Skip to content
بشار گئےالجولانی آئے : الحاد گیا اسلام آیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ساری دنیا پریشان ہے کہ آخر شام میں بلا خون خرابے کے اتنا بڑا انقلاب کیسے آگیا اور وہاں کا کاغذی شیر اتنی آسانی سے ہتھیا رڈال کر کیونکر فرار ہوگیا ؟ اس سوال کانہایت بسیط جواب تختہ پلٹ سے قبل انقلاب شام کے رہنما ابو محمد الجولانی نے امریکی میڈیا کو دے دیا تھا لیکن چونکہ کوئی اس پر یقین نہیں کرسکا اس لیے وہ نظرانداز ہوگیا ۔ محمدحسین الشارع عرف ابو محمد الجولانی نے انقلاب سےپہلے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "اس حکومت کی شکست کے بیج ہمیشہ سے اس کے اندر تھے، ایران نے اس حکومت کو بحال کرنے اور اس کے لیے مزید وقت لینے کی کوشش کی، جبکہ روس نے بھی اسے پناہ دینے کی کوشش کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت کی موت ہوچکی ہے‘‘۔ بشار لاسد کا بغیر کسی مزاحمت کے بھاگ کھڑا ہونا اور فوج کے ذریعہ کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان دونوں نے آگے چل کر الجولانی سے اتفاق کرکے ایک مرے ہوئے اقتدار میں روح پھونکنے کی سعی لا حاصل نہیں کی ۔ اب دوسرا سوال یہ ہے کہ باغی تنظیم ہیئت تحریر الشام کیا چاہتی ہے؟ اس کا مقصد شام کو صدر بشارالاسد کی آمرانہ حکومت سے آزاد کرانے کے بعد اسلامی قانون کے تحت ریاست قائم کرنا ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ 54سال بعد ایک الحادی اقتدار کے بعد شام نے اسلام کی جانب رجعت کرلی۔
8دسمبر 2024 کو اپنے اولین خطاب کے لیے دمشق کی تاریخی مسجدِ اموی کا انتخاب کرکے ابو محمد الجولانی نے اپنے سمت سفر کا پتہ دے دیا۔ ان کے استقبال میں پوری مسجد اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی۔الجولانی کی تقریر کا جو جملہ سب سے زیادہ وائرل ہوا وہ تھا ’اب واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اب مستقبل ہمارا ہے۔‘ افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت خارجہ نے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر ’تحریک کی قیادت اور شام کے عوام‘ کو مبارکباد دی ۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا ’ہم امید کرتے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل اسی طرح آگے بڑھے گا جس طرح شامی عوام چاہتے ہیں اور ایک آزاد، فلاحی اسلامی نظام کے قیام کی راہ ہموار ہو گی۔ مشرقی افغانستان کے شہر جلال آباد میں طالبان کے متعدد حامیوں نے جھنڈے اٹھا کر بشار الاسد کے مخالف گروہوں کی فتح کا جشن بھی منایا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ بشار الاسد نے باغیوں کے دمشق تک پہنچنے کے دوران کسی مرحلے پر ایران سے مدد نہیں مانگی۔ وہ بولے اپنی حکومت اور ملک کی حفاظت بنیادی طور پر شامی فوج کی ذمہ داری تھی یہ نہ تو ہماری ذمہ داری تھی اور نہ ہم نے اسے اپنا فرض سمجھا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ شامی فوج باغیوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی اور کہیں بھی کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ یعنی بشار سے لے کر فوج تک نے کم ازکم آخری وقت میں کمال دانشمندی کا ثبوت دیا ۔
