Skip to content
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ نے پیر کو کہا ہے کہ ملک میں انتخابات 2025 کے آخر تک ہو سکتے ہیں بشرطیکہ پہلے انتخابی اصلاحات کی جائیں۔
اس سال اگست میں اس وقت کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے وسیع پیمانے پر عوامی احتجاج کے دوران استعفیٰ دے دیا اور ہندوستان فرار ہو گئی تھیں جس کے بعد سے بنگلہ دیش میں ملک کے واحد نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں ایک عبوری انتظامیہ کی حکومت ہے۔
یونس نے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں کہا، "اگر سیاسی اتفاقِ رائے ہو اور رائے دہندگان کی فہرستیں صرف معمولی اصلاحات کے ساتھ درست طریقے سے تیار کر لی جائیں تو 2025 کے آخر تک انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکتا ہے۔”
بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزمان جن کا طلباء کے مہلک مظاہروں کے دوران حسینہ کی حمایت سے انکار ان کی رخصتی کا باعث بنا، نے ستمبر میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ جمہوریت کو 12 سے 18 ماہ کے اندر بحال ہو جانا چاہیے۔
قیامِ بنگلہ دیش کی 53 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے خطاب میں یونس نے کہا، انتخابات صرف انتخابی اصلاحات کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔
"اگر اضافی اصلاحات کی ضرورت ہے اور قومی اتفاقِ رائے کو مدِنظر رکھا جائے تو اس میں کم از کم مزید چھ ماہ لگ سکتے ہیں،” 84 سالہ بزرگ نے مزید کہا۔
عوامی لیگ کے ساتھ ملک کی دوسری غالب جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سمیت حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں نے جلد از جلد انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
Like this:
Like Loading...