Skip to content
جج منتخب ہونے پر محترمہ حبیبہ بخاری صاحبہ کے اعزاز میں رحمانی فاؤنڈیشن، مونگیر میں عظیم الشان استقبالیہ اجلاس
رحمانی فاؤنڈیشن مونگیر کے زیر اہتمام محترمہ حبیبہ بخاری صاحبہ کے جج منتخب ہونے پر ان کے اعزاز میں ایک شاندار استقبالیہ اجلاس منعقد کیا گیا، جو ان کی شاندار کامیابی پر حوصلہ افزائی کے ساتھ قوم کے نوجوانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ یہ تاریخی پروگرام خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں،امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھاکھنڈ و مغربی بنگال اور سرپرست جامعہ رحمانی، رحمانی فاؤنڈیشن و رحمانی 30 حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کی ہدایت پر رحمانی فاؤنڈیشن نواب کوٹھی، بیلن بازار مونگیر میں منعقد ہوا، جہاں علم و حکمت کے دیپ جلائے گئے اور حبیبہ بخاری کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
واضح رہے کہ محترمہ حبیبہ بخاری صاحبہ نے (PCS (J) کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور اب جج کے معزز عہدے پر فائز ہونے جا رہی ہیں۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔ ان کی یہ کامیابی اُن کے والدین کے لیے ایک مثال ہے جو اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے خواب دیکھتے ہیں لیکن سماجی رکاوٹوں سے گھرے ہوئے ہیں۔
اجلاس میں شریک تمام لوگوں نے محترمہ حبیبہ بخاری صاحبہ کو اس عظیم الشان کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ وہ انصاف کے میدان میں حقیقت اور عدل کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قوم و ملت کے لیے عظیم خدمات انجام دیں۔
پروگرام کا آغاز رحمانی اسکول آف ایکسیلینس کی طالبہ منتشا فاطمہ کی روح پرور تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد عزیزہ عظمیٰ نے اپنی خوبصورت آواز میں نعت شریف پیش کی۔ اس کے بعد جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی فضل رحماں رحمانی صاحب نے نظامت کے فرائض سنبھالتے ہوئے شرکاء کا استقبال کیا اور محترمہ حبیبہ بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “ہم آپ سے امید رکھتے ہیں کہ آپ اپنے فیصلوں میں عدل و انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھیں گی اور جنس، رنگ، نسل یا کسی اور تعصب سے بالاتر ہو کر فیصلے کریں گی۔”
تقریب میں شہر کے چیدہ و چنندہ شخصیات اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور محترمہ حبیبہ بخاری کی کامیابی کو زبردست الفاظ میں سراہا۔
مولانا جمیل احمد مظاہری ناظم تعلیمات جامعہ رحمانی مونگیر نے کہا کہ “محترمہ حبیبہ بخاری صاحبہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خواتین جب اپنے ارادے مضبوط کر لیں تو کوئی رکاوٹ ان کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ ان کی کامیابی نہ صرف مونگیر بلکہ پورے ملک کے مسلمانوں کے لیے باعث فخر ہے۔”
پروفیسر کنچن پاٹل نے اپنی تقریر میں کہا کہ “محترمہ حبیبہ بخاری کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کی خواتین کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہیں۔ ان کی جدوجہد اور عزم ہماری نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔”
پروفیسر راجن کمار نے کہا کہ “یہ تقریب ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ سخت محنت، والدین کی دعائیں اور مضبوط ارادہ کسی بھی شخص کو کامیابی کی بلند چوٹیوں تک لے جا سکتا ہے۔ محترمہ حبیبہ بخاری نے اپنی تعلیم اور کردار دونوں سے ہمیں متاثر کیا ہے۔”
محترمہ حبیبہ بخاری کے والد مولانا قاری احمد بخاری صاحب نے نہایت جذباتی انداز میں اپنی بیٹی کی کامیابی کی داستان سنائی۔ انہوں نے کہا کہ “میں نے ہمیشہ اپنی بیٹی کی تعلیم کو اولیت دی اور پردے کا اہتمام کرتے ہوئے ان کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کی۔ حضرت امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی صاحب رحمانیؒ اور موجودہ امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی دعائیں اور رہنمائی میرے اور میری صاحبزادی کے ساتھ رہی ہیں۔حضرت امیر شریعت کی جانب سے اس استقبالیہ اجلاس کے انعقاد اور ان کی صاحب زادی کی عزت افزائی کئے جانے پر انہوں نے جامعہ رحمانی، رحمانی فاؤنڈیشن اور حضرت امیر شریعت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب سے جب سجادہ نشیں بننے کے بعد پہلی ملاقات ہوئی تو اسی موقع پر حضرت نے بڑی تاکید کے ساتھ کہا تھا کہ حبیبہ بخاری کو خوب پرھائیے ان کی پڑھائی کو مت روکئےگا حضرت کی ہدایت کے بعد مجھے اور بھی حوصلہ ملا جس کے بعد آج یہ کامیابی ملی۔