بشار الاسد کے بارے میں تو ساری دنیا جانتی ہے مگر اب یہ جاننا ضروری ہے کہ اس پر امن انقلاب کے قائد ابو محمد الجولانی کون ہیں ؟ ان کا اصل نام احمد حسین الشارع ہے اور وہ 1982 میں سعودی عرب کے شہر ریاض میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد پیٹرولیم انجینئر تھے۔یہ خاندان 1989 میں شام لوٹ کر دمشق کے قریب آباد ہوگیا۔ 2003 میں ابو محمد الجولانی عراق جاکر امریکی حملے کےخلاف مزاحمت کرنے کی خاطر القاعدہ میں شمولیت اختیار کی ۔اس مزاحمت کے دوران 2006 میں امریکی فوج کے ہاتھوں وہ گرفتار ہونے کے 5 سال بعد رہا ہو گئے۔ ابو محمد الجولانی آگے چل کر ابوبکر البغدادی کی قیادت میں "اسلامک اسٹیٹ ان عراق” کے اندر شامل ہوئے اور شام واپس آکر القاعدہ کے لیے مسلح جماعت النصرہ تشکیل دی۔ اپریل 2013 میں ابوبکر البغدادی نے داعش کو القاعدہ سے الگ کیا تو ابو محمد نے القاعدہ سے اپنی وفاداری برقرار رکھتے ہوئے داعش سے الگ ہوگئے۔ 2016 میں ابو محمد الجولانی نے دنیا بھر میں خلافت قائم کرنے کے بجائے صرف شام میں اسلامی حکومت پر توجہ مرکوزکردی۔
اس مرحلے میں ابو محمد الجولانی کے ذریعہ قائم کردہ ’ حیات التحریر الشام ‘ منظم کا بنیادی مقصد شام کو اسد خاندان کی مطلق العنان حکومت سے آزاد کرانا اور ملک کو ایرانی ملیشیا سے آزاد کر کے ایک اسلامی جمہوری ملک بنانا تھا۔ داعش سے قطع نظر ابو محمد الجولانی نے اسلامی حکومت قائم کرنے کے بعد اقلیتوں کو مکمل حقوق فراہم کرنے کی یقین دہانی کی اس طرح ان کی مقبولیت میں اچھا خاصہ اضافہ ہوگیا اور وہ ابو بکر البغدادی کے مقابلے میں عالمی قوتوں کے لیے بھی قابل قبول بنتے چلےگئے۔حلب پر دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد حیات التحریر الشام نے دیگر مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرکے اپنی یقین دہانیوں کا عملی ثبوت بھی دیا ۔ یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ اس کے باوجود حیات التحریر کو اقوام متحدہ، ترکیہ، امریکا اور یورپی یونین نے "دہشت گرد” تنظیموں کی فہرست میں رکھا ہوا ہے۔ اس انقلاب کے فیصلہ کن مرحلہ یعنی 27؍ نومبر کے بعدسے’حیات التحریر الشام‘ نے تیز رفتاری سے پیش رفت کی اور ہفتے بھر میں پانچویں شہر درعا پر بھی قبضہ کرلیا۔
اب منزل سامنے دکھائی دے رہی تھی اور انقلابی اعلان کررہے تھے’’ہم حمص شہر کے دروازہ پر کھڑے ہیں۔ ‘‘ذرائع خبر دے رہے تھے کہ حمص کے آس پاس کےزیادہ تر دیہاتوں پر التحریر کا قبضہ ہوچکاہے۔ اس کے ایک کمانڈر نےدمشق کی فتح یابی سے ایک دن قبل اعلان کیا کہ ’’حمص کے اطراف آخری دیہات کو بھی ہماری فوجوں نے آزاد کرالیا ہے اور اب وہ شہر کے دروازے پر کھڑی ہیں۔ ‘‘ اس دوران بشار الاسد کی فوج اور تہران کے ہمنوا گروپس نے شہر سے اچانک اور حیران کن پسپائی اختیار کی اور علاقہ خالی کردیا۔ اس کے ایک دن بعد صدر بشارالاسد کا تختہ پلٹ دیا گیا اور شام میں باپ بیٹوں کی پانچ دہائیوں سے زائد حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا۔ اس موقع پر ابو محمد الجولانی نے اعلان کیا کہ شام میں حالیہ بغاوت کا مقصد صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ پلٹ کرنا ہے۔انہوں نے کہاشام کے سرکاری ادارے ہنوز سابق وزیر اعظم کے ماتحت رہیں گے۔ ایچ ٹی ایس سربراہ نے تمام اپوزیشن قوتوں اور باغی جنگجوؤں کو دمشق میں سرکاری اداروں پر قبضہ کرنے سے منع کردیا تاکہ انارکی نہ پھیلے اور عوام الناس کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنے پڑے ۔
