خواتین کانفرنس بعنوان "ہمارا معاشرہ،ہماری ذمہ داری ”
بہار کے مختلف اضلاع میں خواتین کانفرنسز کا کا میاب انعقاد!
دربھنگہ ، ململ اور پٹنہ میں آٹھ سے زائد کانفرنسز ، خصوصی اجلاس اور دانشور خواتین کے لئے انٹیلیکچول میٹ۔
"معاشرے کاہر فرد تعلیم یافتہ ہوگاتبھی معاشرے کی ترقی ہوگی” ڈاکٹر اسماء زہرہ
آل انڈیا مسلم ویمن اسو سی ایشن کی جانب سے ریاست بہار میں آٹھ مقامات پر کانفرنسز کے بعد پٹنہ شہر میں دو روزہ خواتین کنونشن ۷ اور ۸ دسمبر ،۲۰۲۴کو بمقام گیتی کنوینشن ، علی نگر اور پاٹلی پترا میں منعقد ہوا۔ جس میں سات ریاستوں سے خاتون مندوبات نے شرکت کیں۔دہلی، حیدرآباد،ممبئی، کولکاتہ، رانچی،،گجرات کے علاوہ مظفر پور، حاجی پور، کشن گنج، دربھنگہ، ململ، بھاگلپور اورپٹنہ کے مختلف علاقوں سے تقریبًا پانچ ہزار سے زائد خواتین نے شرکت کی۔
مقامی این جی او Help other، مدرسہ فاطمہ الزہرہ للبنات اور مدرسہ بشارت العلوم کے تعاون سے اضلاع میں پروگرام رکھے گئے۔جس کی کنوینرز محترمہ اختر جہاں فاطمہ ، محترمہ انور جہاں ، اور محترمہ کہکشاں خالد تھیں۔ محترمہ ڈاکٹر اسماءزہرہ صدر آل انڈیا مسلم ویمن اسو سی ایش نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور محترمہ ممدوحہ ماجد، نائب صدر ،نیودہلی اراکین میں محترمہ زینت مہتاب اور محترمہ تہنیت اطہر بطور اعزازی مہمان ، محترمہ شاداب قمر، ڈاکٹر شہلا، محترمہ ٖفردوس فاطمہ اور محترمہ اسماء نے شرکت کی اور خطاب کیا۔
۷ دسمبر ۲۰۲۴ کو گیتی کنونشن ، علی نگر ،پٹنہ میں صبح گیارہ بجے اسکول اور کالج کی طالبات کےلئے پہلا سیشن بنت المسلم کونسل کی جانب سے منعقد ہوا۔ بنت المسلم کونسل کی پٹنہ ٹیم کی طالبات محترمہ عائشہ، محترمہ حالہ، محترمہ آمنہ جعفری ،محترمہ ھما اطہر، محترمہ نوشین ، محترمہ ثنا، اور محترمہ ثمن نے آداب بنت المسلم، حجاب ایک چیلنج، کرئیر اور فیملی بیلنس ، بی ایم سی ویژن جیسے اہم عنوانات پر مخاطب کیا اور بنت المسلم کونسل کا تعارف پیش کیا گیا ۔ اسکول کالج کی طالبات میں ایمان و عمل صالح، تعلیم و تربیت ، دعوت و اصلاح،اورترقی و تحفظ کے کاموں پر زور دیا گیا۔ اس کنوینشن میں البا اکیڈمی، نجم اسکول ، ہولی ویژن اسکول، المومنات الاسلامیہ گرلس اسکول اور اطراف و اقناف کے دیگر اسکول و کالج کی لگ بھگ ڈھائی سو سے زائد طالبات نے شرکت کی۔
دوسرا سیشن دوپہر دو بجے خواتین ہوم میکرس کے لئے اسی کنوینشن ہال میں رکھا گیا، اس سیشن میں اسلام میں خواتین کا مقام، موجودہ دور میں مسلم خواتین کی ذمہ داریاں، صالح معاشرے کی تعمیر میں مسلم خواتین کا رول، دور جدید کے چیلیجز، حجاب کی اہمیت، بے جا رسومات کے خاتمے کی ضرورت اور تحفظ نسل مسلم پر زور دینے کی اپیل کی گئی۔
