Skip to content
’’آزاد خیالی‘‘ الحاد اور دین بے زاری کا سبب
ازقلم:ٌ مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
حضرت سیدنا آدمؑ وحضرت سیدہ حواؑ جنت سے دنیا میں اُتارے گئے اور ان دونوں کے یہاں اولاد ہوئی اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اولاد کی تعداد بڑھتی گئی اور انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا ،حضرت سیدنا آدمؑ نے اپنی ذریت کو بنیادی طور پر جس بات کی تعلیم دی وہ توحید خالص تھی اور ان کی ذریت اسی تعلیم پر بڑی مضبوطی سے قائم تھی ،حضرت سیدنا آدمؑ پہلے پیغمبر تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم ملتا تھا اسے اپنی ذریت کو بتاتے تھے اور وہ عبادات اور دیگر معاملات میں اسی کی پیروی کیا کرتے تھے ،حضرت سیدنا آدمؑ کے دنیا سے تشریف لےجانے کے بعد ان کی ذریت رفتہ رفتہ شرک پرستی کی لعنت میں گرفتار ہوکر ضلالت وگمراہی کی تاریکی میں گم ہوتی چلی گئ اور ایک وقت آیا کہ ان لوگوں نے موحدین سے ہٹ کر اپنا ایک الگ ہی مذہب بنالیا اس طرح سے یہ لوگ ہدایت سے گمراہی کی گہری کھائی میں جاگرے ،اللہ تعالیٰ نے ان گمراہ لوگوں کی ہدایت کے لئے اپنے پیغمبروں کو بھیجتا رہا اور اپنے زمانے کے پیغمبر ان انسانوں کو رب کی طرف بلاتے رہے اور انہیں توحید کی دعوت دیتے رہے ، انسان جیسے جیسے پیغمبروں کی تعلیمات سے دور ہوتا گیا تو اس کے اندر دنیا کی محبت اور نفس کی خواہش انگڑائیاں لینے لگی اور پھر اس نے انبیائی تعلیمات کو خواہشات کی تکمیل میں مخل جانتے ہوئے انبیائی تعلیمات سے دور ہوتے چلے گئے ،ان میں سے بعضوں نے پیغبروں کو جھٹلایا تو بعضوں نے بت پرستی کو اختیار کر لیا تو ان میں سے بعضوں نے حد دھرمی کرتے ہوئے اور اپنے عقلی گھوڑے دوڑاتے ہوئے وجود باری تعالیٰ کا ہی انکار کردیا تاکہ ربانی احکام سے آزاد ہوکر آزادی کے ساتھ خواہشات کو عملی جامہ پہنا سکیں اس طرح دنیا میں شرک وبت پرستی کے بعد الحاد وانکار مذہب کی بنیاد پڑی ،چنانچہ اس وقت مذہبی لحاظ سے انسانوں کی تین قسمیں پائی جاتی ہیں موحد ۔ مشرک اور ملحد ۔(۱)موحد توحید پرست اور ایک اللہ کے ماننے والے کو کہتے ہیں ،اسلام کے بنیاد ارکان سات ہیں جن کا احادیث میں ذکر موجود ہے اور ہر اس شخص کے لئے جو مسلمان ہونا چاہتا ہے ان ارکان پر ایمان لانا ضروری ہے ،ارکان اسلام میں پہلا بنیادی رکن اللہ کی ذات پر ایمان ،دوسرا رکن فرشتوں پر ایمان ،تیسرا رکن آسمانی کتابوں پر ایمان ،چوتھا رکن تمام رسولوں پر ایمان ،پانچواں آخرت کے دن پر ایمان،چھٹا ،تقدیر پر ایمان اور ساتواں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لانا ہے ، شریعت کی اصطلاح میں توحید کہتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ کی ذات،صفات،افعال،عبادات اور اسماء میں اسے اکیلا ویکتا ماننا ،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَإِلٰـہُکُمْ إِلٰہٌ وَاحِدٌ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ( بقرہ: ۱۶۳) ’’اور تمہارا خدا ایک ہی ہے ،اس کے سوا کوئی خدا نہیں جو سب پر مہربان ،بہت مہربان ہے‘‘۔