Skip to content
جمعہ نامہ: یہ مال و دولتِ دنیا یہ رشتہ و پیوند
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے :”اور اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو” ۔ زندگی اللّہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک بیش قیمت نعمت ہے۔ اس مدتِ کار میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کی تابعداری کرکے اور منکرات سے بچ کر انسان خود کو جنت الفردوس کا حقدار بنا سکتا ہے۔ اس امانت کو نقصان پہنچانا یا اسے ختم کرنا اللہ تبارک کی نافرمانی اور کفران نعمت ہے۔ مشکلات ومصائب زندگی کا صبرو توکل کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہئے۔ بندۂ مومن مشکلات میں اللہ کی مدد سے نکلنے کی سعی کرتا ہے۔ وہ راہِ فرار اختیارکرکے خودکشی کی جانب مائل نہیں ہوتا ۔ خودکشی کی ممانعت میں نبی کریمﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص خودکشی کرتا ہے، وہ قیامت کے دن اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جس حالت میں اس نے خودکشی کی تھی۔ نیزتشریح فرمائی: ’’جس شخص نے پہاڑ سے گر کر خودکشی کی، وہ جہنم میں ہمیشہ کے لئے اسی طرح گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پی کر خودکشی کی، وہ جہنم میں ہمیشہ زہر پیتا رہے گا، اور جس نے خود کو کسی آلے سے مارا، وہ جہنم میں ہمیشہ اسی آلے سے خود کو مارتا رہے گا”۔
وشو گرو بننے کا خواب دیکھنے والاہندوستان خودکشی کے معاملے میں سب سے آگے ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2022 میں بھارت کے اندر 1.71 لاکھ افرادنے خودکشی کی ۔ مودی یُگ میں خودکشی کے پچھلے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ۔ان واقعات میں 42 فیصدخاندانی مسائل، شادی بیاہ اور عشق و محبت سے متعلق ہیں اور مرنئ والے 75 فیصد مرد ہیں ۔ ان اعدادو شمار کی روشنی میں اتُل سبھاش مودی نامی 34؍ نوجوان کی خودکشی پر غور ہونا چاہیے۔ اس نے آئی آئی ٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور اےآئی جیسے جدید شعبے میں زیر ملازمت تھا ۔ اس نے اپنی پسند سے پانچ سال قبل نکِتا سنگھانیا سے شادی کی جو ایک بہت بڑی ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کرتی ہے ۔ ایک سال میں انہیں اولادِ نرینہ مل گئی لیکن پھر ان کے تعلقات کشیدہ ہوئے یہاں تک کہ اتُل سبھاش کو خودکشی کرنی پڑی ۔
اتل سبھاش نے موت سے قبل جو ویڈیو بنائی اس کو سن کر پتہ چلتا ہے کہ اس خودکشی کی واحد وجہ اسلامی ازدواجی قوانین کو ظالمانہ کہہ کر نظر انداز کرنےکے بعد آئینی تصفیہ کی کوشش ہے۔ ہندوستان کی قدیم تہذیب میں شادی ۷؍ جنموں کے لیے ہوجاتی ہے اورعیسائی عقیدے کے مطابق یہ رشتے آسمان پر طے پاتے ہیں۔ اس لیے طلاق کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔یہ چونکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے اس لیے بلکہ مغربی طریقہ کار اپناکر نکِتا نے اپنے شوہر اتُل پر ظلم کیا اور بعد میں اس نے خودکشی کرکے خود کو ہلاک کردیا ۔ اس رسہ کشی کے نتیجے میں ان کا بیٹا یتیمی کا شکار ہوگیا ۔ فرمانِ قرآنی ہے:’’ اے نبی (لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت سے پہلے طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو، جو تمہارا پروردگار ہے۔ تم ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو ان کو نکال دو)۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ آپ کو کیا معلوم شاید اس (طلاق) کے بعد اللہ کوئی نئی بات پیدا کر دے‘‘۔ وہ اگر طلاق کے اس طریقہ پر عمل کرتے تو خودکشی کی نوبت نہ آتی ۔
عدالت سے رجوع کرکے پہلے نکِتا نے ایک اور پھر تین کروڈ کی رقم طلب کیا ۔ چار سال میں چالیس مرتبہ اتُل کو بنگلورو سے جونپور کا عدالتی سفر کروایا ۔ نکِتا اور اس کی ماں اتُل کو خودکشی کا تانہ مارنے لگیں۔ عدالت کی جج ریتا کوشک نے نان نفقہ کم کرانے کے لیے پانچ لاکھ کی رشوت مانگی جبکہ طلاق کے تفصیلی احکامات کے آخر میں ارشادِ قرآنی ہے :’’ اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری کرنے کو ہوں تو ان کو یا تو دستور کے موافق رکھ لو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو، اور ان کو ستانے کے لئے نہ روکے رکھو تاکہ ان پر زیادتی کرو اور جس نے ایسا کیا اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اور اللہ تعالٰی کے احکام سے مسخرہ پن نہ کرو اور تم پر اللہ تعالٰی کی جو نعمتیں ہیں ان کو یاد کرو اور (یہ احسان بھی یاد کرو) کہ اس نے تم پر کتاب و حکمت نازل کی اور وہ تمہیں اس کے ذریعہ نصیحت کرتا ہے اور اللہ تعالٰی سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ تعالٰی ہر چیز سے واقف ہے‘‘۔
اتُل اور نکِتا کے درمیان بیٹے کے حوالے سے بھی تنازع تھا ۔ وہ بیٹے کو باپ سے ملانے کے لیے کئی لاکھ طلب کرتی تھی اور اس کا نان نفقہ بھی اسیّ ہزار ماہانہ مانگتی تھی جبکہ اس بارے میں قرآنی احکامات ہیں:’’ اور ماؤں کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں اور جو شخص اپنے بچے کو (تین طلاق کے بعد بھی) اسی عورت سے پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے تو اس پر دودھ پلانے والیوں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق لازم ہے، کسی کو اس کی گنجائش (برداشت) سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے، نہ تو ماں ہی کو اس کے بچے کی وجہ سے ضرر دیا جائے اور نہ باپ ہی کو اس کی اولاد کی وجہ سے، اور وارثوں پر بھی یہی لازم ہے، پھر اگر وہ دونوں اپنی رضامندی اور مشورہ سے (اس مدت سے پہلے ) دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں اور تم اپنے بچوں کو کسی اور سے دودھ پلوانا چاہو تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم نے جو کچھ ان کو دینا طے کیا ہے، اس کو دستور کے مطابق دے دو، اور اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہو، اور جان لو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو خوب دیکھتا ہے‘‘۔ دینِ اسلام کی یہ تعلیمات تقاضائے فطرت ہیں اور عائلی مسائل کو حل ہوکردیتے ہیں۔ ان سے روگردانی کرنے والے اتُل اور نکِتا جیسے مصائب کا شکار ہوجاتےہیں۔ ان میں سے ایک جان سے جاتا ہے اور دوسراجیل کی ہوا کھاتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے اسلام کے نظام رحمت پر عمل کرکے اس سے ساری دنیا کو روشناس کرایا جائے ۔
Post Views: 286
Like this:
Like Loading...