Skip to content
جرمنی، 22 دسمبر (ایجنسی) جرمنی میں کرسمس مارکیٹ میں ایک شخص نے اپنی تیز رفتار کار بھیڑ پر چڑھا دی جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ جمعہ کی شام کو مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے شہر میگڈبرگ میں پیش آیا۔ ایک مقامی اہلکار نے تصدیق کی کہ ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم ان کا نام خصوصی واچ لسٹ میں نہیں تھا۔
واقعے کی ویڈیو میں تیز رفتاری سے آنے والی ایک کار کو بازار میں پیدل چلنے والوں کو کچلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد وہاں کے لوگوں میں افراتفری مچ گئی۔ دریں اثنا، سیکسونی انہالٹ ریاست کے وزیر اعلیٰ، رینر ہیسلوف نے کہا کہ اس واقعے میں کم از کم دو افراد (ایک بالغ اور ایک بچہ) ہلاک ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کم از کم 60 افراد اس وقت زخمی ہوئے جب کار ٹاؤن ہال کی عمارت کے قریب کرسمس مارکیٹ سے ٹکرا گئی۔
صوبائی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ بازار میں لوگوں پر گاڑی چڑھانے کا واقعہ غالباً ایک "حملہ” تھا۔ جرمن طبی ذرائع کے مطابق حملے میں 60 سے 80 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق حکام کو شبہ ہے کہ جس کار نے لوگوں کو ٹکر ماری اس میں دھماکہ خیز مواد تھا۔
ایک جرمن اہلکار کے مطابق زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کا مطلب ہے کہ مزید ہلاکتوں کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ، "مجرم کا عمل اس کا انفرادی فعل تھا اور شہر میں اس کے علاوہ کوئی خطرہ نہیں ہے۔” جرمن اخبار "Bild” کے مطابق اس واقعے میں 11 افراد ہلاک اور 80 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب جرمن چانسلر اولاف شولز نے جمعہ کی شام میگڈےبرگ کے کرسمس مارکیٹ میں پیش آنے والے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایکس پلیٹ فارم پر اپنی پوسٹ میں، انہوں نے کہا، "مگڈے برگ سے آنے والی اطلاعات بدترین خوف کو جنم دے رہی ہیں۔ ہمیں متاثرین اور ان کے پیاروں سے پوری ہمدردی ہے، ہم ان کے اور میگڈےبرگ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر کام کر رہی ہیں۔” واضح رہے کہ Magdeburg برلن کے مغرب میں تقریباً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 2.37 ملین افراد پر مشتمل ہے۔
گزشتہ رات کے واقعے نے دسمبر 2016 میں برلن میں ہونے والے حملے کو ذہن میں لایا ہے، جس میں ایک حملہ آور نے کرسمس مارکیٹ میں اپنا ٹرک چڑھا دیا تھا۔ اس حملے میں 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آور بالآخر پولیس کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔ اس حملے کی ذمہ داری "داعش” تنظیم نے قبول کی تھی۔
Like this:
Like Loading...