Skip to content
غزل
دن رات دل کو زخم دے نشتر لگائے جو
میرا حبیب وہ ہے کہ مجھ کو رلائے جو
شہرِ وجود ہے ترا یا ہے جہانِ کل
اک تجربہ نیا مجھے ہر دن کرائے جو
بد قسمتی سے مجھ کو محبت ہے ایسے سے
کر نے کے بعد وعدہ نبھا ہی نہ پائے جو
اب ایک ایسے یار کی کرتا ہوں میں تلاش
مجھ سے ملے بغیر بہت چھٹپٹائے جو
افسوس اس کی آنکھ سمندر ہے اشکوں کا
دنیا میں سب کے ہونٹوں کو ہنسنا سکھائے جو
سکھ چین کیا حیات ہی میں اس پہ وار دوں
ہر حال میں کلیجے سے اپنے لگائے جو
اک ایسا بے وفا ہے مرے ذہن میں بسا
کوشش کے باوجود بھلایا نہ جائے جو
وہ حسنِ بے پناہ مرا جانِ عشق ہے
مجھ کو تخیلات کی وادی میں لائے جو
ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی انڈیا
Post Views: 171