Skip to content
جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے زیر اہتمام یک روزہ میڈیا و ڈیجیٹل میڈیا ورکشاپ کا کامیاب انعقاد
میڈیا اپنے بیانیہ کے ذریعے عوام کی سوچ کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ہمارے پاس لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنے کے لیے نیوز ایجنسی کا ہونا ضروری ہے۔ (مسیح الزماں انصاری)
ناگپور۔ 15 دسمبر رپورٹ ۔ ذوالقرنین احمد
جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے شعبہ میڈیا کے تحت میڈیا و سوشل میڈیا سے منسلک افراد کیلئے یک روزہ میڈیا ورکشاپ کا انعقاد 15 دسمبر کو مرکز اسلامی جعفر نگر میں عمل میں آیا، پروگرام کے افتتاح میں حافظ شاکر الاکرم نے تذکیر بالقرآن پیش کیا۔ اس کے بعد ابتدائی کلمات خواجہ اظہار احمد نے پیش کیے، انہوں نے کہاں کہ مغربی میڈیا اسلام کے خلاف صرف زمینی جنگ کو جنگ نہیں سمجھتا ہے بلکہ میڈیا کے ذریعے ثقافتی اور تہذیبی میدان میں بھی معرکہ آرائی کی جاتی ہے، ڈیجیٹل میڈیاکے ذریعے ذہن و فکر کو منفی اثرات مرتب کرنے کا کام کر رہا ہے۔
میڈیا کے استعمال کے ذریعے ہمیں اسلامی تعلیمات کی منظم طریقہ سےتشہیر کرنے کی ضرورت ہے۔ مسیح الزماں انصاری ایڈیٹر انڈیا ٹومارو نے ہندوستان میں میڈیا کے منظر نامے کو سمجھنا، موجودہ رجحان اور چیلنجز کے عنوان پر رہنمائی کی، انہوں نے کہاں کہ مین اسٹریم میڈیا میں اقلیتوں کی نمائندگی نا ہونے کے برابر ہے اس لیے عام عوام کے مسائل کو میڈیا میں ہائیلائٹ نہیں کیا جاتا ہے بھارت میں میڈیا پر سرمایہ کاروں اور مخصوص سیاسی جماعتوں کا تسلط قائم ہوچکا ہے پرنٹ سے لے کر الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا پر مخصوص سوچ و نظریہ کے افراد قابض ہوچکے ہیں۔ یہی لوگ اپنا بیانیہ اور اپنی سوچ کو لوگوں میں تقسیم کر رہے ہیں آپ کیا دیکھنا چاھتے ہیں یہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ میڈیا جو چیزیں معاشرے میں پھیلانا چاہتا ہے جو سوچ و نظریہ کو پیش کرنا چاہتا ہے وہ اسی چیز کو آپ کو دیکھنے پر مجبور کر رہاہے۔
میڈیا اپنے بیانیہ کے ذریعے عوام کی سوچ کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نئی اصطلاحات متعارف کروائی جارہی ہے اور فرقہ پرست میڈیا اس کا استعمال کرکے دبی زبان میں مسلمانوں کے خلاف ماحول پیدا کرتی ہیں۔ ہمیں اپنے مسائل کو اپنے طور پر اجاگر کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر جو مسلم نوجوان موجود ہے وہ ایسے کونٹینٹ کو اپنی ویڈیوز میں شامل کیجیے جس سے معاشرہ میں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے پھیلی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے اور لوگوں کا نظریہ تبدیل ہوسکے۔
رضوان احمد ڈیجیٹل میڈیا سیکرٹری جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر نے رائے عامہ کو تبدیل کرنے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا زمینی سطح پر استعمال کیسے کریں اس عنوان پر روشنی ڈالی اسلام اور اسلامی تعلیمات کے متعلق عام عوام و سماج کے ذہن کو مثبت سوچ میں تبدیل کرنا ہمارا مقصد ہے۔ انہوں ڈیجیٹل میڈیا کے اسٹیٹسکس پر پروجیکٹر کے ذریعے تفصیل پیش کی آج بھارت میں آدھی سے زیادہ آبادی ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کر رہی ہے، موجودہ دور میں جس جگہ عوام کی توجہ مرکوز ہوتی ہے وہی چیز گا استعمال لوگوں کے نظریہ کے تبدیل کرنے اور انھیں متوجہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
میڈیا اور بیانیہ سازی کے فن کے عنوان پر جناب ارشد شیخ پونہ سیکریٹری پرنٹ ایند الیکٹرانک میڈیا جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر نے پروجیکٹ کے ذریعے رہنمائی کی۔
مؤثر میڈیا کے لیے حکمت عملی کے عنوان پر مسیح الزماں انصاری نے بہترین انداز میں گفتگو کی انہوں نے کہاں کہ ہمیں وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی بات موئثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ پڑھنے والوں کو مجبور کریں، ہمیں مثبت خبروں کو چھوٹی چھوٹی حقیقی کہانیوں کو پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ہم اپنی بات کو دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔ آخری سیشن میں جناب ارشد شیخ صاحب نے پریس ریلیز کیسے تیار کی جاتی ہے اس متعلق رہنمائی فرمائی،جس کے بعد پریکٹیکل سیشن بھی رکھا گیا ، آخر میں فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی کی بنیادی چیزوں کے بارے میں پریکٹیکل طور پر سفیان پٹھان نے رہنمائی کی۔
سید سلمان سر و ذوالقرنین احمد نے نظامت کے فرائض بخوبی انجام دیے۔ اس ورکشاپ میں صحافت سے جڑے 50 سے زائد مرد و خواتین نے شرکت کی۔جناب ضمیر قادری معاون امیر حلقۂ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر نے زاد راہ پیش کیا اس کے ساتھ پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔
Post Views: 51
Like this:
Like Loading...