Skip to content
اپنے رب کو تو پکار دل سے صرف ایک بار
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات میں افضل ترین مخلوق بناکر پیدا کیا ہے ، کائنات اور جو کچھ اس کائنات میں ہے سب انسانوں کے لئے ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کے لئے ہے یعنی اس کی تخلیق کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی ہے،اللہ تعالیٰ کی نزدیکی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ اس کی عبادت واطاعت ہے ،جو بندے اپنی زندگی کے مقصد سمجھ لیتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں اور جو اپنی پیدائش کے مقصد سے غافل رہتے ہیں وہ ناکام اور نامراد ہوتے ہیں ،انسان اپنی زندگی کو جب بندگی بنالیتا ہے تو اسے بندگی کے ذریعہ وہ مقامات حاصل ہوتے ہیں جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا ،اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی نشانی یہ ہے کہ وہ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہتے ہیں زبان وقلب سے بھی اور اپنے اعضا وجوارح سے عمل کے ذریعہ بھی اور اسی کے ساتھ وہ لوگ تخلیق کائنات میںڈوب کر غور وفکر کرتے ہیں اور اس عظیم پر پروردگار کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذا بَاطِلاً (ال عمران :۱۹۱) ’’ اے ہمارے رب ! تونے یہ سب بیکار نہیں بنایا‘‘، حقیقت میں جو لوگ اپنے پروردگار کو یاد کرتے ہیں ،اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہیں اور اس کی تخلیق کردہ چیزوں پر غور وفکر کرتے ہیں اور اس کی تعریف میں اپنی زبان کو تررکھتے ہیں ایسے ہی لوگ دنیا میں کا میاب اور آخرت میں فلاح یاب ہو نے والے ہیں ، قرآن مجید میں ایسے ہی لوگوں کو کامیابی کی بشارت سنائی گئی ہے ،ارشاد ہے : یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ(الحج ۷۷)،اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے بعض مخصوص عبادتیں مخصوص اوقات کے ساتھ مختص فرمائی ہیں مگر اپنے نام ِ مبار ک کے ذکر اور اس کے ورد کیلئے نہ کوئی زمانہ متعین ہے نہ کوئی وقت اور نہ ہی کوئی حد مقرر ہے ،بلکہ ایک فرمانبردار بندہ کی پہچا ن یہ ہے کہ وہ ہر وقت ،ہر لمحہ اور ہر لحظہ اپنے رب کی یاد اور اس کے نام کے ذکر سے اپنی زبان تر رکھتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر میں بڑی تسکین رکھی ہے ،جب بندہ خلوص دل کے ساتھ اپنے رب کا نام نامی اسم گرامی لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے بے چین ومضطرب دل کو چین وسکون عطا فرماتے ہیں قرآن مجید میں ارشاد ہے :الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ أَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ(الرعد ۲۸) ایمان والوں کے دل ذکر خداوندی سے اطمینان پاتے ہیں ،خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعہ کیوں نہ دلوں کو اطمینان حاصل ہو گا حقیقت میں ذکر اللہ تو بے چین اور بے قرار دلوں کا قراراور لاعلاج مرض کا علاج ہے ،یہ وہ عظیم نسخہ ٔ شفاء ہے جس کا انتخاب طبیب اعظم ربِ دوعالم نے فرمایا ہے ،جس کے ذریعہ روز اول سے لے آج تک انگنت اور لاتعداد مریضوں نے شفاء پائی ہے اور قیامت تک پاتے رہیں گے،اور مریضوں کیلئے اس سے بڑھ کر خوش کُن بات کیا ہو سکتی ہے کہ یہ دواء بے حد قیمتی ہونے کے باوجود بالکل مفت ہے ،عقلمند ہیں وہ لوگ جو اس قدر قیمتی مگر نہایت آسان دوا کو استعمال کرکے اپنے دلوں کو سکون پہنچاتے رہتے ہیں اور نادان بلکہ عقل کے اندھے ہیں وہ لوگ جو اس کو استعمال نہ کر کے اپنے دلوں کو بے چین اور زندگیوں کو بے مزہ کر تے رہتے ہیں ، دنیا کی دھن دولت ،بلند وبالا محلات ،قیمتی اشیاء اور طاقت واقتدار سے سکون حاصل کیا نہیں جا سکتا سکون تو بس اللہ تعالیٰ کی یاد ہی سے حاصل ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے کتاب قرآن مجید میں اور اللہ کے رسول ؐ نے اپنے ارشادات کے ذریعہ لوگوں کو تلقین کی ہے کہ وہ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں اور ہر وقت وہر حالت میں کریں ، انفرادی طور پر بھی اجتماعی طور پر بھی ،اللہ تعالیٰ کو وہ مجلسیں پسند ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے ،ارشاد ہے: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اذْکُرُوْا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا(الاحزاب ۴۲)’’اے ایمان والو! اللہ کا ذکر خوب کیا کرو ‘‘،قرآن مجید میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور عورتوں کے لئے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے ،ارشاد ہے:وَالذَّاکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَالذَّاکِرَاتِ أَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَأَجْرًَا عَظِیْمًا (احزاب:۳۴)’’ اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور بہت یاد کرنے والی عورتیں ،ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے‘‘ ۔
بڑی مبارک ہیں وہ مجلسیں جن میں اکٹھے ہوکر لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اور ان کے جمع ہونے کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی یاد ہوتا ہے ، رسول اکرم ؐنے اس طرح کی مجلسیں قائم کرنے والوں کے لئے قیامت کے دن کی خوش خبری سنائی ہے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بعض لوگوں کا حشر اس طرح فرمائیں گے کہ ان کے چہروں پر نور چمکتا ہوا ہوگا اور وہ موتیوں کے ممبروں پر ہوں گے ،لوگ ان پر رشک کر رہے ہوں گے وہ انبیاء اور شہدا نہیں ہوں گے (یہ سن کر حاضرین میں سے) کسی نے عرض کیایارسول اللہ ؐ ان (قابل رشک حضرات)کا حال بیان کر دیجئے تا کہ ہم انہیں پہنچان لیں تو آپ ؐ نے فرمایا:ھم المتحابون فی اللہ من قبائل شتی وبلاد شتی یجتمعون علیٰ ذکر اللہ یذکرونہ(مشکوۃ:۵۰۱۱) ’’یہ حضرات وہ ہوں گے جو اللہ کی محبت میں مختلف جگہوں سے مختلف خاندانوں سے آ آکر ایک جگہ جمع ہوکر اللہ کے ذکر میں مشغول ہوں گے‘‘، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ؐ نے امت کو کثرت کے ساتھ ذکر خداوندی کرنے کی تلقین فرمائی ہے ایک موقع پر آپ ؐ نے ارشاد فرمایا :اکثروا ذکر اللہ حتی یقولوا مجنون(مسند احمد:۱۱۶۷۴)’’اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کثرت سے کیا کرو کہ لوگ تمہیں مجنون کہنے لگیں‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے آخرت میں اپنے ان بندے اور بندیوں کیلئے مغفرت اورجنت کا وعدہ فرمایا ہے جو کثرت کے ساتھ اُسے یاد کرتے ہیں ،ہر وقت یاد الہی سے اپنی زبانوں کو تر اور دلوں کو آباد رکھتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے: والذاکرین اللہ کثیراً والذاکرات أعداللہ لھم مغفرۃ وأجراً عظیماً (الاحزاب ۳۴) (یاد رکھ لو کہ) کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے ذکر کرنے والی عورتیں ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ قابل مبارک باد بلکہ قابل تقلید ہیں وہ مرد وعورتیں جو معمول بنا کر پابندی کے ساتھ ذکر کیا کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ دنیا میں راحت وسکون اور آخرت میں رب کریم سے اجر ِ عظیم پاتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جن گھر وں میں ذکر ہوتا ہے اور وہ مکانات جن کے مکین ذکر اللہ میں مصروف ہوتے ہیں وہ مکانات آسمان والوں کیلئے ایسے چمکتے ہیں جیسے زمین والوں کیلئے آسمان کے ستارے چمکتے ہیں۔ احادیث کی کتابوں میں حدیث بطاقہ کے نام سے ایک مشہور حدیث ہے جس میں آپ ؐ نے قیامت کے دن ایک گنہگار شخص کی بار گاہِ خداوندی میں پیشی کا ذکر فرمایا ہے ،رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے کہ: قیامت کے دن میری امت میں سے ایک شخص کو ساری مخلوق کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اس کے سامنے ننانوے دفتر کھولے جائیں گے جن میں سے ہر دفتر کی لمبائی گویا حد نظر تک ہوگی،پھر اس سے فرمایا جائے گا کہ تیرے جو اعمال ان دفتروں میں لکھے گئے ہیں کیا ان میں سے کسی کا تجھے انکار ہے ؟