرض اور بونڈس حاصل کرنے کیلئے امریکی سرمایہ کاروں سے اپنی بدعنوانی کو چھپایا۔ کیس کی تفصیلات میں کہا گیا کہ ملزمین نے امریکی سرمایہ کاروں کو جھوٹے دعوؤں کے ذریعے راغب کیا اور رشوت کی ادائیگی کو پوشیدہ رکھا۔استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ اڈانی اور دیگر ملزمین نے امریکی سرمایہ کاروں سے فنڈس اکٹھا کرنے کے منصوبے کی بابت کذب گوئی کی ۔
مودی یگ میں جھوٹ کو عیب نہیں بلکہ خوبی سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں بھی اس کا بول بالہ ہے لیکن وہاں کوئی پکڑا جائےتو اسے سزا دی جاتی ہے جبکہ یہاں پر پہلے اسے عدلیہ سے کلین چٹ ملتی ہے ۔ اس کے بعد مہوا موئترا یا راہل گاندھی جیسے لوگوں کو معتوب کیا جاتا ہے ا ور بالآخرملزم کو انعام و اکرام سے نوازہ جاتا ہے۔ گوتم اڈانی کے ساتھ ایسا کئی بار ہوچکا ہے۔ امریکہ کا معاملہ ہندوستانی عدلیہ سے مختلف ہے ۔ وہاں تحقیق و تفتیش کے بعد جب ثبوتوں پر اطمینان ہوجائے تبھی قدم بڑھایا جاتا ہے ۔ اسی لیے اڈانی کے خلاف کارروائی میں کئی ماہ لگے ۔ وہاں ایسا نہیں ہوتا کہ عمر خالد گرفتارتو ہوجائیں مگر مہینوں تک فردِ جرم ہی داخل نہ ہو۔ یہ بھی نہیں کہ کوئی اوٹ پٹانگ الزام لگا کر ای ڈی کسی کو گرفتار کرلے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ذمہ داری خود ملزم کے سر تھوپ دی جائے ۔
امریکی شہر بروکلین کی عدالت میں محکمہ انصاف اور قومی پرا سیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے دائر کئے گئے اس مقدمے میں اڈانی اور ان کے ساتھیوں پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ہندوستانی حکومت سے شمسی توانائی کے ٹھیکے حاصل کرنے کیلئے 250؍ ملین ڈالر (تقریباً 2100؍ سو کروڑ روپے) رشوت دی۔ امریکہ کے اندر سرمایہ دار کھلے عام سیاستدانوں پر روپیہ لٹاتے ہیں۔ بل گیٹس کھلم کھلا کملا ہیرس کی حمایت کرتے ہیں اور ایلون مسک کے ذریعہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بلاتکلف چندہ دیا جاتا ہے ۔ سرمایہ داروں کی اس شفاف حصے داری کو برا نہیں سمجھا جاتاکیونکہ یہ ڈھکی چھپی رشوت نہیں ہے۔ اڈانی جی یہ کام کھل کر نہیں بلکہ ڈھکے چھپے انداز میں غیر قانونی تعاون حاصل کرنے کی خاطر کرتے ہیں ۔ اس لیے امریکی انتظامیہ کو اس پر شدید اعتراض ہے۔ امریکی معاشرہ اس معنیٰ میں بھی ہندوستانی سماج سے مختلف ہے کہ وہاں معاشی جرائم کو بھی فوجداری کی مانند نہایت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ امریکہ میں یہ کتنامہا پاپ ہے اس کا اندازہ اینرون کی بدعنوانی کے معاملے سے کیا جاسکتا ہے۔
اینرون کمپنی کے مالک کینیتھ لے اور اڈانی کی شخصیت میں کمال کی مشابہت ہے نیز دونوں کا گھوٹالا بجلی کی پیداوار یعنی توانائی کے شعبے سے ہے۔ کینتھ بھی اڈانی کی طرح ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے تھے اور اپنی محنت سے سامراج کھڑا کیا تھا۔ اڈانی گروپ کی طرح اینرون کا نام بھی نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں مشہور تھا۔ حکومت کے ساتھ مسٹر لے کےگہرے تعلقات تھے۔ انہوں نے امریکہ کی دونوں کی بڑی سیاسی جماعتوں سے اپنے تعلقات استوار رکھے تھے یہی بات اڈانی کے بارے میں کہی جارہی کہ ان کے بی جے پی کے علاوہ کانگریسی وزرائے اعلیٰ سے بھی مراسم ہیں ۔ 1990 کی دہائی میں ان کی کمپنی اینرون نے دونوں سیاسی پارٹیوں کو لابی کرنے والی کمپنیوں کےتوسط سے ساٹھ لاکھ ڈالر کے قریب عطیہ دیاتھا ۔ اڈانی نے مرکزی و صوبائی حکومتوں کو کتنی رشوت دی یہ باتیں چھن چھن کر باہر آرہی ہیں ۔