(۲)مشرک: اللہ تعالیٰ کی ذات ،صفات میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کو بھی شریک کرنے والے کو مشرک کہتے ہیں مثلا یہودیوں کا حضرت عزیزؑ کو اللہ کا بیٹا بنانا،عیسائیوں کا تثلیث یعنی تین خدا ؤں کا ماننا ،آتش پرستوں کا دو خدا وں کا ماننا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام جرموں میں سب سے خطرناک اور ناقابل معافی جرم شرک ہی ہے ،شرک بدترین جرم ہے اور اس کا مرتکب بدترین مجرم ہے جس کی معافی ممکن ہی نہیں ہے ،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : إِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ (نساء : ۴۸)’’بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرایا جائے اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لئے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے‘‘۔(۳)ملحد، ملحد کے لغوی معنیٰ ایک طرف مائل ہونے کے ہیں، اصطلاح میں ملحد کہتے ہیں وجود باری کا انکار کرنے والے کو ، ملحدین میں بعض وہ بھی ہیں جو وجود باری تعالیٰ کا اقرار کرتے ہیں نہ انکار بلکہ اپنے آپ کو ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ وہ قرآن وحدیث کو ماننے والے ہیں مگر قرآن کے معانی اپنی طرف سے ایسے گھڑے جو قرآن وحدیث اور اجماع امت کے خلاف ہوتے ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اصلاً ملحد ہی ہیں، ملحدین کے معاملہ بھی بڑا عجیب ہے ، یہ لوگ عموماً دے کو غیر فانی اور متشکل تسلیم کرتے ہیں ،ان کا خیال ہے کہ زمانہ ازلی اور ابدی ہے اور ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے، چنانچہ الحاد کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں (۱) علمی الحاد یعنی ہر ،معاملہ میں اپنی عقل کو معیار بنانے والے جیسے فلاسفہ اور سائنسدان ہیں ، یہ لوگ ہر چیز کے لئے عقل کو معیار گردانتے ہیں اور جو بات بظاہر عقل کے خلاف نظر آتی ہے تو اس کا انکار کر دیتے ہیں ،یہ لوگ سرے سے مذاہب کا انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر مذہب صحیح ہے تو پھر ان میں جنگ وجدال کیوں؟ کہتے ہیں کہ ان کے احکام میں اختلاف کیوں؟ آسمانی کتابیں تورات ،انجیل زبور اور قرآن کے احکام ایک دوسرے سے مختلف کیوں؟ وہ کہتے ہیں کہ مذاہب اور ان کی کتابوں میں اختلاف بتاتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہیں اور اگر صحیح ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ ہوتے تو ان کے احکام ہرگز ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوتے،جس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ نہ یہ آسمانی کتابیں ہیں اور نہ ہی ان کا نازل کرنے والا موجود ہے کیونکہ اگر ان کا نازل کرنے والا موجود ہوتا تو اس کی باتیں مختلف نہ ہوتی۔ (۲) نفسانی الحاد یعنی اپنی خواہشات کی تکمیل میں مذہب اور اس کی تعلیمات کو حائل سمجھ کر مذہب کی تعلیمات میں شکوک وشبہات کا اظہار کرنااور پھر اپنے عقل وسوچ اور خواہشات کی تکمیل کی خاطر اس میں من مانی ترمیمات کرنا،نفسانی خواہش کو ہر چیز پر ترجیح دینے والے ہر اس چیز کو اپناتے ہیں جس سے ان کی خواہشات کی تکمیل ہوتی ہے اور بظاہر دین پر عمل کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر عقل کے ذریعہ ان میں ایسی ترمیمات کرتے ہیں کہ جس کا دین ومذہب میں تصور کرنا محال ہے ،اسی پر بس نہیں بلکہ مذہب کی جو باتیں بظاہر عقل کے خلاف معلوم ہوں اور جسے عقلی ترازو میں تولا نہیں جاسکتا ہو ان چیزوں کا تمسخر اُڑاتے ہیں اور پھر آخر میںان چیزوں کو عقل کے خلاف بتاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے وجود ہی کا انکار کردینا ۔
