Skip to content
فلسطین،غزہ،22دسمبر( ایجنسیز)ساڑھے چودہ ماہ کی تباہ کن اسرائیلی جنگ نے غزہ میں جہاں بیس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو بے گھر کر کے بے سرو سامانی میں نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے وہیں موسم سرما کی شدت نے اہل غزہ کے لیے بالعموم اور ان کے بچوں اور عورتوں کے لیے بالخصوص جینا مزید محال کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں لگائے گئے ایک انداز کے مطابق کم از کم 9 لاکھ 45 ہزار بے گھر فلسطینی اس وقت مکمل طور پر گرم کپڑوں، کمبلوں اور ایسے خیموں سے محروم ہیں جو انہیں سردی کی شدید لہر سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ جبکہ ان کے پاس وسائل بھی نہیں ہیں کہ وہ اپنے لیے یا اپنے بچوں اور اہل خانہ کے لیے گرم کپڑوں کی خریداری ممکن بنا سکیں۔
اقوام متحدہ کے لیے مختلف اداروں کی مرتب کردہ غزہ کے سرما کی شدت کو اس طرح دیکھا گیا ہے کلاکھوں فلسطینی بے گھر ایسے کمزور اور پھٹے پرانے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں جو انہیں موسمی کی جاری شدت سے بچا نہیں سکتے ہیں۔ اس لیے خدشہ ہے کہ سرما کےدوران بہت سے ان بے گھر فلسطینیوں کی زندگی بچنا مشکل ہو جائے گا۔
کہ ان خیموں میں ایندھن اور بجلی کے بغیر ان بے گھروں کو اپنے بچوں کو گرم کپڑوں اور کمبلوں کے بغیر ہی رکھنا ہو گا، جبکہ سرما میں بارش اور یخ ہواؤں کی آمد ان کے بچوں اور بوڑھوں کے لیے بطور خاص انتہائی کٹھن ہو گی۔
رپورٹس کے مطابق غزہ میں اگرچہ کھانے پینے کی اشیا اور ادویات و پانی سمیت فلسطینیوں کے لیے ہر چیز کی کمی ہے لیکن جو چیز ان دنوں مین سب سے زیادہ تعداد اور مقدار میں کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ گرم کپڑے، کمبل ، سردی روک سکنے والے خیمے اور ایندھن ہے۔
شادیہ ایادہ رفح سے بے گھر ہوئیں اب ساحلی علاقے المواصی کے پناہ گزین کیمپ میں ہیں۔ ان کے اور ان کے بچوں کے پاس صرف ایک کمبل ہے۔ ان کے ے ساتھ 8 بچے ہییں۔ جو یقینا نہ ہونے کے برابر گرم کپڑوں کے ساتھ اور صرف ایک کمبل کے ساتھ ہیں۔ البتہ ان کے پاس گرم پانی والی ربڑ کی ایک بوتل بھی ہے، لیکن پانی گرم کر کے بچوں کے جسم گرم رکھنے کے لیے ایندھن کہاں سے آئے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان کے پاس موجود خیمہ بھی پھٹا پرانا اور سردی نہ روک سکنے والا ہے۔ محض علامتی خیمہ!