کینتھ لے سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ گولف کھیلتے تھے اور ان کے بعد آنے والے جارج بش انہیں قربت کے سبب ’کینی بوائے‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئےگوتم اڈانی بھی سیاسی سرمایہ کاری کرکے نریندر مودی کے منظور نظر بن گئے۔ بعید نہیں کہ آگے چل کر اڈانی اور راہل میں دوستی ہوجائے۔ بیس سال کے اندر کینتھ نے اینرون کوامریکہ کی ساتویں اور دنیا میں توانائی کی خریدوفروخت کرنے والی سب سے بڑی کمپنی بنا دی تھی ۔ اڈانی کا ارتقاء بھی اس سے کم نہیں ہے۔دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں نے اینرون کے حصص خریدے تھے اور ہزاروں نے اپنے مستقبل اور ریٹائرمنٹ کی امیدیں اس سے وابستہ کر رکھی تھیں۔ ایک زمانے میں ہندوستانی سرمایہ کار اینرون کے شیئر خریدتے تھے اب امریکی لوگ اڈانی کی کمپنی میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ آگے چل کر یہ انکشاف ہوا کہ کینیتھ لے اور جیفری سکلنگ اپنےچیف فنانشل افسر اینڈریو فیسٹو کے ساتھ مل کر کمپنی کے کھاتے میں گھپلا کر کے اس کے خسارے کو چھپا رہے ہیں۔اڈانی پر بھی اسی قسم کے الزامات ہیں مگر پکڑے جانے پر اینرون دیوالیہ ہو گئی۔ سرکار یا سرکاری ادارے اس کی مدد کے لیے آگے نہیں آئے جیسا کہ ہندوستان میں ہوتا ہے۔
اینرون کے دیوالیہ پن نے چار ہزار لوگوں سے ان کی نوکریاں چھین لیں اور اس کے حصص میں سرمایہ لگانے والے ہزاروں لوگ اپنی جمع پونجی کھو بیٹھے۔ ذاتی طور پر کینیتھ لے ایک کے بعد ایک کئی مقدمات میں پھنستے چلے گئے یہاں تک کہ گرفتار بھی ہوئےمگر اپنے جرائم کا اعتراف نہیں کیا بلکہ خود کو ہمیشہ بےقصور بتاتے رہے یہی حال اڈانی کا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اڈانی کب گرفتار ہوتے ہیں؟ بڑے مراسم کے باوجود کینیتھ لے کو امریکی عدالت سے کلین چٹ نہیں ملی بلکہ انہیں دھوکہ دہی کا مجرم قرار دےکر فیصلہ محفوظ رکھ دیا گیا۔ ان کو اپنے جرائم کے عوض پچیس سے پینتالیس سال قید کی سزا سنائی جانے والی تھی کہ ان کاانتقال ہوگیا۔ اس عبرتناک داستان میں گوتم اڈانی کے لیے در س عبرت ہے۔ اینرون کی مثال دینے کا مقصد یہ ہے کہ اس معاملے کو ہندوستانی عدلیہ کی مانند ہلکے میں نہ لیا جائے۔
فی الحال امریکی عدالت میں دائر کردہ پانچ نکاتی فرد جرم میں گوتم ادانی کے فرزند و ارجمند ساگر اڈانی، وینیت ایس جین اور دیگر افراد پرسنگین الزامات لگائے گئے ہیں ۔ ان میں سے کچھ امریکہ، سنگاپور، آسٹریلیا اور ہندوستان میں مقیم ہیں۔ عدالتی دستاویزات میں ’فارین آفیشل ون ‘ کے طور پر آندھرا پردیش کے ایک سرکاری اہلکار کی شناخت کی گئی ہے۔ ان سب پر امریکی وفاقی قوانین کے تحت انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے الیکٹرانک شواہد مٹا نے اور جسٹس ڈپارٹمنٹ، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) اور ایف بی آئی کے نمائندوں سے جھوٹ بولنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس معاملے میں ایس ای سی نے ایک علاحدہ دیوانی مقدمہ بھی دائر کیا ہے۔ پراسکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اڈانی گروپ اور اڈانی گرین اینرجی کے سابق سی ای او وینیت جین نے قرضوں اور بونڈس کی شکل میں۳؍ بلین ڈالر سے زیادہ رقم اکٹھا کی جبکہ اپنی بدعنوانی کو قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے چھپایا۔فرد جرم کے مطابق’بِگ مین‘ جیسے کوڈ نام سے جانے والےگوتم اڈانی کے بیٹے ساگر اپنے موبائل فون کے ذریعے رشوت سے متعلق معاملات پرنگاہ رکھتے تھے۔گوتم اڈانی کے تنازع پر پر رویش کمار کا تبصرہ ضرب المثل بن گیا ہے کہ موصوف پورا ہندوستان تو خرید سکتے ہیں مگر امریکہ جانے ٹکٹ نہیں خرید سکتے۔ یعنی وہ ملک بھر میں پھیلے ہوئےبے شمار اڈانی گروپ کے زیر انتظام ہوائی اڈوں کے باوجود کسی سے امریکہ جانے کی جرأت نہیں کرسکتے ۔ اڈانی نے بڑے ارمانوں سے ٹرمپ کی کامیابی کے لیے دعا کی مگر ان کو کملا ہیرس کی بددعا لگ گئی ۔ اب یہ حال ہے کہ ٹرمپ کی کامیابی کے باوجود گوتم اڈانی ہر شکیل کا یہ شعر ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
میں دعا تو کر رہا تھا کہ ہیرس نے بد دعا دی
ترا ہاتھ زندگی بھر کبھی ٹرمپ تک نہ پہنچے
Post Views: 196
Like this:
Like Loading...