الحاد کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت قدیم ہے ،بعض مورخین کا کہنا ہے کہ بدھ مت کی ابتداء ہی الحاد سے ہوئی ہے،ملحدین دنیا کے مختلف علاقوں میں پائے جاتے ہیں البتہ دوسرے علاقوں کی بنسبت یورپ میں ان کی تعداد زیادہ ہے ، ۲۰۱۲ء میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد معلوم کرنے کے لئے سروے کیا گیا تھا تو اس وقت ملحدین کی تعداد نے سب کو چونکا دیا وہ اس طور پر کہ ۲۰۱۲ ء میں پوری دنیا میں ملحدین کی تعداد ۱۲ سے ۱۶ فیصد کے درمیان کا علم ہوا ،ملحدین کی اس قدر تعداد بڑھنے کی وجہ بتاتے ہوئے اہل علم اور فکر کا کہنا ہے کہ دراصل انسان آزادی چاہتا ہے اور جو چیزیں اس کی آزادی میں رکاوٹ بنتی ہیں یا تو وہ ان کا انکار کردیتا ہے یا پھر خواہشات کی خاطر انہیں خاطر میں نہیں لاتا ،ملحدین کا چونکہ عقل کو معیار مانتے ہیں اور اس پر حد سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں اس لئے جو چیزیں ان کی عقل کو خاموش کر دیتی ہیں وہ ان سب کا انکار کر دیتے ہیں ، عقل سلیم رکھنے والے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ مذہب کی تعلیمات عموما عقل کے مخالف ہوتی ہیں اور باوجود عقلی گھوڑے دوڑانے کے وہ باتیں عقل میں سماتی نہیں ہیں اس لئے یہ لوگ اس کا انکار کردیتے ہیں ،اٹھارویں صدی میں مذہب طبیعی ،انیسویں صدی میں مذہب مادیت اور آج عقلیت کے نام سے الحاد کی جو مختلف صورتیں سامنے آرہی ہیں ان سب کی خصوصیت مشترک ہے کہ وہ عقل کو اپنی زندگی کا رہنما مانتے ہیں، ملحدین کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان باتوں کو مانتے ہیں جسے عقل تسلیم کرتی ہے اور ان باتوں کو تسلیم نہیں کرتے جو عقل کی کسوٹی پر کھری نہیں اُترتی ہیں ،بلاشبہ عقل کسوٹی تو ہے مگر یہ ہر چیز کے لئے کسوٹی نہیں بن سکتی ہے کیونکہ بعض چیزیں عقل کے ترازو میں سماتی نہیں ہیں وجہ یہ ہے کہ ہر انسان کی عقل دوسرے انسان سے مختلف ہوتی ہے ،اگر عقل ہی کسوٹی اور معیار مانا جائے تو پھر سوال ہوتا ہے کہ کس عقل کو اور کس کی عقل کو معیار مانیں گے کیونکہ ہر ایک کی عقل وفہم دوسرے سے الگ ہوتی ہے ،بچوں کی عقل بڑوں سے الگ ہوتی ہے ،جوانوں کی عقل بوڑھوں سے جدا ہوتی ہے ،دانا کی عقل عام لوگوں سے مختلف ہوتی ہے تو ان میں سے کن کی عقل کو معیار مانا جائے گا ،بسا اوقات انسان کی عقل آج کچھ سونچتی ہے اور پھر یہی عقل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ اور سونچتی ہے تو فیصلہ کرنے کے لئے کس عقل کو ترازو بنائیں گے اور کس عقل کے فیصلہ کو حاکم بناکر اس کا فیصلہ قبول کریں گے ؟ یہ ایسا سوال جس کا ن ملحدین کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ، علامہ ابن خلدون ؒ نے ملحدین اور عقل کے اندھوں نہایت مسکت جواب دیا ہے ، علامہ فرماتے ہیں کہ بے شک عقل میزان ہے لیکن امور آخرت ،مقدرات الہیہ کو میزان عقل میں نہیں لا سکتے کیونکہ یہ امور عظیم الشان ہیں اور عقل کے کانٹے میں ان مباحث کے لئے اتنی طاقت ہی نہیں کہ اس میں یہ امور وزن ہو سکیں جیسے سنار کے کانٹے پر پہاڑ کا وزن نہیں کیا جا سکتا اس کے باوجود سنار کے کانٹے کو غیر درست نہیں کہا جا سکتا۔تومعلوم ہوا کہ عقل یقینا عقل ہے مگر ہر چیز کو عقل کے ترازو میں تولنا ناقص العقل ہونے کی علامت ہے ۔
