Skip to content
مہاراشٹر کی مہا بھارت کا انجام کیا ہوگا؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
حالیہ صوبائی انتخاب کے نتائج سے مودی اور شاہ کی جوڑی کو ڈبل جھٹکا لگا۔ اول تو جھارکھنڈ کی ناکامی سے موٹا بھائی اور چھوٹا بھائی کا سیاسی قد بہت گھٹ گیا اور مہاراشٹر کی کامیابی نے فڈنویس اور آر ایس ایس کا قامت کافی بلند کر دی۔ 2014کے انتخاب میں فڈنویس کو کوئی نہیں جانتا تھا ۔ ساری انتخابی مہم مودی لہر کے سہارے چلائی گئی تھی ۔ اس وقت جھارکھنڈ اور مہاراشٹر دونوں ریاستوں میں بی جے پی کو کامیابی ملی اور اس کا پورا کریڈٹ نریندر مودی کو دے دیا گیا۔ 2019 کے صوبائی انتخاب کے اندر مودی کا جادو فیل ہوگیا ۔ پارلیمانی انتخاب میں پہلے سے بہتر کارکردگی کے باوجود مہاراشٹر اور جھارکھنڈ دونوں ریاستوں میں بی جے پی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ 2024؍ کے پارلیمانی انتخاب میں مہاراشٹر کے اندر مودی پھر سے ناکام ہوگئے لیکن ریاستی الیکشن میں وزیر اعظم کی مدد کے بغیر فڈنویس نے بی جے پی کو 2014 سے بڑی کامیابی سے ہمکنار کردیا۔
مہاراشٹر کے ان نتائج کے بعد ایک پرانا نعرہ ’نریندر کے بعد دیویندر‘ پھر سے بلند ہونے لگا ۔ امیت شاہ کے لیے یہ خطرے کی بہت بڑی گھنٹی تھی کیونکہ اترپردیش میں پہلے ہی وہ اپنے ایک حریف کو ہٹانے کی کئی کوششوں میں ناکام و نامراد ہوچکے تھے ۔ دیویندر فڈنویس کو یوگی ادیتیہ ناتھ پر اس معنیٰ میں بھی فوقیت حاصل ہے کہ وہ نیکر دھاری سنگھی ہیں۔ یوگی ادیتیہ ناتھ کی مانند ان کے پاس کوئی مٹھ نہیں ہے جس کی بنیاد پر سنگھ پریوار یا بی جے پی سے بے نیاز ہوکر وہ اپنی سیاست چلا سکیں ۔ اس معنی ٰ میں دیویندر فڈنویس کا بی جے پی پر انحصار بہت زیادہ ہے نیز سنگھ کے سنسکار ان کو وراثت میں ملے ہیں ۔ ان کا تعلق چونکہ ناگپور سے ہے اس لیے آر ایس ایس کے بڑے رہنماوں سے ان کے قریبی تعلقات ہیں۔ ایسے میں امیت شاہ کے لیے یوگی کو ہٹا کر اپنے وفادار کیشو پرشاد موریہ کو وزیر اعلیٰ بنانا جتنا آسان ہے ، فڈنویس کونمٹانا اتنا سہل نہیں ہے۔ اس لیے وہ مودی کی ولیعہدی کے ایسے دعویدار بن کر ابھر سکتے ہیں جن کو آر ایس ایس کی پوری حمایت حاصل ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ ہریانہ کے نائب سنگھ سینی کی مانند دیویندر فڈنویس کے نام کا اعلان ہونے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی۔
امیت شاہ نے اپنے دوسرے متوقع حریف کا کا نٹانکالنے کے لیے مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے بعد دس دنوں تک مہاراشٹر میں جو کٹھ پتلی کا کھیل چلا اس کی ڈور امیت شاہ کے ہاتھوں میں تھی۔ وہ پردے کے پیچھے ہونے کے سبب دکھائی تو نہیں دیتے تھے مگر ایکناتھ شندے کی ساری اچھل کود انہیں کے مرہون منت تھی ۔ اس کا کھلے عام اظہار ایکناتھ شندے نے حلف برداری کے وقت اپنی بے موقع تقریر میں کیا۔ ایکناتھ شندے اس سے قبل کابینی وزیر اور وزارت اعلیٰ کے عہدے کا حلف لے چکے ہیں ۔ ان سے قبل دیویندر فڈنویس نے حلف لے کر یاد دہانی کردی تھی کہ حلف برداری کے وقت بھاشن بازی نہیں کی جاتی ۔اس کے باوجود ایکناتھ شندے نے آو دیکھا نہ تاواپنی جیب سے کاغذ نکالا اور شروع ہوگئے۔
