Skip to content
مہاراشٹرا ۔کمزور ہوئی مراٹھا قیادت
ازقلم: شیخ سلیم
مہاراشٹر کی سیاست میں حالیہ دنوں میں ایک اہم تبدیلی دیکھی گئی جب ایک برہمن وزیر اعلیٰ کا تقرر عمل میں آیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف سیاسی حلقوں میں بحث کا سبب بنا ہوا ہے بلکہ مراٹھا سماج کے اندر گہرے اثرات مرتب کر گیا ہے۔ مراٹھا سماج، جو ریاست کی سیاست میں طویل عرصے سے ایک غالب قوت رہا ہے، اس تقرری کو تاریخی پس منظر میں دیکھ رہا ہے، جہاں پیشوائی دور کی تلخ یادیں ایک بار پھر زندہ ہو گئی ہیں۔
مہاراشٹر میں 1960 میں ریاست کے قیام کے بعد سے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر زیادہ تر مراٹھا سماج جس کی آبادی 35٪ کے قریب ہے کا غلبہ رہا ہے۔ اب تک ریاست کے 10 وزرائے اعلیٰ مراٹھا سماج سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں یشونت راؤ چوان، وی پی نائک، شانکر راؤ چوان، شرد پوار، سدھاکر راؤ نائک، ولاس راؤ دیشمکھ، اشوک چوان، پرتھوی راج چوان، ایکناتھ شندے اور اجیت پوار شامل ہیں۔ دوسری طرف برہمن سماج سے صرف تین وزرائے اعلیٰ بنے ہیں، جن میں بالا صاحب گوکھلے، منوہر جوشی اور دیویندر فڈنویس شامل ہیں۔
برہمن وزیر اعلیٰ کی حالیہ تقرری کو مراٹھا سماج ایک سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہا ہے، جسے وہ اپنی سیاسی حاشیہ نشینی کی ایک اور کوشش سمجھتا ہے۔ مراٹھا سماج کے لیے پیشوائی دور کی تلخ یادیں آج بھی زندہ ہیں، جب برہمنوں کا مہاراشٹر کی سیاست اور انتظامیہ پر غلبہ تھا، جسے مراٹھا عوام عدم مساوات اور محرومی کے دور کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات میں یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ کہیں یہ پیشوائی کی واپسی نہ ہو۔بھاجپا نے آر ایس ایس کی مدد سے اپنی سیاسی حکمت عملی سے دوسرے سبھی سماج کے لوگوں تک نہ صرف پہونچ بنائی بلکہ اُنکے ساتھ ایک سماجی اتحاد قائم کیا ہے۔ جسکا فائدہ اسمبلی انتحابات میں دیکھنے ملا۔
بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی نے بھی مراٹھا سماج میں ناراضگی کو ہوا دی ہے۔ پہلے شیو سینا کو توڑ کر ایکناتھ شندے کو ساتھ ملایا گیا اور اب شرد پوار کی پارٹی این سی پی کو تقسیم کرکے اجیت پوار کو حکومت میں شامل کیا گیا ہے۔ ان تمام اقدامات کو مراٹھا قیادت کو کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مراٹھا سماج پہلے ہی رزرویشن کے مسئلے پر برہم ہے اور کسان خودکشیوں، بے روزگاری اور نوجوانوں کے غیر یقینی مستقبل کے مسائل سے پریشان ہے۔ ایسے میں برہمن وزیر اعلیٰ کا تقرر ان کے لیے ایک نیا زخم بن کر ابھرا ہے۔
یہ تمام سیاسی تبدیلیاں مہاراشٹر کے آئندہ بلدیاتی انتخابات پر بھی گہرے اثرات ڈالیں گی۔ مراٹھا ووٹ بینک، جو ریاست کی سیاست کا اہم ستون ہے، تقسیم کی حالت میں نظر آتا ہے۔ شیو سینا (ادھو دھڑا) اور این سی پی (شرد پوار دھڑا) اس موقع کو اپنی حمایت بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف برہمن ووٹ بینک، جو بی جے پی کا مضبوط حامی ہے، دیویندر فڈنویس کی قیادت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے دونوں کو مزید سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے دونوں لیڈروں کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کے ووٹ بھی آنے والے انتخابات میں اہم کردار ادا کریں گے، اور وہ ممکنہ طور پر بی جے پی مخالف امیدواروں کی حمایت کریں گے۔
مراٹھا سماج اپنی سیاسی طاقت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے نئے اتحاد اور تحریکوں کی طرف جا سکتا ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اس ناراضگی کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کریں گی۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ حالات کس حد تک سیاسی منظرنامے کو بدلیں گے، لیکن یہ واضح ہے کہ مہاراشٹر کی سیاست ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔ موجودہ حالات میں مراٹھا اور برہمن قیادت کے درمیان جدوجہد آئندہ سیاسی منظرنامے کی سمت کا تعین کرے گی۔
Post Views: 67
Like this:
Like Loading...