ڈاکٹر اسماء زہرہ ، صدر AIMWA نے اپنی خصوصی خطاب میں اولاد کی تربیت ، سماج اور خاندان کو شریعت کی تعلیمات کے مطابق تعمیر کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلم خواتین کو حکومتی اور قانونی طریقے سے دین سے دور کیا جا رہا ہے، مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوشش ہے اور حجاب پر پابندی لگانے کے منصوبے کئے جا رہے ہیں۔
ایسے وقت میں شریعت اسلامی سے جڑنا اور تحفظ شریعت، تحفظ اوقاف اور تحفظ مساجد کی فکر کرنا ہر مسلم خاتون کی ذمہ داری ہے۔سماج اور معاشرے میں شعور بیدار کر کے انہیں تعلیم، تربیت اور ترقی کی راہوں پر آگے بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنا وقت، صلاحیت اور قابلیت دین کی خدمت میں لگائیں اور آل انڈیا مسلم ویمن اسوسی ایشن سے جڑ جائیں۔
محترمہ تہنیت اطہر صاحبہ نے مسلم طالبات میں دعوتی اور تربیتی کام کو عام کرنے اور ساتھ ہی ساتھ اصلاح معاشرے کی کوششوں میں دلچسپی لینے پر زور دیا اور کہا کہ بنت المسلم ملت اسلامیہ کا قیمتی سرمایہ ہے اور ان کی تعلیم تربیت کے ساتھ ان کے تحفظ کی فکر کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے بنت المسلم کونسل کی جانب سے چلائے جانے والے مختلف کورسز اور کلاسز کا تعارف دیا۔ جس میں خاص طور پر تعارف اسلام آن لائن کلاسز سے مستفید ہونے کی ترغیب دی ،جس کے ذریعے اسلام کی بنیادی باتیں لڑکیوں کو بتائی جاتی ہیں ۔ یہ کلاسز خاص ان بچیوں کے لئے ہے جو کالج اور اسکول جاتی ہیں۔ یہ کلاسز اتوار کے دن یا چھٹی کے دن رکھی گئی ہیں تاکہ وہ اس میں شریک ہو سکیں۔ اس پروگرام میں چھہ سو سے زائد خواتین اور طالبات نے شرکت کی۔
آٹھ دسمبر ۲۰۲۴،اتوار کے دن انٹیلکچولس کے لئے خصوصی نشست رکھی گئی ۔اس نشست میں اساتذہ، ڈاکٹرز، لائرز، جرنلسٹ ،بزنس ویمنس اور اسکولس و کالجز کی پرنسپلز اور دینی مدارس کی ذمہ دار بہنوں نے شرکت کی ۔اس انٹلیکچول میٹ میں اہم موضوع” خواتین کو پیش آنے والے مسائل اور ان کا حل "پر بہترین تبادل خیال ہوا ۔خواتین نے بتایا کہ بنیادی دینی اسلامی تعلیم کا فقدان ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
بہت سارے محلوں اور بستیوں میں بچے، لڑکے لڑکیاں دینی تعلیم سے دور ہیں اور ان میں شعور بیدار کرنا اور ان کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے جوڑنا وقت کی اہم ضروری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کی تدارک کی جانب توجہ دلائی گئی اور سب بہنوں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ خاندان اور سماج میں پائی جانے والی بدعات ، رسومات اور خرافات کا خاتمہ کریں گی ۔