ایکناتھ شندے نے ابتداء تو بال ٹھاکرے اور آنند دیگھے کو خراجِ عقیدت سے کی مگر پھر لگے مودی اور شاہ کی تعریف توصیف کرنے ۔ یہی اس تقریر کا مقصد تھا مگر جب ان کی گاڑی کا بریک فیل ہوگیا اور وہ کسی انتخابی جلسے کی مانند عوام کو مخاطب کرنے لگے تو گورنر نے بری طرح ٹوک دیا۔ اس سے موصوف اس قدر گھبرائے کہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر حلف لینے لگ گئے ۔مذکورہ بالا معاملہ ایکناتھ شندے کی غیر مستحکم ذہنی کیفیت کا غماز تھا اس لیے کہ ان سے پہلے اور بعد میں حلف لینے والے فڈنویس اور پوار نے ایسی کسی بوکھلاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ ایکناتھ شندے کی اس حالت کے لیے پوری طرح امیت شاہ ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے دیویندر فڈنویس کی راہ روکنے کے لیے سابق وزیر اعلیٰ کا بھر پور استعمال کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ شندے طرح طرح کے نامعقول شرائط رکھتے رہے ۔ پہلے ان کا کہنا تھا چونکہ انتخاب ان کی قیادت میں لڑا گیا اس لیے انہیں کو وزیر اعلیٰ ہونا چاہیے حالانکہ خود امیت شاہ کہہ چکے تھے کہ یہ فیصلہ بعد میں ہوگا ۔ انہوں نے یہ اشارہ بھی کردیا تھا کہ پہلے ہم نے قربانی دی ہے اب دوسروں کے لیے قربانی دینے کا موقع ہے۔
بی جے پی کے اشتہارات میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ صرف دیویندر فڈنویس کی تصاویر کا ہونا بھی اسی حقیقت کا غماز تھا ۔ ایکناتھ شندے کی شیوسینا کو صرف 81 ؍ نشستوں پر لڑنے کا موقع دیا گیا تھا ایسے میں اگر وہ صد فیصد کامیابی حاصل کرلیتے تب بھی ان کا 149 نشستوں پر لڑنے والی بی جے پی سے آگے بڑھ جانا ناممکن تھا۔ انتخاب سے قبل یہ بات طے ہوگئی تھی کہ اگر یوتی کامیاب ہوجائے تو اگلا وزیر اعلیٰ بی جے پی کا ہی ہوگا اور اگر مرتے پڑتے کامیابی ملتی تو شرد پوار کے خوف سے لازماً دیویندر فڈنویس کو ان کے تجربے کی بنیاد پر فوراً یہ ذمہ داری سونپ دی جاتی ۔ مہاراشٹر کے اندر اس غیر معمولی اکثریت کے بعد تجربہ اور ذہانت جیسی صفات ثانوی درجہ میں چلی گئیں۔ حزب اختلاف کے رہنما سے محروم ایوان اسمبلی میں جہاں اپوزیشن پوری طرح مایوس و منتشر ہو اپنی من مانی کرنے کے لیے تعداد ہی کافی ہے۔ ایسے میں امیت شاہ نے ایکناتھ شندے کے کندھے پر بندوق رکھ کر فڈنویس کا شکار شروع کردیا لیکن آر ایس ایس کی مخالفت کے سبب دال نہیں گلی ۔
سابق وزیر اعلیٰ نے جب محسوس کیا کہ ان کا دوبارہ وزیر اعلیٰ بننا ناممکن ہے تو ان سے کہلوایا گیا کہ صرف ۶؍ مہینے کے لیے ممبئی میونسپل الیکشن تک انہیں وزیر اعلیٰ رہنے دیا جائے ۔ یہ تجویز بھی مسترد ہوگئی تو وہ بیماری کا بہانہ بناکر گاوں چلے گئے۔ یہ مضحکہ خیز حرکت تھی کیونکہ گاوں سے لوگ علاج کرانے کی خاطر شہر آتے ہیں ۔ شاہ اور شندے کے اس کھیل تماشے میں دس دن کا طویل عرصہ گزرگیا ۔ اس بیچ ایوان اسمبلی کی مدت کار بھی ختم ہوگئی نیز سوشیل میڈیا میں خوب جگ ہنسائی ہونے لگی تو ایکناتھ شندے نائب وزیر اعلیٰ کے ساتھ وزارت داخلہ پر اڑ گئے ۔