Skip to content
حج و عمرہ کےدوران شہید ہونے والے
ازقلم:مفتی ندیم احمد انصاری
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی منکر نہیں۔ یہاں تک کہ جسے خدا اور خدائی کا اعتراف نہیں وہ بھی موت کی اٹل حقیقت سے انکار نہیں کرتا۔ ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن موت آنی ہے۔ بہترین موت وہ ہے جو اپنے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کا پروانہ لے کر آئے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی ادایگی کے دوران آنے والی موت سے بہتر کون سی موت ہوگی؟ اسی لیے جہاد کے میدان میں، نماز کے سجدوں میں اور حج و عمرہ وغیرہ کے دوران موت کا آنا تمام اہلِ اسلام کے نزدیک معزز و مکرم ہے۔اللہ و رسول اللہﷺ نے مختلف پیرایوں میں ایسی موت کی عظمت و فضیلت کو بیان کیاہے۔کتنے مبارک ہیں وہ لوگ جن کے مقدّر میں ایسی قابلِ رشک موت لکھی گئی ہے،جس کے بعد ان کے نامۂ اعمال میں کوئی گناہ درج نہیں ہوتا۔ امسال (۲۰۲۴ء میں) حج کے دوران متعدد افراد کے انتقال کی خبریں آرہی ہیں، یہ ہر حساس دل کے لیے روح فرسا اور مرحومین کے پس ماندگان کے لیے صبر آزما ہے، لیکن ظاہر ہے کہ ان حجاج کے حق میں یہ بات نہایت مبارک ہے، جو اس موقع پر ربِّ کعبہ کے شرفِ وصال سے مشرف ہوئے ۔
اتنے کثیر مجمع میں بعض موقعوں پر اس طرح کے حادثات کا پیش آجانا حیران کن بھی نہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے رائی کا پربت بنانے کی کوشش کی ہے۔ اب تو حج سے واپسی کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے اور چشم دید گواہوں-یعنی وہ لوگ جو اس موقع پر جائے واردات پر موجود تھے-کا بیان ہے کہ حکومتی انتظامات میں کوتاہی کے ساتھ حاجیوں کی غفلت وغیرہ بھی اس کا باعث بنی۔
حرمین شریفین کی زیارت کرنا،اپنے گھر بار کو چھوڑ کر، کفن کی چادروں میں لپٹ کر بیت اللہ کا طواف کرنا،صفا مروہ کی سعی کرنا، منیٰ و عرفات میں الحاح و زاری کرنا، جمرات میں کنکریاں مارنے کے لیے جمع ہونا‘یہ سب وہ اعمال ہیں، جن کی انجام دہی کے لیے ہر مومن کا دل مچلتا ہے اور ہر مومن تمنا کرتا ہے کہ اے اللہ میری گنہگار آنکھوں کو بار بار اس مبارک دیار کی حاضری نصیب فرما! اسی لیے جب بھی وہ استطاعت پاتا ہے تو صدائیں بلند کرتا ہے’حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوںتونے مجھے استطاعت دی، میں تیری محبت میں سب کچھ چھوڑ چھاڑکر چلا آیا، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تمام مال و ملک تیرا ہی ہے، میری جان بھی تیری دی ہوئی ہے اور میری موت بھی تیری طرف سے ہے،تونے مجھے اپنے در پر حاضری کی توفیق دی، تیرا بے پناہ احسان ہے‘۔
حاجی تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھےگا
کتنے مبارک ہیں وہ لوگ جو حج کے مبارک سفر میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیتے ہیں۔ رسول اللہﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا؛ایک شخص عرفات میں رسول اللہﷺ کے ساتھ کھڑاتھا، اچانک وہ سواری سے گرااور انتقال کر گیا۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے بیری کے پانی سے غسل دو اور اسی کے کپڑوں (یعنی احرام میں) کفن دو اور اس کا سر مت ڈھانپو، کیوں کہ یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھے گا۔ (بخاری، مسلم)اس کے علاوہ متعدد احادیث میں رسول اللہﷺ نے حرمین شریفین میں فوت ہونے والوں کی مستقل فضیلت ارشاد فرمائی ہے، یہاں چند احادیث ذکر کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
قیامت تک حج کا ثواب لکھا جاتا ہے
حضرت ابو ہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص حج کے ارادے سے نکلا اور (گھر لوٹنے سے پہلے ہی) مر گیا، اس کے لیے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جاتا ہے اور جو عمرے کی نیت سے نکلا اور مر گیا، اس کے لیے قیامت تک عمرے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ جو جہاد کے لیے نکلا اور مر گیا، اس کے لیے قیامت تک غازی کا ثواب لکھاجاتا ہے۔(الترغیب)ایسا کیوں نہ ہو جب کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اللہ کے وفد ہیں اگر اللہ سے دعا مانگیں تو اللہ قبول فرمائیں اور اگر اللہ سے بخشش طلب کریں تو اللہ ان کی بخشش فرما دیں ۔(ابن ماجہ) نیز آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جو حرمین شریفین میں سے کسی ایک میں انتقال کر جائے، وہ قیامت کے دن امن کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔(مجمع الزوائد)
غیرمناسب عمل
اس قسم کے فضائل کے باوجود امسال پیش آمدہ حادثات کا جس طرح ذکر کیا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر جس تیزی سے انھیں شئیر کیا جا رہا ہے اور اس پر بلا سوچے سمجھے جو مناسب و غیر مناسب تبصرے کیے جا رہے ہیں، یہ حرماں نصیبی کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ ایک عمل بلکہ اسلام کے ایک عظیم رکن میں پیش آنے والی اتفاقی مصیبت پر صبر نہ کرنا ہے، جو کہ مومن کی شان کے خلاف ہے اور یہ لوگوں کو ایک عظیم نیکی کی انجام دہی سے ڈرانا ہے، جو کسی طرح درست نہیں۔
علما نے لکھا ہے کہ بعض لوگ حج سے آکر وہاں کی تکالیف کا حال بیان کرتے ہیں، ایسی باتیں نہ کرنی چاہئیں، چاہے وہ واقعی کلفتیں ہوں اور اگر واقعی کلفتوں میں اضافہ کرکے بیان کیا جائے تو یہ اس سے بد تر ہے، وہاں کی کلفتیں بیان کرنے کا یہ انجام ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ حج سے رُک جاتے ہیں، اس کا سارا وبال ان لوگوں پر رہتا ہے، جنھوں نے ان کو بہت ڈرایا ہے۔ (اغلاط العوام)
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کی شہادت کو قبول اور پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
(مضمون نگار الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے صدر و مفتی ہیں)
Like this:
Like Loading...