Skip to content
بابری مسجد سے سنبھل کی جامع مسجد تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
پچھلے32؍ سالوں سے پر سال 6؍ دسمبر کو دنیا بھر کے مسلمان بابری مسجد کو یاد کرکے یہ عزم تازہ کرتے ہیں جب تک پھر سے وہاں اذان بلند نہیں ہوگی ہماری جدوجہداور دعاوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ مسلمانوں کے لیے سیاہ دن ہےاور عدالتِ عظمیٰ نے بھی اسے یہی کہا ہے ۔ ہندو انتہا پسند اس کو ’شوریہ دیوس ‘ یا ’یوم شوکت‘ کہتے ہیں لیکن اگر ایسا ہی ہے تو بی جے پی سرکار کے اشاروں پر کام کرنے والی این سی آر ٹی نصابی کتابوں میں بابری مسجد کو تین گنبد والا ڈھانچہ کیوں کہتی ہے؟ این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر اس حذف کا یہ جواز کیوں پیش کرتے ہیں گجرات فسادات اور بابری مسجد کے انہدام کے ذکر سے سماج میں تشدد اور افسردہ شہری پیدا ہو سکتے ہیں ۔ دنیش پرساد سکلانی کا کہنا ہے کہ ’’ ہم سماج میں مثبت شہری پیدا کرنا چاہتے ہیں نہ کہ پرتشدد اور افسردہ افراد”۔ ان کے مطابق تعلیم کا مقصد معاشرے میں نفرت پیدا کرنا یا طلبا کو اس کا شکارکرنا نہیں ہے۔ اس کے معنیٰ یہی ہوئے کہ خود ہندووں کے نزدیک بھی یہ شوکت و فخر کی نہیں شرم و ندامت کی شئے ہے اس لیے اسے ہٹایا اور چھپایا جارہا ہے۔
فی لحال ملک بھر میں مساجد اور درگاہوں کے سروے کا شور بپا ہے ۔ سنبھل میں پانچ نوجوانوں کی شہادت بھی ہوچکی ہے ۔ بابری مسجدکو تو خیر 1528ء میں اودھ کے حاکم میر باقی اصفہانی نے تعمیر کرواکر اسےشہنشاہ بابر سے منسوب کیا تھا لیکن سنبھل کی مسجد کوتو بابر کے حکم پر 1529 میں میر بیگ نے تعمیر کیا تھا۔ بابر کا نام سنتے ہی جن فرقہ پرستوں کا خون کھولتا ہے انہیں مؤرخ و محقق پروفیسرشری رام شرما کی کتاب مغل امپائرکا مطالعہ کرلینا چاہیے جس کےصفحہ، 55(مطبوعہ 1945) میں لکھا ہے کہ ’’ہمیں کوئی ایسی شہادت نہیں ملتی ہے کہ بابر نے کسی مندر کو توڑا ہے “۔ اسی طرح تاریخ کے پروفیسررام پرشاد کھوسلا اپنی کتاب مغل کنگ کے صفحہ 207(مطبوعہ 1934) میں رقمطراز ہیں ” بابر کی تزک(بابر نامہ )میں ہندوؤں کے کسی مندر کے انہدام کا کوئی ذکر نہیں ہے، وہ مذہبی تعصب اور تنگ نظری سے بری تھا‘‘۔اندھے بھگتوں کی نہ سہی عام آدمی کی آنکھیں تو ان حقائق کو پیش کرنے سے کھلیں گی۔
مسلم دور ِ سلطنت میں تو کسی کی مجال نہیں تھی کہ مساجد کی جانب بری نظر سے دیکھتا مگر جب انگریز وں نے آخر ’بانٹو اور راج کرو‘ کی حکمت ِ عملی اختیار کی کچھ فرقہ پرست عناصر کے حوصلے بلند ہوگئے اور انہوں عدالت سے رجوع کیا ۔ مولانا عبدالحمید نعمانی کی تحقیق کے مطابق 1878 میں ہائی کورٹ نے جامع مسجد سنبھل کے مقدمہ پر چھیدا سنگھ بنام محمد افضل کیس میں ہندو فریق کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دے کر فیصلہ دیاتھا کہ اس عمارت کے طویل زمانہ سے بہ طور اسلامی مسجد کے استعمال کثیر شواہدموجود ہیں ، عدالت کے مطابق یہ کہنا ناقابل توجیہ حدتک لغو ہے کہ بہ وقت ضرورت اسے ہندو بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس لیے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر اسٹوارٹ نے عدالتی اخراجات کو ہندو فریق پر ڈال کر اس دعوے کو خارج کردیا تھا ۔ فی الحال سنگھ پریوار کی سرکار ’بانٹو اور راج کرو ‘ کے معاملے میں اپنےفرنگی آقاوں سے چار قدم آگےبڑھ گئی ہے اور اسے وقتاً فوقتاً عدلیہ کا تعاون بھی ملتا رہتا ہے۔