آٹھوں کے ساتھ اس بے خانماں فلسطینی خاتون نے اس صورت حال کے بارے میں ایک سوال پر کہا جب ہمیں پتہ چلتا ہے اگلے گھنٹوں اور دنوں میں موسم ک قدر ٹھنڈا ہو گا یا بارش ہو گی اور ہوا چلے گی تو تو میرے بچے اور خوف زدہ ہو جاتی ہوں۔ کہ یہ کمزور ہو چکے کپڑے کا خیمہ بارش روک سکتا ہے نہ تیز ہوا کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
اس خیمے میں سرد راتیں اور سرد ہو جاتی ہیں جب درجہ حرارت انتہائی نیچے چلا جاتا ہے۔ یہ سردی بچوں کو صرف بیمار کرنے والی نہیں جان لیواحد تک جا سکتی ہے۔ کہ دوسرے بہت سارے فلسطینی بچوں کی طرح میرے بچے بھی گرم کپڑوں کے بغیر ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ جب شادیہ ایادہ اپنے بچوں کو بے گھر ہوجانے کے بعد پناہ گزین کیمپ پہنچیں تو بچوں نے گرمیوں والے کپڑے پہن رکھے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ ساتھ نہیں لا سکے تھے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس سخت سردی کے موسم میں اہل غزہ کے لیے گرم کپڑوں اور کمبلوں کی خریداری تقریباً گیر ممکن ہو چکی ہے کہ وہ یہ کسی صورت ‘ افورڈ’ ہی نہیں کر سکتے ہیں۔ ‘ انروا’ کے ترجمان لوئیسی واتریج نے کہا ہے ‘ انروا’ پر اسرائیل نے غزہ میں داخل ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ایسے میں وہ اپنی خواہش اور کوشش کے باوجود غزہ میں کچھ کرنے سے قاصر ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا ‘ انروا ‘ نے پچھلے چارہفتوں کےدوران 6000 خیمےتقسیم کیے ہیں ۔ لیکن اسے شمالی غزہ کے علاوہ کسی اور حصے تک بالکل رسائی نہیں دی گئی۔
‘ انروا’ ہی کی ترجمان کے مطابق ‘ اس وقت اردن میں چھ لاکھ کمبل روکے پڑے ہیں۔ 22000 خیمے اردن میں غزہ کے فلسطینیوں کے لیے روکے گئے ہوئے ہیں کہ انہیں غزہ پہنچانے کی اسرائیل اجازت نہیں دے رہا۔ اسی طرح مصر میں روک دیے گئے چھ لاکھ کمبل اور 33 ٹرکوں پر میٹرس لدے ہوئے ہیں جنہیں غزہ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ‘ گویا انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ادارے، مذکورہ ملک اور پوری عالمی برداری اسرائیل کے سامنے بے بس ہے۔
بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیونے وونگ نے کہا ان کا ادارہ فلسطینی بچوں کے لیے اس سخت سردی کے دوران گرم کپڑے لانے کی جدوجہد میں لگا ہوا ہے۔ مگر کامیابی نہیں ہو رہی کہ بہت سے متعلق حکام کی اجازت اس مقصد کے لیے لازمی ہوتی ہے پھر مقبوضہ فلسطینی علاقوں تک اشیا کی منتقلی کی جا سکتی ہے۔ ان حالات میں فلسطینی بچوں کے لیے گرم کپڑوں کی فراہمی بہت محدود ہو سکتی ہے۔ جبکہ ضرورت اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
پچاس سالہ ردا ابو دردہ نامی فلسطینی خاتون نے شمالی غزہ سے نقل مکانی کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ خیمے سردی روکنے کے لیے نہیں ہیں محض تسلی کے لیے کہ ہم خیموں ہیں۔ کمبل نہ ہونے کے بربار ہیں۔ یہی حال گرم کپڑوں کا ہے۔ بچوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ بڑی عمر کے افراد بچوں کو اپنے جسموں سے چمٹا کر سلاتے ہیں کہ کسی طرح بچوں کو خیموں کی یخ راتوں سے بچایا جا سکے۔
خیموں کی حالت یہ ہے کہ راتوں کو چوہے بھی آسانی سے ان کے اندر گھس آتے ہیں۔ جبکہ زمین پر ہی ہم بے گھروں کو سونا ہوتا ہے۔ کمبل اگر کسی کے پاس ہے تو خستگی کا شکار ہیں۔ ہر وقت اس خوف میں گذرتا ہے کہ کسی رات سردی سے ٹھٹھر کر کسی بچے کی جان نہ چلی جائے۔
عمر ثابت اپنے تین بچوں کے ساتھ غزہ سٹی سے نقل مکانی کر کے پناہ گزین کیمپ میں ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ اگر کیمپ کے قریب آگ جلا کر سردی کا مداوا کرنے کی کوشش کرتےخیمے کے باہر آگ جلائی تو اسرائیلی فوج بمباری کر کے سب کو بھسم کر سکتی ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ بچوں کو سردی سے بچائیں یا اسرائیلی فوج کی دہشت گردی سے بچائیں۔ میری سات سالہ بچی رات کو سردی سے کانپتی بی اور روتی بھی ہے ہم بے بسوں کو سردی نے مزید بے بس کر دیا ہے۔
Like this:
Like Loading...