Skip to content
دہشت گرد تنظیم قرار دیئے جانے کے باوجود شامی باغی گروپ سے بات ہو سکتی ہے: امریکہ
واشنگٹن،10دسمبر (ایجنسیز)
امریکہ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ شامی باغی گروپ ھیئۃ التحریر الشام کے بطور ’غیرملکی دہشت گرد تنظیم‘ کے حوالے سے کوئی جائزہ نہیں لیا جا رہا، جس نے رواں ہفتے بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے یہ بھی کہا کہ ’نامزد کردہ دہشت گرد تنظیموں کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے اور نامزدگی کے باوجود امریکی حکام کو ان سے بات چیت سے نہیں روکا جا سکتا۔
شام کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’رواں ہفتے کے دوران جو کچھ ہوا، اس سے متعلق کوئی خاص قسم کا جائزہ نہیں لیا جا رہا، ہم اقدامات کی بنیاد پر ہمیشہ جائزوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور پابندیوں کے طریقہ کار میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے تاہم ابھی تک اس بارے میں کچھ نہیں ہو رہا۔انہوں نے کہا کہ اگر ھیئۃ التحریر الشام جس کو ’ایچ ٹی ایس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کی جانب سے اپنے لیبل کو تبدیل کرنے کے حوالے سے اقدامات سامنے آتے ہیں تو اس کے بارے میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
اس کا مکمل انحصار اس کے اقدامات پر ہو گا۔اگرچہ متھیو ملر نے کہا کہ ’ضروری نہیں کہ لیبل تنظیم کے اراکین اور امریکی حکام کو بات چیت سے روکے۔‘ تاہم دہشت گرد قرار دیے جانے کا لیبل اس کا نشانہ بننے والوں پر متعدد پابندیاں عائد کرتا ہے، جن میں ان تنظیموں کو ’مادی امداد‘ کی فراہمی پر پابندی بھی شامل ہے۔امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مناسب سے اپنے مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے امریکہ کو ایچ ٹی ایس کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہو گی۔
میتھیو ملر نے افغانستان سے امریکہ کے انخلا کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی طالبان کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ طالبان کو کبھی اس طرح سے نامزد نہیں کیا گیا تھا، بلکہ ’خصوصی طور پر نامزد دہشت گرد تنظیم‘ کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا لیبل ہے جو نسبتاً کم سخت پابندیوں کے ساتھ عمل میں آتا ہے۔تاہم اس ک باوجود میتھیو ملر نے کہا کہ ’جب یہ ہمارے مفاد میں ہو تو ہم ایک نامزد دہشت گرد تنظیم کے ساتھ بھی بات چیت کر سکتے ہیں۔
Like this:
Like Loading...