Skip to content
جمعہ نامہ : مشاورت ، عادت و ضرورت یاحیلہ و مجبوری
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے: (لوگو) جو (مال ومتاع) تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائدار) فائدہ ہے۔ اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے‘‘۔ آگے جہانِ فانی کے مقابلے ابدی جنت کے مستحقین کی بابت فرمایا :’’ (یہ) ان لوگوں کے لئے(ہے) جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں‘‘۔ ایمان اور توکل کا تعلق تو عقائد سے ہے مگر پھر اعمال کی تفصیل میں فرمان ِ خداوندی ہے: ’’ اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصّہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں‘‘۔ ان معاشرتی و اخلاقی صفات کے بعد تلقین کی گئی :’’ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘۔ یہاں پر احکامات خداوندی کی بجا آوری کےذیل میں نماز قائم کرنے، باہمی مشاورت اورانفاق پر ابھارا گیا۔
عام طور پر صلوٰۃ و زکوٰۃ ساتھ آتے ہیں مگر یہاں درمیان میں مشاورت کا ذکراس کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے۔ اس کا گہرا تعلق آگے والے حکم سے ہے کہ :’’ اورجب ان پر کوئی ظلم ہوتا ہے تو اس کا بدلہ لیتے ہیں‘‘۔ یعنی خوف و مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے حتی المقدور مزاحمت و مقابلہ کرتے ہیں۔گویا ایمان و توکل کے بنیادی تقاضوں میں یہ بھی شامل ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کے مطابق انہوں نے کسی اورکو رسولِ اکرم ﷺسے زیادہ مشورہ کرنے والا نہیں پایا حالانکہ نبی کی حیثیت سے آپ ﷺ اس حاجت سے بے نیاز تھے مگرمشورے کو تربیت کے ذریعہ امت کی عادتِ ثانیہ بنادیا گیا۔ سیرت نبی ﷺ میں قدم قدم پر صحابۂ کرام ؓسے مشورہ کے واقعات ملتے ہیں۔
جنگ بدر کے بعد آپﷺ نے اسیرانِ بدر کے بابت مشورہ فرمایا کہ انہیں معاوضہ لے کر رہا کر دیا جائے یا قتل کیا جائے ۔ غزوہٴ اُحد سے پہلے پوچھا کہ مدینہ کے اندر رہ کر مدافعت کی جائے یا باہر نکل کرمقابلہ کیا جائے؟ غزوہٴ خندق میں عینیہ بن حصن کے قریش سے الگ ہونے کی شرائط کو حضرت سعد بن معاذ ؓ اورحضرت سعد بن عبادہ ؓ نے مناسب نہیں سمجھاتو آپ ﷺنے ان دونوں کی رائے شرف قبولیت عطاکی۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر اُم المومنین حضرت اُمِ سلمہؓ کے مشورے پر عمل کیا بلکہ اذان کی بابت بھی صحابہؓ سے مشورہ کیا کہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ نبی اکرمﷺ اہم امور اورمعاملات میں صحابۂ کرامؓ سے مشورہ کرکے اس پرعمل فرماتے تھے۔
نظام جمہوریت میں عوام کے مشورے سے حکمراں کے انتخاب کوبہت بڑی خوبی کہا جاتا ہے۔ الیکشن کے دوران جو ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں ان سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ کیا انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد مشاورت کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے؟ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد کیا منتخب شدہ سربراہ عوام یا ان کے نمائندوں سے مشورہ کرنا ضروری سمجھتا ہے؟ امریکہ کو دنیا کی سب سے عظیم اور مثالی جمہوریت کہا جاتا ہے۔ فی الحال نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف اہم ذمہ داریوں پر تقررات فرما رہے ہیں مثلاً کش پٹیل کو ذاتی وفاداری کے عوض ایف بی آئی کا سربراہ نامزد کردیا گیالیکن کیا اس اہم ترین فیصلہ کرنے سے قبل عوام کے نمائندوں سے رائے لی گئی ؟ یا حماس کو دھمکی دینے سے پہلے عوام کے نمائندوں کو اعتماد میں لیا گیا؟ اگر نہیں تو کیا جمہوری عمل میں انتخاب کے بعد رائے شماری محض ایک رسم اوراپنی من مانی کرنے کا جواز نہیں ہے؟