بشار الاسد پر آنسو بہانے والوں کو ایک بار دمشق کی بدنامِ زمانہ ’صیدنایا جیل‘ کا جائزہ لے لینا چاہیے ۔ دارالحکومت دمشق سے 30 کلومیٹر شمال میں واقع 1987 کے اندر تعمیرشدہ اس جیل کا رقبہ 1.4 مربع کلومیٹر ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چند سال قبل اس جیل کو ’انسانی مذبح خانہ‘قرار دیا تھا کیونکہ وہاں شامی ریاست خاموشی سے اپنے مخالفین کو ذبح کر رہی تھی ۔ 2012 سے 2022 کے دوران اس جیل کے 30 سے 35 ہزار قیدیوں کو پھانسی دے کر یا تشدد کا نشانہ بنا کر یا طبی دیکھ بھال کی کمی اور فاقہ کشی کی وجہ سے موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا۔وہاں پر زیرِ زمین کوٹھڑیوں میں قیدی دم گھٹنے سے بھی ہلاک ہوجاتے تھے۔اس جیل کے عقوبت خانوں میں موجود ’ایک لاکھ سے زائد قیدیوں کی سی سی ٹی وی کیمروں اور مانیٹر کی مدد سے نگرانی کی جاتی تھی۔’دی ریڈ پریزن‘ یعنی ’سُرخ جیل‘ میں بشار الاسد ہر ہفتے دو بار باقاعدگی سے قیدیوں کو پھانسی دیتا تھا۔ صیدنایا جیل سے رہا ہونے والےایک قیدی نے خدا کا شُکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’اب تو ہم دمشق کے وسط میں زندہ اور آزاد ہیں۔ مگر میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ 54 دیگر لوگوں کے ساتھ میری پھانسی آج طے تھی، اگر اسد کی حکومت ختم نہ ہوتی تو ہم زندہ نہ ہوتے۔‘
ہندوستان کے اندر نہرو خاندان کے باپ بیٹی نے مل کر 31سال تک حکومت کی ۔ بنگلا دیش میں شیخ حسینہ اس ریکارڈ کو توڑنا چاہتی تھیں مگر ان کے خاندان یعنی باپ بیٹی کی حکومت 24 سال میں ختم ہوگئی۔ ان دونوں خاندانوں کی مدت کار کو جوڑ دیا جائے تو اتنا وقت حافظ الاسد اور ان کے بیٹے بشارالاسد نے راج کیا۔ 54 کی مدت کوئی کم نہیں ہوتی لیکن پھر اچانک بشار نے باغیوں کو کچلنے کا اعلان کیا اور پھر دیکھتے دیکھتے ان کے اقتدار پر بلڈور چل گیا ۔ بشار کو فرار ہوکر روس میں اسی طرح پناہ لینی پڑی جیسے شیخ حسینہ واجد کو بھاگ کر ہندوستان آنا پڑا ۔ انقلاب کی سونامی اس طرح آتی ہے کہ پھر اس کے سامنے کوئی نہیں ٹِک پاتا۔ اتوار کو علی الصبح جب جنگجوملک کے دارالخلافہ دمشق میں داخل ہوئے تو وہاں مزاحمت کرنے والا کوئی نہیں تھا ۔ عوام اپنے گھروں سے نکل کر ان کا استقبال کررہے تھے ۔ عسکریت پسند انقلابی گروہ ہیئت تحریر الشام اور ان کے ساتھ مل کر عوام جشن فتح منا رہے تھے کیونکہ انقلابیوں نے اعلان کردیا تھا کہ ‘ظالم بشار الاسد (شام) چھوڑ گئے ہیں۔’بشار الاسد کو طیارے میں سوار کرنے کے بعد شام کے دمشق ہوئی اڈے سے فوجی اہلکار بھی سکون کے ساتھ اپنے گھروں میں چلے گئے۔’خس کم جہاں پاک ‘۔xام کے اس عظیم انقلاب پر فیض کا یہ شعر ہو بہو صادق آتا ہے؎
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
Post Views: 503
Like this:
Like Loading...