Skip to content
شام کا ماتم:کتنے بھولے ہیں مسلمان
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
شام کے عظیم الشان پر امن اور عوامی انقلاب کے بعد بشار لاسد کے ماتم بنی ایک ویڈیو خوب وائرل ہورہی ہےجس کی پنچ لائن ہے کتنے بھولے ہیں مسلمان ؟اس میں شام پر اسرائیل کے حالیہ حملے کو جواز بنایا گیا ہے ۔ اسے دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ پچھلے 54 سالہ اسدی دورِ اقتدار میں اسرائیل نے کبھی شام کی جانب نظر بد کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔ اس ویڈیو میں بجا طور پر اسرائیل اور امریکہ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن بتایا گیا ہے مگر سوال یہ کہ ان دونوں کے سب سے بڑے دشمن ایران نے بشار الاسد کی اس بار مدد کیوں نہیں کی؟ سوشیل میڈیا میں ایسے بھی لوگ بھی سرگرم ہیں جنھیں محسوس ہوتا ہے کہ اب عظیم اسرائیل کے راہوں میں حائل آخری چٹان گر چکی ہے اس لیے اسدی اقتدار کے خاتمے کا جشن منانے والے دراصل گریٹر اسرائیل کے خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے کی خوشی منارہے ہیں ۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کسی باہری خطرے سے ڈرا کر اپنے ہی ملک میں کب تک ظلم و اسےبداد کا نظام جاری رکھا جاسکتا ہے اور جو حکومت اپنے ملک کے حریت پسند جری جوانوں کو مسلسل بے رحمی سے کچلتی رہے وہ کس طرح بیرونی بیساکھیوں پر دشمن کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہے؟ ان سولات پر غور کیے بغیر اس ویڈیو کو پھیلانے والے مسلمان واقعی کتنے بھولے ہیں؟
اسرائیل 1948میں بنا اس وقت شام میں بعث پارٹی سے موجود تھی۔ 1963 میں اسے شام میں اقتدار مل گیا ۔ مائیکل افلاک اور صلاح الدین ابطار نے حکومت کی قیادت سنبھال کر ملک کے معاشی اور سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیاں کردیں۔تین سال بعد بعث پارٹی کے انتہا پسندوں نےفوج سے سیاست میں آنے والے سوشلٹ لیڈر صلاح جدید اور شامی فوج کے جنرل حافظ الاسد کی قیادت میں نیا انقلاب برپا کیا ۔1966 سے 1970 تک صلاح جدید شام کے ڈی فیکٹو صدر رہے۔ صلاح جدید کی قیادت میں بعث پارٹی نے "نیا بعث” نظریہ تشکیل دیا۔ اس حکومت میں حافظ الاسد وزیر دفاع تھے۔ اس دوران اسرائیل کے ساتھ 1967کی 6 روزہ جنگ ہوئی جس میں مصر اور اردن سمیت شام کوبھی شکست ہوئی اور اسے گولان کی پہاڑیوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ وزیر دفاع کی حیثیت سے حافظ الاسد کی یہ پہلی شکست تھی۔ اگلے 57سالوں تک باپ بیٹے اسے واپس نہیں لے سکے ۔
1970 میں حافظ الاسد نے بعث پارٹی میں صلاح جدید کو غیر موثر کر دیا اور اقتدار پر مکمل کنٹرول حاصل کر نے کے بعد پہلے وزیر اعظم بنےاور پھر 1971 میں صدر منتخب ہو گئے ۔1973 میں شام کے صدر حافظ الاسد اور مصر کے صدر انور سادات نے مل کر اسرائیل پر اچانک حملہ کر دیا۔ اس کا مقصد 1967 کی 6 روزہ عرب اسرائیل جنگ میں شکست کا بدلہ لینا اور اسرائیل کے قبضے میں جانے والی شام اور مصر کی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا تھا لیکن اس جنگ میں شام اور مصر کو بری طرح ہزیمت اٹھانا پڑی اور شام گولان کی پہاڑیوں کا علاقہ اسرائیل کو دینے پر مجبور ہوگیا۔ حافظ الاسد کے بعد ان کے فرزند بشارالاسد نے بیس سال حکومت کی اس دوران کئی بار اسرائیل نے شام پر حملے کیے مگر اپنے مقبوضہ علاقوں کو واپس لینا تو دور وہ کبھی بھی ایران کی طرح جوابی حملہ کرکے اس کا انتقام نہیں لے سکے ۔