وہ آخری وقت تک اپنی مانگ پر اڑے رہے یعنی حلف برداری کی تقریب کے لیے آزاد میدان میں ہزاروں لوگ جمع ہوگئے مگر وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس دوران حلف برداری کی تقریب سے دوگھنٹہ قبل اس کا دعوتنامہ میڈیا میں آگیا جس میں صرف دیویندر فڈنویس کی حلف برداری کا ذکر تھا ۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ ہنوز ایکناتھ شندے راضی نہیں ہوئے ہیں۔
اجیت پوار تو ایک دن قبل بھری محفل میں اپنا ارادہ ظاہر کرچکے تھے۔ اس لیے شندے کو محسوس ہوا کہ وزیر اعظم کی موجودگی میں ان دونوں کی حلف برداری ہوجائے گی اور اس باغیانہ تیور کے لیے بعید نہیں کہ آگے چل کر سابق وزیر اعلیٰ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جائے ۔ اس لیے مرتا کیا نہ کرتا وہ آخری لمحات میں حاضر ہوگئے اور منہ لٹکاکر حلف برداری کرلی ۔ ایکناتھ شندے پر بی جے پی سے زیادہ دباو خود اپنے ارکان اسمبلی کا تھا ۔ یہ 57 ؍ لوگ اپنے رہنما کی حمایت کرنے کے بجائے انہیں حلف برداری کے لیے راضی کرنے کی کوشش کررہے تھے اس لیے کہ انہیں معلوم تھا شندے اگر حلف نہ لیں تب بھی حکومت سازی تو ہوجائے گی اور اجیت پوار کے ساتھ مل کر دیویندر فڈنویس بڑے عام سے سرکار چلائیں گے لیکن اس ضد کی قیمت انہیں چکانی پڑے گی ۔ وہ اقتدار کی موج مستی سے محروم ہوجائیں گے ایسے میں جن لوگوں نے وزارت کی خاطرڈھائی سال قبل ادھو ٹھاکرے سے بغاوت کی تھی وہ ایکناتھ شندے کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر سیدھے بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے۔
مہاراشٹر کی یہ سیاسی اتھل پتھل کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ مدھیہ پردیش ، راجستھان اور ہریانہ کا تجربہ دوہرا نے میں نریندر مودی اور امیت شاہ کی جوڑی اب کامیاب نہیں ہوپارہی ہے۔ کسی نامعلوم چہرے کے ہاتھ میں اقتدار کی باگ ڈور تھماکر اسے زندگی بھرکے لیے احسانمند بنا لیااور اس کے ذریعہ اپنی مرضی چلانے کا کھیل اب ختم ہوگیا ہے۔ اب ایسے لوگوں کی مدد سے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے دن لد گئے ہیں جو مرکز کی اجازت کے بغیر اپنے طور سے کوئی بھی اقدام کرنے کی جرأت نہ کریں ۔ ایک زمانے میں شیوراج چوہان جیسے طاقتور اور نریندر مودی سے بھی زیادہ تجربہ کار وزیر اعلیٰ کے ساتھ یہ ممکن تھا لیکن اب دیویندر فڈنویس کو اس لاٹھی سے ہانکنا ممکن نہیں ر ہا۔ مودی اور شاہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ اب وہ نہ ماضی کی طرح طاقتور ہیں کہ سندھیا اور چوہان کو کنارے کرسکیں اور نہ آر ایس ایس پہلے کی طرح کمزور ہے کہ آسانی سے سپر ڈال دے ۔ ایکناتھ شندے کی حالتِ زار اور دیویندر فڈنویس کے اقتدار کی دھار سنگھ پریوار کے اندر جاری و ساری مہابھارت کا اشارہ ہے۔ دواپر یُگ کی مہابھارت تو تمام فریقوں کی تباہی و بربادی پر منتج ہوئی تھی اب کل یگ کی یہ خانہ جنگی کیا گل کھلائے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔
Post Views: 300
Like this:
Like Loading...