اس دانشور خواتین کی نشست میں ڈاکٹرز بھی موجود تھیں ۔جنہوں نے خواتین میں صحت سے متعلق شعور کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ جس طرح تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے ، اسی طرح ہر مسلم آبادی میں کلینکس ،ہاسپٹلز اور زچگی خانوں کی ضرورت ہے اور ہم کو اس سمت میں فکر اور کوشش کرنا چاہیے ۔ڈاکٹرز میں موجود محترمہ ڈاکٹر شازیہ بدر، محترمہ ڈاکٹر فرح اور دیگر خواتین نے آل انڈیا مسلم ویمن اسوسی ایشن کے ساتھ تعاون کرنے کا وعدہ کیا ۔ٹیچرز اور اساتذہ میں کام کی ضرورت پر محترمہ ھدیٰ راول صاحبہ ، سیکریٹری AIMWA نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیچنگ کو ایک پروفیشن نہیں بلکہ ایک دینی خدمت کے طور پر انجام دینے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پیارے رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خود ایک معلم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طریقہ تدریس اختیار کیا تھا وہ ہم سب کے لیے مثالی ہے اور ہم سب کو اپنے اپنے علاقے میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور وہ بچے جو تعلیم سے دور ہیں، ان کو تعلیم سے جوڑنے پر زمینی سطح پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں موجود بے شمار اساتذہ جو مختلف ا سکولز ،کالجز اور دینی مدارس سے آئی تھیں انہوں نے تعاون کرنے کا وعدہ کیا اور AIMWA سے جڑ کر تعلیمی تحریک چلانے میں دلچسپی دکھائی۔ انجینیئرس ، لائرز اور جرنلسٹ نے بھی اپنی بات رکھی اور انہوں نے بتایا کہ سماج اور معاشرہ ایسا ماحول فراہم نہیں کرتا کہ مسلم لڑکیاں کیریئر میں آگے بڑھیں اور بہت ضروری ہے کہ ہماری لڑکیوں کے لیے محفوظ مقامات پر روزگار کے مواقع موجود ہوں تاکہ وہ لوگ اپنی صلاحیتوں سے روزگار بھی کما سکیں اور ملت کی ترقی میں حصہ دار بھی بنیں۔
محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ ، نائب صدر AIMWAنے سینیئر سٹیزنز خاص طور پہ جو بہنیں ریٹائر ہو چکی ہیں ، ان کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ ان کی ذمہ داری ابھی ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ سماج میں اصلاح پیدا کرنے کی بڑی ذمہ داری ان پر ہے اور ہمارا سماج اسی وقت تبدیل ہوگا جب ہماری سینیئر خواتین جو کہ نانی ، دادی اور ساس کی عمر کی ہیں وہ بھی اس میں اپنا بھر پور ا حصہ دیں اور سماج کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں ۔محترمہ زینت مہتاب صاحبہ نے محلہ واری سطح پر کام کی اہمیت پر زور دیا۔ محترم شاداب قمر صاحبہ بحیثیت پرنسپل نے اپنے تجربات بتائے ۔ محترمہ افروز فاطمہ جعفری صاحبہ نے ہوم میکرز اور پیرنٹس کی ذمہ داری پر زور دیا ۔
محترمہ ڈاکٹر شاہین نے آل انڈیا مسلم ویمن اسوسی ایشن کی پٹنہ یونٹ کو مضبوط کرنے کے لئے تعاون کی اپیل کی۔ محترمہ نصرت پروین ، صدر پٹنہ AIMWA نے پٹنہ یونٹ کی رپورٹ پیش کی۔ محترمہ نکھت خان، نائب صدر پٹنہ AIMWA نے درس قران پیش کیا ۔محترمہ اسماء پروین نے قرات کلام پاک پیش کیا۔ ۔آخر میں ترانہ پیش کیا گیا۔ محترمہ زینت مہتاب کی دعا سے یہ نشست اختتام پذیر ہوئی ۔ اس کامیاب انٹلیکچول میٹ میں تقریبا ڈیڑھ سو سے زائد خواتین اور طالبات شریک تھیں ۔