اسرائیل کے ساتھ جنگ میں نقصان اٹھانے کے بعد حافظ الاسد نے جب شام کے اندر جدید کاری، انڈسٹریلائزیشن اور تعلیم جیسے شعبوں پر ایک مخصوص نظریہ سے توجہ دی تو ان کی بائیں بازو کی پالیسیوں سے نالاں مسلمانوں کی بڑی تعداد مصر کی اخوان المسلمون کے ساتھ وابستہ ہوکرایک بڑی طاقت بن کر ابھری۔ اسرائیل کے آگے پسپا ہونے والے حافظ الاسد نے اپنے اقتدار کو مستحکم رکھنے کی خاطر 1982 میں فوج کی مدد سے اخوان المسلمون کے صفایا شروع کیا ۔اس دوران حماہ شہر میں اخوانی تحریک کے کارکنوں پر کریک ڈاؤن کرکے ہزاروں افراد شہید کردیا۔ 1994 میں حافظ الاسد اپنےبیٹے بشار کو سیاست میں لے آئےاوردس جون 2000 کو حافظ الاسد کی طبعی موت کے بعد 34 سال کی کم عمری میں بیٹا بشار سربراہ بن گیا۔ ملک کا آئین چونکہ اس کی اجازت نہیں دیتا تھااس انہیں صدر بنانے کے لئے آئین میں ترمیم کردی گئی۔
حافظ الاسد کے تیس سالہ اقتدار کے بعد بشار الاسدکے صدر منتخب ہوتے ہی ان کی مخالفت شروع ہو گئی۔ اس بار اخوانی نہیں بلکہ بعث پارٹی کے نظریہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دانشور جمہوری اصلاحات کے لئے تحریک چلا رہے تھے۔ ستمبر 2000 میں اٹھنے والی اس تحریک نے دمشق اور دیگر شہروں کے نوجوانوں کو متوجہ کر لیا جو "دمشق سپرنگ” کہلایا۔ بشار الاسد اس وقت جمہوری آزادیاں دینے کی طرف مائل ہوئے اور کچھ اصلاحات بھی کیں لیکن ایک خاص حد سے آگے نہیں جا سکے کیونکہ شام کے سنی،عیسائیوں اور دیگر فرقوں میں طویل عرصہ سے حافظ الاسد کی حکومت سے جو شکایات تھیں وہ ان آزادیوں کی صورت میں بڑھ کر بشار کو اقتدار سے بے دخل کرسکتی تھیں ۔اس لیے بشار الاسد نےاپنی دی ہوئی معمولی جمہوری آزادیوں کو سلب کرکے اپنا اقتدار مضبوط کیا جو 8 دسمبر 2024 تک قائم رہا اور پھر دھڑن تختہ ہوگیا۔ انقلابیوں کے ذریعہ سرکاری ٹیلی ویژن پر دمشق کے "آزاد” ہونے کا اعلان سن کر شامی عوام جشن منانے کے لیے سڑکوں پر اتر آئے۔
یہ کوئی چمتکار نہیں تھا جو راتوں رات رونما ہوگیا ہو۔ عرب بہار کے تناظر میں 2011کے اندر شام کے بڑے شہروں میں نوجوانوں نےبدعنوانی کے خاتمہ اور جمہوری اصلاحات کے مطالبات کو لے کر جو تحریک برپا کی تھی وہ طاقتور احتجاج میں بدل گئی۔ شام بھر میں مظاہرین سڑکوں پر آ کر سیاسی آزادی اور بدعنوانی کے خلاف نعرے لگانے لگے۔ اس کے جواب میں بشار الاسد نے جب کریک ڈاؤن کیا تو اس نے خانہ جنگی کو جنم دیا۔ اس بیچ بشار الاسد اتنے غیر مقبول ہوئے کہ انہیں شیعہ اقلیت اور بعث پارٹی سے وابستہ لوگوں کے سوا کوئی پسند نہیں کرتا تھا گویا ان کا اقتدار اپنے عوام کے بجائے تہران اور ماسکو پر جاکر ٹِک گیا ۔ ایران اور روس دونوں نے مسلح بغاوت کا مقابلہ کرنے میں بشار الاسد کی مدد تو کی مگر شام کے متعدد علاقے وقتاً فوقتا بشار الاسد کے کنٹرول سے نکلتے رہے، بعض علاقوں کا کنٹرول انہیں کچھ عرصہ بعد واپس مل گیا۔ 2016میں جنگ بندی اور 2021 میں عملاً امن قائم ہو جانے کے بعد بشار الاسد چوتھی بار صدر منتخب ہوئے۔اور سرکاری نتائج کے مطابق انہیں 95 فیصد ووٹ ملے۔
