بھارت میں بھڑکاو بھاشن کرتا کون بھرتا کون
مولانا سہیل عالم ندوی کے خلاف سیمی کا 23 سال پرانا کیس بری
از قلم عبدالواحد شیخ، ممبئی
8108188098
آج ہم بات کریں گے حال ہی میں میجسٹریٹ کورٹ بدوہی گیانپور اتر پردیش انڈیا کی عدالت کے ایک فیصلے کے بارے میں، عدالت میں صبیحہ خاتون نامی مجسٹریٹ نے حال ہی میں 23 سال پرانے سیمی کے ایک کیس سے پانچ لوگوں کو باعزت بری کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا یہ ہے کہ مولانا سہیل عالم ندوی صاحب اور ان کے ساتھ چار لوگوں نے 27 ستمبر 2001 کو عظیم اللہ چوراہا بدوہی میں اور اس کے اس پاس پوسٹر چپکائے، دیوالی کے موقع سے جگہ جگہ ہندو مخالف نعرے لکھے، سیمی پر پابندی کے باوجود چوراہے پہ کھڑے رہ کر تقریر کی، لوگوں کو بھڑکایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک رات جب پولیس محلے میں گشت کر رہی تھی تو ایک اہم خبری نے پولیس والوں کو بتایا کہ سیمی کی سرگرمیاں کافی بڑھ گئی ہے اور رات کو وہ لوگ اپنی سیمی آفس پر میٹنگ کر رہے تھے۔
آپ کو بتا دے کہ خبری یا انفارمر ایک ایسا معمہ ہے جو پولیس والے کسی بھی شخص کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ خبریوں کا جال معاشرے میں پولیس نے نہیں پھیلایا ہے، پولیس والے ان خبریوں کو پیسے بھی دیتے ہیں اور خبریں وصول بھی کی جاتی ہے۔ لیکن کسی کو غلط پھنسانا ہو تو امیجینیر ی ان فارمر کھڑے کیے جاتے ہیں اور ان کا سہارا لے کر مختلف الزامات لگا کر پولیس والے کسی کو بھی جیل بھیج دیتے ہیں ۔ نہ عدالتیں ایسے خبریوں پر سوال اٹھاتی ہے نہ پولیس ان خبریوں کے احوال عدالت کے سامنے پیش کرتی ہے جو کہ بہت ہی افسوس ناک مقام ہے۔
اس کیس میں خبری نے مزید بتایا کہ پولیس والوں کے آنے پر سیمی والے بھاگ گئے اور اج دیوالی کے موقع پر وہ لوگ کئی جگہ فرقہ واریت بھڑکانے اور ملک مخالف سرگرمیوں کے پوسٹر چپکائے کو ہے اور دیواد پر دیوالی کے نعرے لکھے ہیں۔ وہ خبری سیمی کے ممبر سہییل احمد ندوی کی تقریر سن کرآرہا ہے۔ بھڑکاؤ بھاشن سے بدوہی میں تناؤ پھیل گیا ہے۔ اپ جانتے ہیں کہ 23 سال پہلے بھڑکاؤ بھاشن نہیں ہو رہے تھے، بلکہ جھوٹے الزامات کے تحت ملزم مسلم نوجوانوں کو جھوٹے کیسز میں پھنسایا جا رہا تھا۔ جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ حال ہی میں بالی وڈ کے مشہور بوڑھے اداکار متھن چکروورتی نے تقریر کے دوران ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کے سامنے بھڑکاؤ بھاشن دیا ہے اور مسلمانوں کو مارنے کاٹنے اور سبق سکھانے کی بات کہی ہے۔
لیکن ان کے خلاف ہوم منسٹر کی موجودگی میں نوٹس نہیں لیا گیا اور ان کے خلاف کوئی کیس نہیں بنایا گیا ۔ برخلاف اسکے،جھوٹے خبریوں کو کھڑا کر کے مسلمانوں کے خلاف آئے دن کیس بنانے کا سلسلہ پچھلے کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے ۔ خبری نے کہا کہ سیمی آفس میں فرقہ وارانہ تناؤ پھیلانے کے لیے کتابیں پوسٹر اور دیگر چیزیں موجود ہیں پولیس اس خبر پر یقین کر لیتی ہے اور تقریر کی جگہ پہنچتی ہے۔ اور پولیس نے سہیل ندوی کو تقریر کرتے ہوئے پایا۔ پولیس کا الزام ہے کہ تقریر کرتے ہوئے سہیل ندوی یہ کہہ رہے تھے کہ مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت کے لیے جہاد چھوڑ دیا ہے ، اسامہ بن لادین کی مدد کے لیے ایک ہونا پڑے گا ، امریکہ اسلام کے خلاف ہے اسے سبق سکھانا ہے ۔
