Skip to content
سب کچھ لٹا کہ ہوش میں آئے تو کیا کیا ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایوان پارلیمان میں اجلاس کے پہلے ہی دن بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنےایک قدیم حامی بیجو جنتا دل کو گنوادیا ۔ اس سے قبل بی جے پی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ اس کو اپنے بل پر ایوان زیریں میں اکثریت حاصل تھی ۔ ایوان بالا میں وہ ہمیشہ اقلیت میں رہی ہے۔ اس وقت این ڈی اے میں شامل شیوسینا ، انا ڈی ایم کے اور شرومنی اکالی دل سے بھی بات نہیں بنتی تھی تو بی جے ڈی اور بی آر ایس وغیرہ کی مدد لینی پڑتی تھی ۔ اس انتخاب کے بعد این ڈی اے میں شامل شیوسینا (ادھوٹھاکرے) ، اے آئی ڈی ایم کے اور اکالی دل الگ ہوگئے ہیں نیز بی آر ایس اور بی جے ڈی کا سپڑا صاف ہوگیا ہے ۔ اس لیے ایوان بالا میں بی جے پی کا کمل دلدل میں دھنس گیا ہے ۔ ایسے میں بی جے پی کے لیے تمام حامی جماعتوں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ یہ ساری جماعتیں چونکہ اپنے صوبے میں اقتدار سے بھی محروم ہیں اس لیے مرکزی حکومت کی اعانت کا لالچ دینا بھی ممکن نہیں ہے۔ اس تناظر میں بی جے پی کے خلاف اس کے قدیم خفیہ حلیف بی جے ڈی کا اعلانِ جنگ اچھی خبر نہیں ہے۔ ایوان بالا میں فی الحال بی جے ڈی کے ۹؍ اراکین تو موجود ہیں مگر ایوان زیریں میں اس کا ایک بھی رکن کامیاب نہیں ہوسکا۔ بعد از سیاسی خودکشی نوین پٹنایک کی ہوشمندی غالب کے اس شعر (مع ترمیم)کی مصداق ہے؎
کی مرے قتل کے بعد میں نے جفا سے توبہ
ہائے اِس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
امسال فروری میں بیجو جنتا دل نے راجیہ سبھا انتخابات میں مرکزی وزیر اشونی وشنو کی حمایت کی تھی ۔ اڈیشہ کےسابق وزیر اعلی نوین پٹنائک نے حمایت کاجواز پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ریاست میں ریلوے اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں ترقی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔اس احسانمندی کے جواب میں بی جے پی نے اپنے محسن کےگھرمیں سیندھ ماری شروع کردی ۔ اگلے ماہ اڑیسہ میں بیجو جنتا دل کے رکن اسمبلی سکانت کمار نائک نے پارٹی ہائی کمان پر نظر انداز کرکے ذہنی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگاکراستعفی دے دیا۔ان سے قبل کو نبرگپور کےرکن پارلیمان بال بھدر ماجھی نے بھی استعفیٰ دیا تھا اور پھر جھڑی لگ گئی ۔ اٹھارویں لوک سبھا کے پروٹیم اسپیکر بھی عین انتخاب سے قبل اپنی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر کمل تھام لیا تھا ۔ بی جے پی نے ابتدا میں بی جے ڈی کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنے کی کوشش کی تھی مگر پھر ارادہ بدل دیا۔
