Skip to content
شام سے روسی انخلاء کی تفصیلات کیا ہیں؟
احمد الشرع کا اس حوالے سے کیاموقف ہے؟
شام 15دسمبر( ایجنسیز)
شام کے علاقوں الاذقیہ اور دارالحکومت دمشق کے درمیان بین الاقوامی سڑک پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کے کیمرہ ٹیم نے مخالف سمت سے آنے والے روسی ٹینکوں کے ایک قافلے کو ریکارڈ کرلیا جو دارالحکومت کے جنوب سے ساحل کی طرف پیچھے ہٹ رہا تھا۔
چند گھنٹے بعد 4 شامی حکام نے اعلان کیا کہ روس نے شمالی شام میں اگلے مورچوں سے اور ساحلی پہاڑوں پر واقع پوزیشنوں سے اپنی افواج کو ہٹانا شروع کر دیا ہے، لیکن اس نے صدر بشار الاسد کی معزولی کے بعد ملک میں اپنے دو اہم اڈے نہیں چھوڑے۔
گذشتہ جمعہ کوسیٹلائٹ کی تصاویر میں روس کے کم سے کم دو بڑے فوجی کار گو طیارے Antonov An-124 دکھائے گئے۔ ان کا شمار دنیا کے سب سے بڑے کارگو طیاروں میں ہو ہے ہیں۔ انہیں بہ ظاہر لوڈنگ کی تیاری میں دکھایا گیا ہے۔
روسی انخلاء کی حقیقت کیا ہے؟
جب میڈیا کے ایک گروپ کو کل شام "فوجی آپریشنز” کے کمانڈر احمد الشرع کے ساتھ دمشق کے شیرٹن ہوٹل میں ایک دوستانہ ملاقات میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس ملاقات میں العربیہ/الحدث کی ٹیم بھی شامل تھی۔
الشرع نے ماسکو کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کہا کہ آپریشنز ڈیپارٹمنٹ نے لڑائیوں کے دوران روسیوں کے ساتھ معاملات میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی۔
نہوں نے کہا کہ "فوجی انتظامیہ” نے روس کو ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیجے کہ اس کے اڈوں پر حملہ کرنا ممکن ہے لیکن اس نے دونوں فریقوں کو نئے تعلقات استوار کرنے کا موقع دینے کو ترجیح دی۔
روسی موجودگی کی حیثیت
اس کے علاوہ الشرع نے انخلاء کی کچھ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ روس نے اپنی افواج کو ساحل سے دور اپنی تمام پوزیشنوں سے ہٹانا شروع کر دیا ہے۔
روس نے شام سے اپنے فوجی ساز و سامان کی منتقلی شروع کر دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگلا مرحلہ ملک میں روسی موجودگی کی حیثیت پر بات چیت کرنا ہوگا۔
ایک متعلقہ سیاق و سباق میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کے لیے ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ میں تعلقات عامہ کے ایک اہلکار سے رابطہ کیا۔
لیبیا کی طرف؟
انہوں نے وضاحت کی کہ انخلاء پہلے ہی ہو چکا ہے اور کچھ روسی افواج لیبیا کی طرف روانہ ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روسی افواج تمام جگہوں سے پیچھے ہٹ جائیں گی اور صرف حمیمیم میں تعینات رہیں گی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ روسی درخواست واضح ہے اور اس کے لیے حمیمیم اڈے پر تعیناتی کی ضرورت ہے، لیکن حکومت کا جواب تھا کہ اس حوالے سے مذاکرات ہی میں فیصلہ کریں گے۔
حتمی فیصلہ شامی عوام کریں گے
قابل ذکر ہے کہ روسی فوج کے ساتھ رابطے میں شامی فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے کل اطلاع دی تھی کہ روس نے شامی فوج کے کچھ ساز و سامان اور اعلیٰ افسران کو ماسکو منتقل کر دیا ہے۔
لیکن ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر ہدف دوبارہ منظم کرنا اور تعینات کرنا ہے۔
نئی عبوری انتظامیہ کے قریبی شامی اپوزیشن کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ روس کی فوجی موجودگی اور اسد حکومت اور ماسکو کے درمیان سابقہ معاہدوں کا معاملہ زیر بحث نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کی فوجی موجودگی مستقبل میں ہونے والے مذاکرات سے متعلق ایک مسئلہ ہے اور اس پر حتمی فیصلہ شامی عوام ہی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عبوری انتظامیہ اور ماسکو کے درمیان مواصلاتی چینلز قائم کیےگئے ہیں۔
کریملن نے پہلے اعلان کیا تھا کہ روس شام کے نئے حکمرانوں کے ساتھ اڈوں کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔اس نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک اپنے اڈوں سے دستبردار نہیں ہوا ہے۔
Like this:
Like Loading...