مغرب نے اپنی ایک ضرورت کے تحت دین اسلام سے مشورہ کا عمل تومستعارلیا مگر اس کی روح سے بے بہرہ رہا ۔ مہاراشٹر کے اندر انتخاب کے 13؍ دن بعد بی جے پی کے منتخب شدہ ارکان اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اس میں مرکز کی پرچی سے فال کھلا اور عوام کے نمائندوں نے اعلیٰ کمان کے فیصلے کی آنکھ موند کر تائید کردی کیونکہ ہر کسی کواپنا ذاتی مفادات عزیز ہے ۔ کوئی بھی مرکزی فیصلے کے خلاف زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرسکا ۔ کیا ایسے ابن الوقت اورچاپلوس عوامی نمائندوں سے آزادی کاتحفظ اور عزت نفس کےاحترام کی توقع مناسب ہے؟ جمہوریت کو آمریت کا واحد متبادل سمجھنے والوں کوجبر واستبداد کی قبا میں پائے کوب اس نیلم پری کے سحر سے نکلنا چاہیے۔ نظام جمہوریت میں مشورہ چونکہ محض اقتدار کے حصول کا ایک وسیلہ بن کر رہ گیا ہے اس لیے عوام اور حکمراں دونوں مشاورت کے فیوض و برکات سے محروم ہیں۔
امت کو مشاورت کی ترغیب دینے کے لیےرسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی انسان مشورے سے کبھی نا کام اور نامراد نہیں ہوتا اور نہ ہی مشورہ ترک کر کے کبھی کوئی بھلائی حاصل کرسکتا ہے‘‘۔ موجودہ حکمرانوں کے ہاتھ آنے والی ناکامی اور شرمندگی کی ایک وجہ مشورے سے اجتناب ہے ۔ رسول اکرمﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ :’’ مشورہ شرمندگی سے بچاؤ کا قلعہ ہے اور ملامت سے مامون رہنے کا ذریعہ ہے۔‘‘ اس ہدایت پر عمل کرکے فرانس کے وزیر اعظم مشیل بارنئیر تین ماہ کے اندر برطرفی کی رسوائی سے بچ سکتے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کی نصیحت یہ بھی ہے کہ : ’’کوئی انسان مشورے کے بعد ہلاک نہیں ہوتا۔‘‘فرانس کے صدر میکرون اوروزیر اعظم مشیل کو وہی خود پسندی لے ڈوبی جس سے حضرت علیؓ نے خبردار کیا تھا کہ :’’ مشورہ عین ہدایت ہے اور جو شخص اپنی رائے سے ہی خوش ہوگیا، وہ خطرات سے دوچار ہوا‘‘۔
آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’ جس نے استخارہ کیا، وہ نا کام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہیں ہوا۔‘‘ اہل ایمان کو چاہیے کہ نبی اکرمﷺ کی اس ہدایت گرہ میں باندھ لیں جو آپﷺ نے حضرت ابوسلمہؓ کے ذریعہ یہ پوچھے جانے پر دی تھی کہ:’’ اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کا ذکر نہ تو کہیں قرآن میں ہو اور نہ سنت میں تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ نبیٔ رحمتؐ نے فرمایا تھا :’’ اس معاملے پر مسلمانوں کے صالح لوگ غور کرکے اس کا فیصلہ کریں گے‘‘۔باہمی امور میں مشاورت پر دین اسلام میں بہت زور دیا گیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور رسول کریم ﷺکی سنت ہےلہٰذا امت کے اجتماعی امور سے متعلق ہر اہم فیصلے کے لیے مشاورت کا اہتمام لازمی ہے۔
Post Views: 242
Like this:
Like Loading...