امسال27 نومبر کو جب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہورہی تھی تو شام میں انقلاب کی آندھی آگئی ۔ مجاہدین اسلام کی "ہئیتِ تحریر الشام” نے چند دنوں میں حمص اور حماہ جیسے اہم شہروں کے بعد حلب پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کے بعد بالآخر 8 دسمبر کو بشارا لاسدکو بھگا دیا۔شام کی اس13سالہ جہاد میں 3 لاکھ 88 ہزار سے زائد شہادتیں ہوئیں جبکہ ایک کروڑ 20 لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہوگئے۔ بعث پارٹی کی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے والے گروہوں میں دروز عیسائی اور اسلامی جہاد سے ابھرنے والی "ہئیتِ التحریر” کے علاوہ بائیں بازو کے بعث سے ناراض دانشور اور ان کی اولادیں اور اخوان المسلمون کےشہیدوں کی نئی نسل کے ساتھ مغربی جمہوریت کےخواہاں لبرل ڈیموکریٹ بھی موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اتنا طویل عرصہ حکومت کرنے کے بعد اقتدار سے بے دخل ہوجانے پر ملکِ شام اس پر آنسو بہانے والی ایک آنکھ بھی نہیں تھی۔ اس معاملے کو محض اسرائیل کے زاویہ سے دیکھنے والوں کو اس پہلو پر غور کرنا چاہیے۔
شام کی بظاہر بحرانی کیفیت کا فائدہ اٹھانے کی خاطر اسرائیل کی فوج گولان کی پہاڑیوں کے بفر زون میں داخل ہو گئی ہے گذشتہ 48 گھنٹوں میں 480 ائی حملے کرکے سٹریٹجک ہتھیاروں کے ذخائر تباہ کر دیئے اور دو بحری اڈوں کو نشانہ بناکر15 بحری جہازوں کو تباہ کردیا۔ان کے علاوہ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے شام میں اینٹی ایئر کرافٹ بیریئرز، ایئرفیلڈز، ہتھیار بنانے والی فیکٹریوں، ہتھیاروں کے ڈپو، فوجی سٹرکچرز، لانچرز اور فائرنگ پوزیشن کو ہدف بنایا ۔ یہ نہایت افسوسناک ہے مگر ایک سوال یہ بھی ہے کہ ان چیزوں کی موجودگی نے گزشتہ سال ۸؍ اکتوبر کے بعد سے جاری اسرائیلی تباہی کو روکنے میں کیا کردار ادا کیا؟ آخری سوال گریٹر اسرائیل کے خواب کا ہے ۔ اس بابت پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا اپنی عوام کا اس قدر بے دردی سے سر کچلنے والا حکمراں کبھی بھی کسی بیرونی حملے کا مقابلہ کرسکتا ہے؟ وہ مجاہدین جنھوں نے 13سالوں تک عظیم قربانیاں دے کر آزادی حاصل کرنے والوں کے ہاتھوں میں ملک محفوظ ہے یا ایسے غیر مقبول حکمراں کے پاس جو دوسروں کے سہارے اپنے اقتدار کو بچائے ہوئے تھا ۔ کیا کوئی دیوانہ بھی یہ خواب دیکھ سکتا ہے جن مجاہدین نے تقریباً چار لاکھ جوانوں کی شہادت پیش کرکے ایک ظالم اقتدار سے آزادی حاصل کی ہے وہ اسرائیل کے خواب کو شرمندۂ تعبیر ہونے دیں گے؟ سچائی یہی ہے کہ فی الحال شام اسرائیل کے لیے پہلے سے بہت زیادہ خطرناک ہوچکا ہے اور اس عارضی بحران کے بعدحالات کے مستحکم ہوتے ہی اسرائیل اور ساری دنیا کو اس کا پتہ چل جائے گا ۔
Post Views: 678
Like this:
Like Loading...
زبردست تجزيه _
سچائی یہی ہے کہ فی الحال شام اسرائیل کے لیے پہلے سے بہت زیادہ خطرناک ہوچکا ہے اور اس عارضی بحران کے بعدحالات کے مستحکم ہوتے ہی اسرائیل اور ساری دنیا کو اس کا پتہ چل جائے گا ۔