6 مئی کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اڈیشہ میں اپنی پہلی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ریاست کی عوام کے لیے امید کی ایک نئی کرن اور حکمراں بیجو جنتا دل کے نشان سورج کو ڈوبتاسورج کہا تھا۔ بعد ازاں نریندر مودی نے برہم پور میں بی جے پی کو ایک موقع دینے کی اپیل کرکے ریاست کو ملک میں نمبر ایک بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ احمقانہ وعدہ تھا کیونکہ نمبر ایک پر تو دو صوبےنہیں ہوسکتے ایسے میں کیا مودی جی گجرات کو پیچھے ڈھکیل کر اڑیشہ کو آگےلانے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں؟ ایک طویل عرصے سے نوین پٹنائک کا چہرہ دیکھ دیکھ کر ان سے مایوس ہونے والےاڑیشہ کے لوگوں کی مایوسی کے اندر بی جے پی کو امید کی ایک کرن نظر آگئی تھی۔ اس نے سوچا مغربی بنگال میں متوقع نقصان کی بھرپائی کا یہاں بہترین موقع ہے ۔ اس طرح اڑیشہ کمل والوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔
مذکورہ بالا دورے کے پانچ دن بعد پھر سے وزیر اعظم نریندر مودی ریاست کے بالانگیر شہر میں پہنچ گئے ۔ وہاں پر انہوں نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا تھا کہ اڑیشہ میں بیجو جنتا دل کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہےاور ۴؍جون کو اس کی رخصتی ہوجائے گی ۔ صوبے میں چونکہ قومی انتخاب کے ساتھ ریاستی الیکشن بھی ہورہے تھے اس لیے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اڑیشہ میں پیدا ہونے والے وزیر اعلیٰ اس بار حلف لیں گے ۔ یہ اشارہ نوین پٹنایک کی جانب تھا جن کو والدہ پنجابی تھیں ، نوین پٹنایک کی پیدائش تو کٹک میں ہوئی مگر وہ تعلیم کے لیے دہلی چلے گئے اور پھر ایک طویل عرصہ امریکہ میں رہے۔ اس دوران ان کی توجہ تصنیف و تالیف کی جانب رہی ۔ والد کا انتقال ہوا تو واپس آکرنوین نے جنتا دل کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا اور کامیاب ہوگئے۔ اس وقت چونکہ انہیں اڑیہ بولنے میں دقت تھی اس لیے انہیں باہری قرار دیا گیا۔ جنتا دل نےچونکہ این ڈی اے کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا اس لیےنوین پٹنایک نے بیجو جنتا دل بناکر بی جے پی کو ساتھ لے لیا ۔ اس کے بعد وہ این ڈی اے میں شامل ہوکر اٹل کی کابینہ میں مرکزی وزیر بن گئے ۔
سن 2000میں جب اڑیشہ کے اندر بی جے پی کو کوئی جانتا نہیں تھا تو نوین نےاس کے ساتھ الحاق کرکے کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کردیا۔ اس کے بعد 2009تک یہ علی الاعلان ساتھ رہے اور پھر اپنے بل بوتے پر ریاستی انتخاب جیتتے رہے مگر مرکز میں این ڈی اے کی حمایت کا سلسلہ جاری رہا اور مودی سرکار کے کام آتے رہے۔ بی جے پی نے جب دیکھا کہ درازیٔ عمر اور خرابیٔ صحت کے سبب بیجو پٹنایک نے ریاست کا سارا کاروبار ایک تمل سرکاری افسر پانڈین کے حوالے کردیا ہے ۔ ان کے تحکمانہ رویہ سے مقامی سیاستدانوں سمیت عوام میں ناراضی پھیلتے دیکھ کر اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کا بی جے پی نے فیصلہ کیا ۔ اس نے میڈیا کی مدد سے ریاستی عوام کے اندر یہ تاثر پھیلا دیا کہ اب ان پر نوین پٹنائک کے نام پر ایک تمل راج کررہا ہے۔ اس معاملے کو بھنانے کے لیے وزیر اعظم نے ایک مرتبہ نوین پٹنائک کی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کرنے کے بعد پانڈین کے حوالے سےیہ بھی کہا تھا کہ اڑیشہ کا وقار اور ثقافت خطرے میں ہے اور بی جے پی ریاست کو گروی رکھنے کی اجازت نہیں دے گی ۔