محترمہ حبیبہ بخاری نے اپنی تقریر میں اپنے سفر کی مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، “مجھے اس سفر کے دوران بہت سی تنقیدوں اور طنز کا سامنا کرنا پڑا، لیکن میرے والد ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہے اور مجھے کبھی ہار ماننے نہیں دی۔ آج جو کچھ بھی ہوں، ان کی قربانیوں اور دعاؤں کی بدولت ہوں۔” اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں ہر جگہ حجاب کے ساتھ رہی ، ہر امتحان حجاب کے ساتھ دیا کبھی حجاب میری تعلیم میں رکاوٹ نہیں بنا یہاں تک کہ جب آخری انٹرویو کیلئے جانے لگی تو اس وقت ایک ایسا موڑ آیا کہ قریب تھا کہ میں فیصلہ کر لیتی کہ حجاب اتار کر انٹرویو دینے جاؤں والد صاحب کو جب بتایا تو انہوں نے سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حجاب میں ہی جاؤ کامیابی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ بالاآخر والد کی ہدایت پر حجاب میں انٹرویو دیا اور الحمدللہ حجاب رکاوٹ نہیں بنا اور اللہ نے مجھے کامیابی دی۔
جامعہ رحمانی کے جنرل سکریٹری الحاج مولانا محمد عارف رحمانی نے صدارتی خطاب میں محترمہ حبیبہ بخاری کی کامیابی کا پس منظر پیش کیا اور ان کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ “محترمہ حبیبہ بخاری وہی ہیں جنہوں نے طلاق ثلاثہ کے خلاف مونگیر کی خواتین کو حضرت امیر شریعتؒ کی آواز پر منظم کیا تھا اور پھر ڈی ایم سے قانون کی روشنی میں ایسی گفتگو کی تھی کہ ڈی ایم بھی حیران رہ گیا ۔ آج ان کی کامیابی انہیں کی محنت اور دعاؤں کا صلہ ہے اور قوم کے لیے ایک روشن مثال۔”
یہ تقریب نہ صرف محترمہ حبیبہ بخاری کی کامیابی کا جشن تھا بلکہ قوم کے نوجوانوں کے لیے ایک پیغام بھی کہ سخت محنت، دعا اور والدین کی حمایت سے کوئی بھی خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔محترمہ حبیبہ بخاری کے چچا اور مدرسہ تجوید القرآن مونگیر کے ناظم مولانا عبد اللہ بخاری نے کہا کہ جب میرے والد صاحب کا انتقال ہوا تو اس کے بعد سے آخری دم تک امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نے باپ ک سایہ کی طرح اپنے سایہ سے ہمارے گھر کے افراد کا پورا خیال رکھا ۔کئی مواقع سے مالی کفالت بھی کی اور آج موجودہ امیر شریعت میری بھتیجی کی جو حوصلہ افزائی کی ہے وہ ہمارے خاندان کیلئے فخر کی بات ہے۔
رحمانی فاؤنڈیشن کے سکریٹری مولانا محمد صالحین ندوی نے کلمات تشکر پیش کیا۔ انہوں نے پروگرام میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ “رحمانی فاؤنڈیشن نہ صرف کامیاب افراد کی عزت افزائی کرتا ہے بلکہ ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مکمل تعاون فراہم کرتا ہے۔ محترمہ حبیبہ بخاری کی کامیابی ہماری کاوشوں کا ثبوت ہے۔”
پروفیسر جاوید اختر آزاد صاحب، محفوظ عالم صاحب، شہاب ملک صاحب، ظفر احمد صاحب، ماسٹر خالد صاحب، مولانا مشیر الدین صاحب (سکریٹری ہیلتھ کیئر رحمانی فاؤنڈیشن)، قاضی رضی احمد رحمانی ندوی، ماسٹر احتشام صاحب، پروفیسر کنچن پاٹل، کائنات رحمانی، ماسٹر ابو محمد صاحب، ڈپٹی میئر خالد، پروفیسر اقبال حسن آزاد، حافظ امتیاز رحمانی اور مفتی فیصل بخاری (برادر محترمہ حبیبہ بخاری) وغیرہ نے محترمہ حبیبہ بخاری صاحبہ کی کامیابی کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ان کی جدوجہد کو مثالی قرار دیا۔
تقریب کے اختتام پر محترمہ حبیبہ بخاری کو رحمانی فاؤنڈیشن کی جانب سے شال اور گلدستہ پیش کر کے اعزاز بخشا گیا۔ ان کے والد مولانا قاری احمد بخاری صاحب کو بھی خصوصی طور پر شال پیش کی گئی، جبکہ مکتب ولی کے ناظم اور طالبات نے محترمہ حبیبہ بخاری اور ان کے والد کو تحائف پیش کیے۔
Like this:
Like Loading...