Skip to content
اہل باطل ہمیشہ سے پیغام حق کو پہچانے سے روکتے رہے۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد کا بیان
حیدرآباد (09/ دسمبر 2024ء)
حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب صدر جمعےۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اہل باطل ہمیشہ سے اہل حق کو دھمکاتے رہے ہیں اور ان کو پیغام حق پہچانے سے روکتے رہے۔ اللہ تعالیٰ تمام معلومات کا عالم ہے اور تمام ممکنات پر قادر ہے، وہ اپنے بندوں کی تمام ضروریات کو پورا کرنے پر قادر ہے، وہ ان سے تمام نقصان دو چیزوں کے دور کرنے اور تمام راحت کے امور پہنچانے پر غالب قدرت رکھتا ہے، سو وہ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے، سو اس کے بندہ کو اس کے غیر سے ڈرانا اور دھمکانا محض باطل ہے۔
الیس اللہ بکاف عبدہ ویخوفونک بالذین من دونہ ومن یضلل اللہ فما لہ من ھاد۔ترجمہ:کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے، یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا دوسرے (معبودوں) سے ڈرا رہے ہیں اور جس کو اللہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔کیا اللہ اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں ہے، یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا دوسرے (معبودوں) سے ڈرا رہے ہیں اور جس کو اللہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے اور جس کو اللہ ہدایت عطا فرمائے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے، کیا اللہ غالب منتقم نہیں ہے؟ سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اوپر کی آیت میں قرآت میں ”عبدہ“ کی جگہ ”عبادہ“ ہے، اس کا معنی ہے: کیا اللہ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں ہے؟
یعنی ضرور کافی ہے، اس نے حضرت نوح علیہالسلام کے مخالفین کو غرق کردیا اور ان کو مخالفین سے نجات دی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر نمرود کی بھڑکائی ہوئی آگ کو گلزار کردیا، حضرت یونس (علیہ السلام) کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا، حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں کے مظالم سے نجات دی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنو اسرائیل کو فرعون کے جبر اور استبداد سے بچایا تو گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سو اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! مخالفین اور دشمنوں سے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ اسی طرح کافی ہے جس طرح آپ سے پہلے رسولوں کے لیے اللہ تعالیٰ کافی تھا۔
اس آیت کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ہر نبی کی کافر قوم نے اپنے نبی کی تکذیب کی اور ان کو دھمکیاں دیں اور اللہ تعالیٰ نے اس نبی کو اس قوم کے ضرر سے محفوظ رکھا۔ پس مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع میں اپنے تمام معاملات اور تمام افعال اور احوال میں صرف اللہ تعالیٰ کو کافی سمجھیں تو ان کی ہم مہم میں اللہ تعالیٰ ان کو کافی ہوگا، حدیث میں ہے: حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فرماتے تھے کہ جس شخص نے اپنے تمام تفکرات کو صرف ایک فکر بنادیا اور وہ فکر آخرت ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیا کے تفکرات سے کافی ہوگا اور جو شخص دنیا کے احوال کے تفکرات میں منہمک رہا تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہورہا ہے۔
حدیث شریف میں ہے اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہو چکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے۔ اللہ تعالی ہم کو صحیح علم اور علم کی توفیق عطافرمائیں۔آمین۔
Post Views: 30
Like this:
Like Loading...