وزیر اعظم نے یاد دلایا تھا کہ اڑیشہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن وہاں کے لوگ غربت سے نبرد آزما ہیں ۔ وہ ملک کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک ہے اور اس کے لیے بی جے ڈی کی سرکار ذمہ دار ہے ۔ اس لیے اسے ہٹا کر بی جے پی کی ڈبل انجن کو لایا جائے۔ ریاست کی عوام نے وزیر اعظم کی گارنٹی پر بھروسہ کرنے سے پہلے یہ نہیں سوچا کہ پہلے چار سال تو اڑیشہ میں ڈبل انجن سرکار تھی۔ جھارکھنڈ اور منی پور وغیرہ میں بھی قدرتی وسائل بھی ہیں مگر غریبی دور نہیں ہوئی۔ یہ کون نہیں جانتا کہ ملک کے قدرتی اور صنعتی وسائل کو مودی سرکار اپنے چہیتے سرمایہ داروں کو اونے پونے دام پر بیچ رہی ہے۔ اس کی اڈانی اور امبانی کے ساتھ سانٹھ گانٹھ ہے لیکن اتنا کون سوچتا ہے؟پھر بھی وزیر اعظم کی چکنی چپڑی باتوں میں لوگ آگئے بی جے پی کی زبردست حمایت کردی۔ نہوں نے کہا کہ بی جے ڈی سرکار کے پچیس سالوں میں لیڈر امیر ہوگئے مگر عوام غریب رہے لیکن یہی تو گجرات میں بھی ہوا۔
مودی نے بی جے ڈی پر کسانوں کو ایم ایس پی نہیں دینے کا الزام لگایا جبکہ ملک بھر کا کسان مرکزی سرکار کے خلاف کم ازکم زرعی پیداوار کی قیمت کے لیے مظاہرے کررہا ہے اور موجودہ سرکار انہیں دہلی پہنچنے سے روکنے کے لیے ان کے راستے میں کیلیں بچھا رہی ہے اور ان فائرنگ کی جارہی ہے۔ بی جے ڈی کے پچیس سالہ دور حکومت میں جب کہا کہ مسٹر پٹنائک عوام اور زمینی حقائق سے کٹے ہوئے ہیں تو سب نے یقین کرلیا ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پر طنز کیا کہ وہ اپنے حلقۂ انتخاب کے دس گاوں کا نام نہیں جانتے ۔ انہیں ضلع کے دارالخلافہ کا نام تک نہیں معلوم حالانکہ وزیر اعظم نہیں جانتے کہ ضلع کی راجدھانی نہیں ہوتی ۔ اقتدار میں تبدیلی کی گارنٹی دینے کے بعد مودی نے کہا تھا کہ عوام پٹاخوں اور ڈھول باجوں کے ساتھ نوین پٹنایک کی شاندار وداعی کا انتظام کریں ۔عوام نے یہی کیا بی جے ڈی کے ارکان اسمبلی کی تعدادکو 51 پر لاکر بی جے پی کو 78 پر پہنچا دیا ۔ کانگریس 14 پر سمٹ گئی اور نوین پٹنایک کا سورج 25 سال بعد غروب ہوگیا۔
پارلیمانی انتخاب میں بی جے ڈی کے سارے امیدوار ہار گئے اور کانگریس کی و احد نشست صوفیہ فردوس نے جیت کر ایک تاریخ رقم کردی ۔ اس کے برعکس بی جے پی نے 20 نشستوں پر شاندار کامیابی درج کرائی۔ اس طرح اترپردیش اور مہاراشٹر میں نہ سہی مگر اڑیشہ میں تو مودی کی پیشنگوئی صد فیصد درست ثابت ہوئی ۔ عوام نے بی جے ڈی کو دونوں انتخابات میں بری طرح شکست فاش سے دوچار کردیا اس لیے مودی جی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اب جبکہ بی جے پی کے کمل نے اپنے قدیم حلیف کا سورج نگل لیا ہے تو نوین پٹنائک پر ایک پرانی فلم کا نغمہ معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے ؎
نہ پوچھ پیار میں ہم نے وہ حقیقت دیکھی
وفا کے نام پہ بکتی ہوئی الفت دیکھی
کسی نے لوٹ لیا اور ہمیں خبر نہ ہوئی
کھلی جو آنکھ تو برباد سیاست دیکھی
سب کچھ لٹا کہ ہوش میں آئے تو کیا کیا
دن میں اگر چراغ جلائے تو کیا کیا
Like this:
Like Loading...
ماشاءاللہ بہت خوب نکات پیش کیے گیے ہیں اڑیسہ کی اسٹوری کمجھنے میں کافی مدد ملی ؛ جزاک اللہ خیرا