ان سنگین حالات میں جبکہ سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کی ہدایت کے باوجود بھی کہ ہر مسجد کے نیچے شیولنگ ڈھونڈنا کیوں ضروری ہے اور اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے ایک آتش فشاں پھٹاہوا ہے۔ ایسے میں بابری مسجد کی برسی سے صرف ایک دن قبل سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن نریمن نے ملک بھر میں ایک کے بعد ایک مساجد کے خلاف مقدمات درج ہونے سے روکنے کا ایک نہایت معقول طریقہ تجویز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایودھیا کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سیکولرازم کےحوالے سے انصاف کا مذاق ہے، لیکن اس میں درج 1991 کے عبادت گاہوں کے قانون کو برقرار رکھنے کی حمایت والے پانچ صفحات امید کی کرن ہیں۔ انہوں نے یہ درد مندانہ اپیل کی کہ اس فیصلے کے مذکورہ پانچ صفحات ملک بھر کی نچلی عدالتوں اور عدالت عالیہ میں پڑھے جائیں۔جسٹس نریمن کے مطابق ایودھیا تنازعہ پر آئینی بنچ کے فیصلے میں وہ پانچ صفحات ملک بھر میں جاری اس قانونی چارہ جوئی کا جواب ہیں جن کے تحت مندروں پر مبینہ طور پر تعمیر کی گئی مساجد کا سروے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جسٹس نریمن نے کہ پیچھے نہیں دیکھنے اور آگے دیکھنے کی تلقین کی ہے۔
ایودھیا کے بعد کاشی اور متھرا سے ہوتے ہوئے اب یہ معاملہ سنبھل کی جامع مسجد اور خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ تک پہنچ گیا ۔ اجمیر کے ڈپٹی میئر نیرج جین کے مطابق راجستھان کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک تاریخی ‘اڈھائی دن کا جھونپڑا’ مسجد کی جگہ پہلےسنسکرت کالج اور مندر کے ثبوت ملے ہیں۔جسٹس نریمن نے اسے ہائیڈرا ہیڈز یعنی کئی سروں اور شاخوں والے مقدمات سے تعبیرکرکے انہیں روکنے اور جلانے کا واحد طریقہ ان پانچ صفحات پرعملدر آمد میں بتایا ۔ وہ اسے سپریم کورٹ کی طرف سے قانون کا اعلان مان کر ا س کے نفاذ کو لازم مانتے ہیں لیکن مذکورہ فیصلے کو لکھنے والے چیف جسٹس چندچوڑ نےخود اسے نظر انداز کرکے گیان واپی محلے میں واقع جامع مسجد کے سروے اجازت دے دی اور وہیں سے یہ پنڈورا بکس کھل گیا ۔ اب جسٹس کھنہ اپنے پیشرو کے ناعاقبت اندیش فیصلے کو مسترد نہ کریں تو یہ سلسلہ نہیں رکے گا ورنہ جسٹس نریمن بولتے اور دشینت دوبے روتے رہیں گے اور ظالمانہ سروے جاری وساری رہیں گے۔
سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس روہنٹن نریمنایک طرف عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991 کے ذریعہ مذہبی عمارتوں کے تحفظ پر زور دے رہے ہیں اور دوسری جانب اس کی دفعہ 2، 3 اور 4 کو بدنامِ زمانہ فتنہ پرور وکیل اور سیاستداں اشونی کمار اپادھیائے نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ایکٹ کی دفعہ 3 کسی ایک مذہب یا فرقے کی عبادت گاہ کو دوسرے مذہب میں تبدیل کرنے کو جرم قرار دیتی ہے۔ سیکشن 4 میں اعلان کیا گیا ہے کہ عبادت گاہ کے کردار کا تعین اسی طرح کیا جائے گا جیسا کہ یہ 15 اگست 1947 کو تھا۔ وہ عدالتوں کو 15 اگست 1947 کے بعد کسی عبادت گاہ کو تبدیل کیے جانے کے تعین سے بھی روکتی ہے کہ ۔ ایکٹ کی 5 ویں شق میں بابری مسجد تنازع کو اس سے مستثنیٰ کیا گیا تھا۔ اشونی کمار نےعدالت سے ایکٹ کے سیکشن 2، 3 اور 4 کو غیر آئینی قرار دینےکی استدعا کی ہے۔ اس کے مطابق عدالتی نظرثانی آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہے اور اسے کوئی چھین نہیں سکتا۔ پٹیشن کے مطابق یہ ایکٹ ایک مخصوص مذہبی برادری کو ترجیح دیتا ہے جو سیکولرازم کی خلاف ورزی ہے ۔ اب اگر عدالتِ عظمیٰ اس ایکٹ کو غیر آئینی قرار دے ڈالے تو وہ شاخ ہی نہیں رہے گی جس پر جسٹس نریمن آشیانہ تعمیر کرنے کی سعی فرما رہے ہیں ۔
یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2019 کو ایودھیا میں 1949 میں مسجد میں مورتیاں رکھے جانے اور مسجد کے انہدام کو غیر قانونی فعل قرار دیا تھا۔اس کے باوجود بابری مسجد کے انہدام میں ملوث بی جے پی کے رہنما اور کارسیوکوں مثلاً ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ سمیت تمام 32 ملزمان کو عدالت نے یہ کہہ کر بری کر دیا کہ ان کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں۔اب اگر عدالت کی آنکھوں پر سرکار پٹی باندھ دے تو بھلا وہ شواہد کو کیسے دیکھ سکتی ہے؟ حالانکہ ممبئی فسادات کی تحقیقات کرنے والے بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس بی این سری کرشنا کمیشن نے بھی مسجد کے اندر 1949 میں مورتیاں رکھنا اور 1992 میں مسجد کے انہدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کی رتھ یاترا کو انہدام کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ لیکن کمیشن کی سفارشات کے باوجود قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
عدالتوں سے پچھلے دنوں مدرسہ ایکٹ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور بلڈوزر کے حوالے سے کئی اچھے فیصلے بھی آئے لیکن سارے کے سارے مبنی بر انصاف نہیں تھے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ عدالتیں سرکار کے چشم ِ ابرو کا پاس و لحاظ رکھتی ہیں الا ماشاء اللہ اس لیے اگر ملک کے عوام ایسےحکمرانوں کو اقتدار سےبے دخل کر دیں کہ جن کا واحد مطمحِ نظر اقتدار کی خاطر اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت ہے تو اس یہ مسائل جزوی طور پر حل ہوسکتے ہیں یا ان کی شدت میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ بابری مسجد کی شہادت اس حقیقت پر گواہ ہے کہ سرزمین ہند پر دین اسلام مغلوب ہے اس لیے غلبۂ دین کی جدوجہد ہر مسلمان پر لازم ہے ۔ اس ملک کے اندر مسلمانوں و دیگر طبقات پر مظالم کا خاتمہ اور عدل و قسط کا پائیدار قیام اقامتِ دین کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس لیے موجودہ مسائل کا بہترین حل غلبۂ دین کی جدوجہد ہی ہے۔ ویسے مسلمانوں کو اپنی عبادتگاہوں کی حفاظت خوکرنی ہوگی کیونکہ بقول معراج فیض آبادی ؎
اپنے کعبے کی حفاظت ہمیں خود کرنی ہے
اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا
Post Views: 290
Like this:
Like Loading...