Skip to content
دمشق میں آزادی کا جشن اور ظلم کے سیاہ دور کا خاتمہ
ازقلم: شیخ سلیم
آج دمشق کی فضاؤں میں خوشی کی صدائیں گونج رہی ہیں، کیونکہ بشار الاسد اقتدار چھوڑ کر ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ ترپن برس پر محیط ظلم و جبر کا وہ تاریک دور، جس کی بنیاد حافظ الاسد نے رکھی اور بشار الاسد نے اس میں مزید شدت پیدا کی، بالآخر اپنے اختتام کو پہنچا۔ شامی عوام نے نصف صدی تک ایسے مظالم سہے جن کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے، اور جن کی گونج آج بھی دلوں کو زخمی کر دیتی ہے۔
1971 میں حافظ الاسد نے اقتدار سنبھالا اور ملک میں آمریت کا سایہ گہرا کر دیا۔ 1982 کا حماہ قتل عام ان کے مظالم کا سب سے بھیانک باب تھا، جس میں اندازاً چوبیس ہزار شہریوں کو بےدردی سے قتل کیا گیا۔ ان بے گناہ انسانوں کا جرم محض یہ تھا کہ وہ آزادی اور انصاف کی بات کرتے تھے۔ جب حافظ الاسد کے انتقال کے بعد 2000 میں بشار الاسد برسرِ اقتدار آئے تو امید کی جا رہی تھی کہ شاید اب شام میں کچھ بہتری آئے گی، اصلاحات متعارف ہوں گی، مگر وہ بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلے اور ظلم و ستم کا ایک نیا باب شروع ہوا۔
2011 میں عرب بہار کی لہروں نے جب شام میں بھی کروٹ لی، تو شامی عوام نے جمہوریت اور بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ یہ پرامن مظاہرے جلد ہی حکومتی جبر کا شکار ہو گئے۔ مظاہرین پر گولیاں برسائی گئیں، گرفتاریاں ہوئیں، اور ملک میں خانہ جنگی چھڑ گئی۔ بشار الاسد کی حکومت نے شہروں کو تباہ کر دیا، رہائشی علاقوں، اسکولوں، اور اسپتالوں پر بمباری کی گئی۔ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس سے معصوم بچے، عورتیں، اور بزرگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق 2011 سے اب تک شام میں پانچ سے سات لاکھ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں، جن میں زیادہ تر سنی مسلمان ہیں۔ ہزاروں افراد کو جیلوں میں اذیتیں دی گئیں یا انہیں ہمیشہ کے لیے غائب کر دیا گیا۔ لاکھوں بچے یتیم اور ہزاروں عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ کئی شامی قیدیوں کو مجاہدین نے رہا کروایا، مگر ظلم کا یہ طویل سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
شامی مسلمانوں کے قتلِ عام میں صرف شامی حکومت ہی نہیں بلکہ کئی عالمی قوتیں بھی ملوث رہیں۔ روس اور ایران نے بشار الاسد کی حکومت کی بھرپور حمایت کی، روس نے 2015 میں شام پر فضائی حملے شروع کیے اور کئی شہروں کو کھنڈر بنا دیا۔ ایران نے اپنے جنگجو گروہوں کو شام بھیجا، جبکہ حزب اللہ کے جنگجو بھی اس قتل و غارت میں پیش پیش رہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بھی اپنے مفادات کی جنگ لڑی، جس میں بے شمار بے گناہ شہری مارے گئے۔ آج بھی ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں، جہاں قدرتی وسائل موجود ہیں، امریکی فوج نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ہزاروں امریکی فوجی وہاں موجود ہیں اور شامی عوام اپنے ہی وسائل سے محروم ہیں۔
یہ جنگ صرف جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے شامی عوام کی زندگی کو ہر لحاظ سے تباہ کر دیا۔ ایک کروڑ تیس لاکھ شامی شہری بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے ساٹھ لاکھ سے زائد افراد دوسرے ممالک میں پناہ گزین کی حیثیت سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ترکی میں تقریباً پینتیس لاکھ شامی مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے، اسکول، اسپتال، بازار سب کھنڈر میں تبدیل ہو چکے ہیں، اور شام کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے۔
آج جب دمشق میں آزادی کا جشن منایا جا رہا ہے، یہ ان لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے آزادی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔ ظلم و ستم کا یہ طویل باب شاید اب بند ہو چکا ہو، مگر ان مظالم کے نشان ابھی باقی ہیں۔ امید کی ایک نئی کرن ابھر رہی ہے کہ شاید شامی عوام کو اب سکون، انصاف، اور عزت سے جینے کا موقع ملے گا۔ وہ دن دور نہیں جب شام ان شاء اللہ دوبارہ امن، خوشحالی، اور ترقی کے راستے پر گامزن ہو گا، اور ظلم کے سیاہ بادل ہمیشہ کے لیے چھٹ جائیں گے۔عوام اپنی مرضی سے جی سکیں گے ۔
افسوس کی بات یہ ہے دنیا خاموشی سے شامی مسلمانوں کے قتل و غارتگری کو دیکھتی رہی کسی نے بھی یہ نہیں کہا شام کے مسلمانوں کو اپنی مرضی سے اپنے عقیدے سے زندگی گزارنے کا حق ہے مغربی ممالک نے بشار الاسد کی حکومت بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ایران اور حزب اللہ نے بشار الاسد کی حکومت بچانے کے لیے اپنی پوری طاقت جھونک دی دنیا بڑے آرام سے آزادی کے متوالوں کو دہشت گرد کہتی رہی اقوام متحدہ نے زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ انسانی حقوق کے علمبردار تماشائی بنے رہے۔اُمید ہے اب شام میں ایک نئی صبح طلوع ہوگی۔
Post Views: 140
Like this:
Like Loading...