ساتھ ہی ساتھ بابری مسجد برباد کرنے والے ہندو لوگوں سے بھی بدلہ لینا ہے اور انہیں نیست و نابود کرنا ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ پولیس کو دیکھ کر وہ لوگ بھاگ گئے کچھ لوگ نعرے لگانے لگے۔ اسلام زندہ باد ہندو کافر مردہ باد ۔ اور پولیس نے ان پر کیس بنایا۔ ائی پی سی کی سیکشن 153، 295 اور یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج ہوتا ہے ۔ پانچ لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور انہیں جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمین دیوالی پر فرقہ وارانہ پوسٹر لگائے اور وہ ڈرنے والے نہیں ہیں۔ پولیس کا دعوی ہے کہ انہوں نے سیمی آفس سے میگزین، اسامہ بن لادن کے پوسٹر برآمد کیے۔
چارج شیٹ آتی ہے اور ان پانچ ملزمین کے خلاف کل پانچ گواہ 23 سال تک کورٹ میں پیش کر کے ٹرائل کا ناٹک کیا جاتا ہے ۔ ملزمین کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔ پولیس نے جھوٹا مقدمہ بنایا ہے ۔ دشمن کی سازش اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس ایسا کر رہی ہے ۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی تقریر اور پوسٹر سے بھارت کے اکھنڈتا اور ایکتا کو نقصان ہوا۔ مذہبوں کے درمیان نفرت پھیلائی ۔ اس لیے ان کو سزا دی جانی چاہیے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ دن رات آج کل ملک میں جو لوگ نفرتی بھاشن دے کر ماحول خراب کر رہے ہیں، کھلے عام سیول وار کی ، مسلمانوں کے قتل عام کی، مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی ، مسلمانوں کی مساجد اور درگاہوں کے انہدام کی بات کر رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی کب ہوگی اور انہیں سزا کب دی جائے گی؟ اس کیس کے اہم گواہ جو کمپلیننٹ ہیں, نے کورٹ میں آکر گواہی دی مگر وہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ دیوار پر دیوالی کے کون سے نعرے لکھے گئے تھے؟ پوسٹر میں کیا لکھا گیا تھا ؟
میگزین میں کیا لکھا تھا ؟ سیمی آفس سے کیا کیا برآمد ہوا ؟ اس نے کہا کہ اس نے سارے کاغذات، میگزینس تو دیکھے مگر پڑھے نہیں اور کسی سے پڑھوائے بھی نہیں ۔ عدالت نے پایا کہ 2001 میں پولیس نے جو چیزیں ضبط کی تھی عدالت کے سامنے وہ چیزیں پیش نہیں کی گئی۔ گواہوں میں ایک پولیس والے کو سیمی کا پورا نام پوچھا گیا تو اس نے’ اسٹوڈنٹس یونین اف انڈیا ‘ایسا جواب دیا۔ پولیس نے جو سی ڈی ضبط کیے وہ سنی نہیں، پتہ نہیں اس میں فلمیں گانے تھے یا بھاشن تھا،پولیس کو یہ بھی نہیں معلوم ۔ پولیس والوں کے علاوہ کسی کا بیان مجمع سے نہیں لیا گیا، نہ ہی گواہوں کو بلایا گیا ۔
کس قدر مزحقہ خیز بات ہے کہ ایک مجمع کے سامنے مولانا سہیل ندوی تقریر کر رہے ہیں پولیس وہاں پہنچتی ہے ملزمین وہاں سے بھاگ جاتے ہیں لیکن اس مجمع میں سے ایک بھی گواہ پولیس والے کو نہیں ملتا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے لوگوں کو گواہی کے لیے کہا مگر لوگوں نے انکار کر دیا۔ عدالت نے سوال اٹھایا ہے کہ ان لوگوں کے نام اور پتے پولیس کے پاس نہیں ہے اور ان کے خلاف پولیس نے کوئی قانونی چارہ جوئی کی اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس کی پوری کہانی جھوٹی ہے ۔ مجمع کے سامنے کوئی تقریر نہیں ہوئی تھی۔ اسی لیے کوئی گواہی کے لیے سامنے نہیں آیا۔ پولیس کا پورا کیس مشکوک ہے –
عدالت نے کہا کہ دگمبر ویشنو ورسز سٹیٹ اف چھتیس گڑھ میں ہائی کورٹ نے کہا کہ جب ملزمین کے خلاف دو رائے ہیں ایک ان کو مجرم ثابت کرے اور ایک ان کو بے گناہ ثابت کرے تو ملزم کی حمایت کرنے والی رائے کو قبول کیا جائے گا ۔ یہ قانون کا سنہری اصول ہے۔ اس کیس میں مناسب سینکشن بھی نہیں لیا گیا ہے پولیس اپنا کیس شک سے بالاتر ثابت نہ کر سکی اس لیے عدالت نے سبھی ملزمین کو تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا۔ اگر اپ اس کیس کی ارڈر کاپی اور اس پر بنے ویڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک میں دیکھ سکتے ہیں ۔ شکریہ