Skip to content
شام میں بشار الاسد خاندان کی 50 سال سے زیادہ عرصے کی حکمرانی ختم ہونے کے بعد اس خاندان کی جمع کی گئی دولت کا تعاقب شروع کردیا گیا ہے۔ اس خاندان کی حکومت حافظ الاسد کے دور سے شروع ہوئی اور ان کے بیٹے بشار الاسد کے 8 دسمبر کو ماسکو فرارہونے پر ختم ہوگئی۔
اسد خاندان نے 1970 کے بعد سے کئی دہائیوں کی حکمرانی کے دوران سرمایہ کاری اور کاروباری مفادات کا ایک وسیع نیٹ ورک پھیلایا ہے۔ بشار الاسد اور ان کے قریبی رشتہ داروں کی دولت میں روس میں لگژری ریل اسٹیٹ کے ساتھ ساتھ ویانا میں موجود ہوٹل بھی شامل تھے۔ سابق امریکی حکام، وکلا اور تحقیقی تنظیموں نے اس کی تصدیق کی ہے۔
وال سٹریٹ جنرل کے مطابق انسانی حقوق کے متعدد وکلا نے تصدیق کی ہے کہ وہ ان اثاثوں کا سراغ لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ انہیں بازیاب کر کے شامی عوام کو واپس کیا جا سکے۔ اس تناظر میں وائٹ ہاؤس کے ایک سابق اہلکار اینڈریو ٹیبلر، جنہوں نے امریکی پابندیوں کے ذریعے اسد خاندان کے اثاثوں کی نشاندہی کرنے کے لیے کام کیا تھا، نے وضاحت کی ہے سابق حکومت کے اثاثوں کی بین الاقوامی تلاش کی جائے گی۔اینڈریو ٹیبلر نے یہ بھی کہا کہ اسد خاندان کئی سالوں سے منی لانڈرنگ میں ملوث رہا ہے۔ اب وہ جلاوطنی میں رہنے کے لیے فنڈز سے اچھی طرح سے لیس ہے۔
ٹوبی کیڈمین، جو لندن میں مقیم انسانی حقوق کے وکیل جو گورنیکا 37 انٹرنیشنل جسٹس چیمبرز کے ساتھ کام کرتے ہیں، نے کہا ہے کہ یہ خاندان مجرمانہ تشدد میں اتنا ہی ماہر ہے جتنا کہ مالی جرائم میں۔ جہاں تک فرانسیسی وکیل ولیم بورڈن کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا ہے کہ یہ رقم، جو روس جیسے ٹیکس کی پناہ گاہوں میں موجود ہے، کی وصولی مشکل ہو گی۔
Like this:
Like Loading...