ملحدین کا مسئلہ بھی بڑا عجیب ہے یہ لوگ عقل تو استعمال کرتے ہیں مگر اپنی عقل کی طاقت کا استعمال ہرایک پر کرنا چاہتے ہیں ،کاش اگر وہ منفی سوچ کے بجائے مثبت سوچ کا استعمال کرتے تو یقینا عقل انہیں وہ چیزوں کی طرف لے جاتی جس کی طرف ان کی نگاہ نہیں پہنچی ہے ،یہاں صرف دوچیزوں کی طرف ملحدین کی عقل کو متوجہ کرنا ہے (۱) کائنات اور اشیائے کائنات کا مشاہدہ (۲) کائنات اور کائنات کی چیزوں میں غور وفکر ،اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید کی جن آیات میں تخلیق کائنات اور اشیائے کائنات کی بناوٹ کی طرف انسانوں کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے انہیں دعوت عقل وفکر دیا ہے ،ان میں سے چند یہ ہیں : (۱) وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَّہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰہِ الَّذِیْ أَتْقَنَ کُلَّ شَیْْئٍ إِنَّہٗ خَبِیْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْن)نمل :۸۸) ’’تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو کہ یہ اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں حالانکہ اس وقت وہ اس طرح پھر رہے ہوں گے جس طرح بادل پھرتے ،یہ سب اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے‘‘۔(۲) إِنَّ اللّہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَی یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ(انعام:۹۵) ’’ہیں بیشک اللہ ہی دانے اور گھٹلی کو پھاڑنے والا ہے،وہ جاندار چیزوں کو بے جان چیزوں سے نکالتاہے اور وہی بے جان چیزوں کو جاندار چیزوں سے نکالنے ولا ہے‘‘۔( ۳) بَدِیْعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنَّی یَکُونُ لَہُ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُن لَّہُ صَاحِبَۃٌ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْْء ٍ وہُوَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(انعام:۱۰۲)’’ وہ تو آسمان اور زمین کا موجد (بنانے والا ) ہے ،اس کا کوئی بیٹا کہاں ہو سکتا ہے جبکہ اس کی بیوی نہیں اسی نے ہر چیز پیدا کی ہے اور وہ ہر ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے‘‘۔(۴) اللّہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَیْْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَہَا ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَجْرِیْ لأَجَلٍ مُّسَمًّی(الرعد:۲) للہ وہ ہے جس نے ایسے ستونوں کے بغیر آسمانوں کو بلند کیا جو تمہیں نظر آسکیں ،پھر اس نے عرش پر استوا فرمایا اور سورج اور چاند کو کام پر لگایا ہر چیز ایک معین میعاد تک کے لئے رواں دواں ہے‘‘۔