اور کیاتیرے اعمال کو نوٹ کرنے والے فرشتوں نے تجھ پر کوئی ظلم کیا ہے ،وہ عرض کرے گا نہیں پروردگار! اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تیرے پاس کوئی عذر ہے ،وہ عرض کرے گا خدا یا میرے پاس کوئی عذر نہیں ، ( تمام حاضرین اور خود اسے اس بات کا یقین ہوگا کہ اب اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچنا مشکل ہے) پھراللہ تعالیٰ اس شخص سے فرمائیںگے ،ہاں! ہمارے پاس تیری ایک خاص نیکی بھی ہے ،اور آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا ،یہ فرماکر ایک کاغذ کا پُرزہ نکا لا جائے گا ،اس میں لکھا ہوگا’’ اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ‘‘ اور اس سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے وزن کے پاس حاضر ہو ،وہ عرض کرے گا اے اللہ!ان دفتروں کے سامنے اس پُر زہ کی کیا حیثیت ہے اور اس سے اس کو کیا نسبت ہے،اللہ تعالیٰ فرمائے گا ،نہیں آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا،رسول اللہ ؐفرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ ننانوے دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے ،اور کاغذ کا وہ پُرزہ دوسرے پلڑے میں ،پس ہلکے ہوجائیں گے وہ سارے دفتر اور وزنی ہوجائے گا وہ کاغذ کا پُرزہ ، (آپ ؐ نے ارشاد فرمایا ) فلا یثقل مع اسم اللہ شیی اور کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے نام کے مقابلہ میں وزنی اور بھاری نہیں ہو سکتی۔ (ابن ماجہ:۴۳۰۰)اس حدیث شریف کی تشریح کرتے ہوئے علماء امت فرماتے ہیں کہ یہ وہ بندہ ہو گا جس نے ایک زمانہ تک گناہوں میں ڈوب کر زندگی گذاری ہوگی اور پھر توفیق خداوندی سے کسی وقت اللہ تعالیٰ کا نام اور اس کے اسم گرامی کا ذکر دل کی گہرائی کے ساتھ کیا ہوگا تو اللہ تعالیٰ خلوص نیت اور دل کی گہرائی کے ساتھ ذکر خداوندی کے نتیجہ میں اس کی بخشش فرمادیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے نام کی برکت سے مردہ دل زندہ اور بیمار دل شفا پاجاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نام سے غفلت اور لاپرواہی کے نتیجہ میں دلوں پر غفلت کے پردے اور بدبختی کے تالے پڑ جاتے ہیں اور دھیرے دھیرے بدبختی ،محرومی بڑھتے بڑھتے دل کو مردہ کردیتی ہے اور یہی دوری قیامت کے دن عذاب الٰہی کا سبب بھی ہوسکتی ہے ارشاد ہے : ومن یعرض عن ذکر ربہ یسلکہ عذابا صعداً(الجن ۱۷) یعنی جوشخص اللہ تعالیٰ کے ذکر یعنی احکامات الٰہی جس میں ذکر اور یاد الٰہی بھی شامل ہے سے دوری اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو کل قیامت کے دن سخت ترین عذاب میں داخل کریں گے اور وہ دہکتی ،بھڑکتی ہوئی جہنم کی آگ ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر اور اپنی یاد میں وہ اثر رکھا ہے کہ جب کوئی اسے دل سے یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتے ہیں بلکہ اہل علم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد رکھتے ہیں اور جسے اللہ تعالیٰ یاد رکھتے ہیں اس پر اپنی رحمتیں نازل فرماتے ہیں ،مصیبتیں دور کرتے ہیں اور اس ذکر کی برکت سے اس کے لئے حالات ساز گار بنادیتے ہیں ، موجودہ حالات میں اہل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کثرت سے ذکر کریں اور اہل اللہ کی مجلسوں میں شریک ہوکر اپنے دل کو ذکر الٰہی سے منور کریں ،ان شاء اللہ الجھنیں دور ہوں گی اور راحتیں میسر ہوں گی ،مولانا عاقل حسامی ؒ کیا خوب کہا ہے ؎
اپنے رب کو تو پکار دل سے صرف ایک بار
اپنے رب کو تو پکار دل سے صرف ایک بار
یہ الجھنیں مصیبتیں یہ مشکلیں یہ آفتیں
نہ پاس تیرے آسکیں نہ چھو سکیں صعوبتیں
ملے گی تجھ کو ہر قدم پہ راحتین مسرتیں
اپنے رب کو تو پکار دل سے صرف ایک بار
Like this:
Like Loading...
whoah this weblog is excellent i like reading your articles.
Stay up the good work! You know, lots of people are looking round for this info, you can aid them greatly.
I’m really enjoying the design and layout of your blog. It’s a very easy on the eyes which makes it
much more pleasant for me to come here and visit more often. Did you hire out a designer to create your theme?
Outstanding work!
It is in point of fact a great and useful piece of info.
I’m satisfied that you just shared this useful info with us.
Please keep us informed like this. Thank you for sharing.