Skip to content
اھل شام کے لئے ابھی اور آزمائشیں باقی ہیں۔
ازقلم: شیخ سلیم،ممبئی
شام میں سیدنا جیل میں ہونے والے مظالم اور انسانیت سوز سلوک نے ہر حساس دل کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ بشار الاسد کی حکومت نے ان قیدیوں پر وہ ظلم ڈھائے کہ روح کانپ اٹھے۔ ان قیدیوں کو نہ صرف بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کے وقار اور انسانیت کی تمام حدیں پامال کر دی گئیں۔ یہ خبریں منظرِ عام پر آئیں، مگر افسوس کہ دنیا، خصوصاً وہ طاقتیں جو خود کو انسانی حقوق کی علمبردار کہتی ہیں، خاموش تماشائی بنی رہیں۔
اس ظلم میں بشار الاسد کے حامی کھل کر شریک رہے۔ ایران اور حزب اللہ نے اس ظالم حکومت کو بھرپور مالی اور فوجی مدد دی تاکہ اسد اپنی ظالمانہ حکمرانی کو برقرار رکھ سکے۔ روس نے بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نہ صرف بشار الاسد کا ساتھ دیا بلکہ اقوام متحدہ میں ان کے خلاف ہر قرارداد کو ویٹو کر کے انصاف کے دروازے بند کیے۔ یوں یہ تمام طاقتیں بشار الاسد کے مظالم میں برابر کی شریکِ جرم ہیں۔
یورپ اور امریکہ، جو انسانی حقوق اور انصاف کے نعرے بلند کرتے ہیں، اس مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ فلسطین، افغانستان، یا کسی اور مسلم خطے میں مظالم کے خلاف ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ شام میں ہزاروں بے گناہ انسانوں کے قتلِ عام، خواتین کی بے حرمتی، اور جبری گمشدگیوں کے باوجود، یورپ اور امریکہ نے صرف رسمی بیانات دیے مگر عملی اقدامات سے گریز کیا۔ یہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے انسانی حقوق کے نعرے محض مفادات تک محدود ہیں۔
شام میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ایک تاریخی موڑ ہے ۔ برسوں سے اسد حکومت نے ظلم، تشدد، اور استبداد کے ذریعے نہ صرف شامی عوام کو کچلا بلکہ لبنان اور دیگر مسلم ممالک میں بھی فساد کے بیج بوئے۔ اس حکومت کی پشت پناہی ایران اور حزب اللہ جیسی قوتوں نے کی، جو امتِ مسلمہ میں فرقہ واریت اور انتشار پھیلانے میں مصروف ہیں۔
بشار الاسد کی حکومت ختم ہو جانے کے بعد لبنان میں حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو شدید دھچکا لگے گا۔ حزب اللہ ایک ایسی جماعت ہے جو شیعہ مسلکی بنیادوں پر ایران کے مفادات کی نگہبانی کرتی ہے اور لبنان میں مسلمانوں کو تقسیم کرتی ہے۔ اسد کے گرنے سے حزب اللہ کے لیے ایران کی جانب سے اسلحہ اور مالی مدد کا سلسلہ متاثر ہوگا، جس سے اس کا خطے میں اثر کمزور پڑ جائے گا۔ یہ مظلوم مسلمانوں کے لیے باعثِ سکون ہوگا جو برسوں سے اسد کے ظلم کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔
اس کے برعکس، لبنان میں وہ سنی اسلامی قوتیں جو عدل و انصاف کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، مضبوط ہوں گی۔ ان کے لیے یہ سنہری موقع ہوگا کہ وہ حزب اللہ کے تسلط سے نجات پا کر لبنان میں ایک منصفانہ اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے قدم بڑھائیں۔ بشار الاسد کی شکست دراصل ظالم قوتوں کے خلاف ایک روحانی فتح اور مسلمانوں کے لیے امید کی کرن ہے۔
ترکی کے لیے بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ ترکی نے ہمیشہ شامی عوام کے حق میں آواز اٹھائی اور اسد حکومت کے مظالم کی مخالفت کی۔ تین سے چار لاکھ پناہ گزینوں کو پناہ دی اسد حکومت کے خاتمے سے ترکی کو شام میں ایک نئی حکومت کے قیام میں مدد ملے گی، جو انصاف اور اسلامی اصولوں کے قریب ہو۔ ترکی شمالی شام میں اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرے گا اور لبنان میں بھی ان سنی قوتوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائے گا جو امتِ مسلمہ کے اتحاد کی داعی ہیں۔
بشار الاسد کی حکومت گرنے نتیجے میں ہزاروں شامی فوجی، جو پہلے اس کے ظلم کا حصہ تھے، ہتھیاروں سمیت عراق فرار ہو چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان فوجیوں کا احتساب ہوگا یا وہ عراق میں کسی نئے فتنہ یا دہشت گردی کے لیے استعمال ہوں گے؟ یہ وہی فوجی ہیں جن کے ہاتھ معصوم شامی مردوں، عورتوں، اور بچوں کے خون سے رنگے ہیں۔ اگر ان کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو یہ مظلوموں کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہوگی۔
عراق کی حکومت کو چاہیے کہ وہ ان فوجیوں کے خلاف بین الاقوامی قوانین کے تحت کارروائی کرے۔ ان میں سے بعض دہشت گرد یا فرقہ وارانہ گروہوں میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے عراق میں بدامنی بڑھ سکتی ہے۔ عالمی برادری پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان ظالموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کرے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں ہوگا۔
سیدنا جیل کا واقعہ اور بشار الاسد کی حکومت کے مظالم عالمی ضمیر کے لیے کڑی آزمائش ہیں۔ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کی خاموشی نے ثابت کر دیا کہ ان کا انصاف مخصوص قوموں اور خطوں کے لیے ہے۔ جب تک اس ظلم کے خلاف مضبوط آواز نہیں اٹھائی جاتی، ظالموں کو شہ ملتی رہے گی اور مظلوموں کی امید دم توڑتی رہے گی۔ بشار الاسد کا خاتمہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور حق و انصاف کی بحالی کی جانب ایک قدم ہے۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو مظلوموں کو نئی زندگی بخشے گی۔
اِس المیے میں مزید پریشان کن خبریں آ رہی ہیں اسرائیل نے حملا کر کے شام کے بہت سارے فوجی اڈوں کو تباہ کیا ہے اور ہتھیاروں کے ذخیروں کو تباہ کیا ہے اسرائیلی فوجی گولان پہاڑیوں سے آگے بفر زون پر قبضہ کر چکے ہیں قریبی پہاڑیوں کی اونچائی پر قبضہ کر چکے ہیں ابھی یہ صاف نہیں ہے صورت حال کیا ہوگی اسرائیلی قبضے کی نوعیت کیا ہوگی شامی مجاہدین اس سلسلے میں کیا حکمت عملی اختیار کرینگے کچھ بھی صاف نہیں ہے۔ عین ممکن ہے اھل شام کو اب ایک اور نئی خطرناک جنگ اسرائیل کے خلاف لڑنی پڑے۔ اللہ رب العزت سے اُمید ہے اہل شام کی مدد فرمائے گا ۔ آمین
Post Views: 124
Like this:
Like Loading...