(۵)أَفَلَا یَنظُرُونَ إِلَی الْإِبِلِ کَیْْفَ خُلِقَتْ ۰وَإِلَی السَّمَاء کَیْْفَ رُفِعَتْ ۰وَإِلَی الْجِبَالِ کَیْْفَ نُصِبَتْ ۰وَإِلَی الْأَرْضِ کَیْْفَ سُطِحَتْ ۰فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَکِّرٌ)الغاشیہ:۱۷)’’تو کیا یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ انہیں کیسے پیدا کیا گیا؟اور آسمان کو کہ اسے کس طرح بلند کیا گیا؟اور پہاڑوں کو کہ انہیں کس طرح گاڑا گیا؟اور زمین کو کہ اسے کیسے بچھایا گیا؟ اب(اے پیغمبرؐ)آپ نصیحت کئے جاو ،آپ تو بس (انہیں) نصیحت کرنے والے ہو‘‘۔یہ وہ دلائل ہیں جو مشاہدہ کے ذریعہ انسان وجود باری تعالیٰ کا اقرار کر سکتا ہے ۔دوسری عقل سے سمجھا یاہے۔
انسان دن ورات جن چیزوں کا اپنی سرکی آنکھوں سے مشاہدہ کرتا ہے ان چیزوں پر اگر ذراسا بھی غور وفکر کرے گا تو اسے ہر ذرہ میں صانع کا وجود نظر آئے گا اور اس کی عقل گواہی دے گی کہ ان حسین چیزوں کو بنانے والا اور اس میں ہمہ قسم کی خوبیاں رکھنے والا کوئی تو ہوگا ؟ اس سوال پر خود اس کی عقل میں اللہ تعالیٰ کا خیال آئے گا کہ وہی تو ہے جس نے ہر ایک چیز کو بڑی خوبصورتی سے تراشا ہے اور اس انداز سے تراشا ہے جسے دیکھ کر عقل بھی حیرت وتعجب میں پڑ جاتی ہے اور اسے تسلیم کئے بغیر چارہ کار نہیں کہ ان چیزوں کا بنانے والا انسانی طاقت سے بہت بلند وبالا ہے اور اسی ہستی کا نام خدا ہے جو اکیلا اور تنہا اس عجائب گھر یعنی دنیاکا خالق ومالک اور بادشاہ ہے،بہت سے اہل علم اور اہل فکر نے تو صرف ایک ہی چیز کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کا پتا لگایا ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کے واجب الوجود ہونے کی دلیل پیش کی ہے ،چنانچہ امام رازی ؒ نے اپنی تفسیر کی کتاب میں نقل کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ ملحدین (دہریوں ) کے حق میں تلوار تھے اسی وجہ سے وہ لوگ آپؒ کے قتل کی تاک میں رہتے تھے، ایک دن آپؒ مسجد میں بیٹھے تھے کہ اچانک دہریوں کا ایک غول تلواروں کے ساتھ قتل کے ارادہ سے مسجد میں داخل ہوا،انہیں دیکھ کر امام صاحبؒ بالکل گھبرائے نہیں بلکہ ان سے فرمایا: پہلے تم میری ایک بات کا جواب دو ،پھر جو چاہو کرو،ان لوگوں نے کہا وہ بات کیا ہے؟،توآپؒ فرمایا کہ تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میں دریا میں ایک کشتی دیکھی ہے جس میں قسم قسم کے سامان لدے ہوئے ہیں اور دریا کی موجیں جدھر ہواؤں کا زور ہوتا ہے اس کو اِدھر اُدھر نہیں کرتی ،مختلف قسم کی ہوائیں چلتی ہیں لیکن کشتی برابر سیدھی چلی جاتی ہے اور تعجب اس بات کا ہے کہ کوئی اس کا ملاح (چلانے والا) بھی نہیں ہے ،تو بتاؤ تو سہی عقلاً اس کی بات درست ہے ؟ تو لوگوں نے کہا بالکل نہیں اس بات کو عقل تسلیم ہی نہیں کرتی ہے،اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے کہ ایک کشتی کا دریا میں سیدھا چلنا بغیر ملاح عقلا ممکن نہیں ہے تو بھلا اتنی بڑی کائنات کا کسی چلانے والے کے بغیر چلنا کیوںکر ممکن ہو سکتا ہے،یہ سن کر قتل کے ارادہ سے آئے ہوئے لوگ روپڑے اور دہریت سے توبہ کرکے داخل اسلام ہوگئے،اسی طرح ایک موقع پر دہریوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے امام اعظمؒ نے بڑی وجدانی دلیل دی ،فرمایاوالدین چاہتے ہیں کہ ان کے یہاں لڑکا پیدا ہواور ان کی خواہش کے برخلاف لڑکی پیدا ہوجاتی ہے اور کبھی وہ لڑکی کی خواہش کرتے ہیں تو لڑکا پیدا ہوجاتا ہے،بلاشبہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی تو ہے جو اپنی مرضی اور حکمت سے صورت گری کرتا ہے اور وہی ہمارا خالق ومالک ہے ،ایک مرتبہ امام شافعی ؒ سے کچھ دہریوں نے وجود باری پر سوال کیا تو آپؒنے بطور دلیل توت کے پتے کو پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اس کا مزہ ، رنگ ،بو ا ورطبیعت سب ایک ہے یا نہیں ؟ سبھوں نے کیا بالکل ایک ہی ہے، پھر آپ ؒ نے فرمایامگر اس کے باوجود جب اسے ریشم کا کیڑا کھاتا ہے تو اس سے ریشم بنتا ہے،شہید کی مکھی کھاتی ہے تو اس سے شہید نکلتا ہے ،ہرن کھاتی ہے تو اس کے نافے سے مشک نکلتا ہے اور یہی بکری کھاتی ہے تو اس کے پیٹ سے میگنیاں نکلتی ہیں ،بھلا تو بتاؤ کہ اس ایک پتے میں مختلف اثر کس نے رکھے ہیں ،یہ جواب سن کر دہریے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے آپؒ کے دست حق پرست پر کلمہ پڑھ اسلام قبول کرلیا اور وہ سترہ (۱۷) آدمی تھے۔
اہل علم اور مفکرین کا کہنا ہے کہ معاشرہ میں الحاد اور دین بے زاری کے بڑھنے کی بنیادی وجہ مادیت پرستی،آزاد مزاجی ، آزاد خیالی اور بنیادی دینی تعلیم سے دوری ہے ، ماں باپ کو اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر تو ہے مگر ان کی دینداری اور آخرت میں کامیابی کی کوئی پرواہ نہیں ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ بچوں کے لئے ابتداء ہی سے علوم عصریہ کی تو فکر کرتے ہیں مگر دینی علوم کے حصول کے لئے ویسی کوشش نہیں کرتے جیسی انہیں کرنے کی ضرورت ہے چنانچہ بچوں کی نشو نما جس ماحول میں ہوتی ہے اسی کا اثر ان کی زندگیوں میں آتا ہے اور آگے چل کر دین بے زاری ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے اور انہیں دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نام تو ان کا سلامی ہے مگر ان کی زندگی میں کہیں سے اسلامی کردار نظر نہیں آتا ہے ،اس لئے ماں باپ کی دینی ،ایمانی اور سرپرست ہونے کی وجہ سے اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ ابتداء ہی سے اپنے بچوں کی دینی تعلیم اور اسلامی تربیت کی فکر کریں اور ان کے دل ودماغ میں دین اسلام کی سچائی ، رسول اللہ ؐ کی زندگی کے مبارک نقوش اور صحابہؓ کی قربانیوں کے قصے اس طرح بٹھائیں کہ وہ ان کے دل پر نقش ہوجائیں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ لاکھ لادینیت کے ماحول میں ہوں ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا ۔
اہل علم خواہش پرستوں اور عقل کے اندھوں سے ایک بات ارشاد فرماتے ہیں کہ عقل ایک مخلوق ہے اور خالق کی رہنمائی کے بغیر اس کی اطاعت صریح گمراہی ہے ،عقل سے ٹھوکر کھاکر ہوش میں آنے سے پہلے ہوش میں آجائیں ، بسااوقات آدمی کی عقل ،اکڑ اور خواہش کا جنون قبر کے گڑھے میں پہنچنے کے بعد ٹھکانے آتاہے اور اس کے بعد آدمی ہوش میں آتا ہے اور وہاں پہنچ کر ان تمام چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے جس کا دنیا میں عقل انکار کیا کرتی تھی یا خواہش نے اسے اندھا کردیا تھا مگر اس وقت ہوش میں آنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا ،کسی نے سچ کیا ہے ؎
اَب پچھتائے کیا ہوت
جب چڑیا چُک گئیں کھیت
Post Views: 92