Skip to content
بسم اللہ الرحمن الرحیم
"عدالتیں مساجد کے سروے کا حکم دے کر مسلمانوں کی شناخت پر حملے کر رہی ہیں”
سنبھل میں مارے گئے مسلمانوں کے قتل کا ذمہ دار ہندوستانی عدلیہ ہے۔
مرحوم گلزار اظمی لیکچر میں بامبے ہائی کورٹ کے وکلا ءکا اظہار خیال
ممبئی کے گوونڈی علاقے میں واقع گولڈ فیلڈ انگلش ہائی سکول میں تیسرا مرحوم گلزار اعظمی قانونی لیکچر، بعنوان ” مسلم عبادت گاہوں پر عدلیہ کے حملے: وجوہات، نتائج اور روک تھام ” انوسنس نیٹ ورک کی جانب سے منعقد کیا گیا ۔ جس میں کلاء اور عوام نے شرکت کی۔ اس موضوع پر بامبے ہائی کورٹ کی وکیل اور ہیومن رائٹس کارکن ایڈوکیٹ بھاگیہ شاہ کرنے نے اپنی تقریر میں کہا کہ عبادت گاہ قانون 1991 بھارت کا ایک اہم قانون ہے کیونکہ بھارت کا اپنا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے، اس لیے تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے لہذا یہ اہم قانون بنایا گیا تاکہ کسی کی بھی عبادت گاہ کو کسی بھی طرح سے نقصان نہ پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے مطابق ایک ہی مسجد یا مندر کو بھی دوسرے مسلک کی مسجد یا مندر میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا کجا کہ کسی مسجد کو مندر میں تبدیل کیا جائے۔ ملک کے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس چندرچوڈ نے ورشپ ایکٹ ہونے کے باوجود بھی” مسجد میں سروے کروا سکتے ہیں”ایسا حکم دے کر سراسر ناانصافی کی ہے ۔ انھوں نے مذید کہا کہ دیکھا گیا ہے کہ سول کورٹ میں پراپرٹی سے متعلق فیصلے دسیوں سال چلتے ہیں، عدالتوں کے پاس سنوائی کا وقت نہیں ہوتا، ڈھیر سارے معاملات التوا ء میں ہیں، اس کے باوجود مسجد کے نیچے مندر ہونے کے دعوے والی پٹیشن پر ہماری عدالت فوراً حرکت میں آتی ہے اور فعال رول ادا کرتے ہوئے سروے کا حکم دیتی ہے۔ عدالتو ں کی جانب سے کی جانے والی یہ فعالیت ہی مسلمانوں کے مساجد پر اول حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجنتا ایلورا میں بھی بدھشٹوں کے منادر کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ اگر ہر جگہ سروے کا حکم صادر کر تے ہوۓ نوٹس سروے کیا جائے گا تو یہ بات کہاں جا کر رکے گی کوئی نہیں کہہ سکتا۔ اور اس طرح کے سروے آرڈر دیکر عدالتیں کیا چاہتی ہے۔ اس طرح کے معاملات میں ماضی میں فسادات ہوئے ہیں۔ اور آگے بھی فسادات ہونے کے زیادہ امکانات ہیں تو ایسے میں سروے کا آرڈر دینے کے نتیجے میں اگر فسادات ہوتے ہیں اور لوگوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں تو عدالت اس کا ذمہ اٹھانے تیار ہے؟ حال ہی میں سنبھل شاہی جامع مسجد میں ہم فسادات اور ہلاکتوں کو بھگت چکے ہیں۔
اس لیکچر میں بامبے ہائی کورٹ کی ایڈوکیٹ اور قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن پریتھا پال نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ ایک زمین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے وہ مسلمانوں کی شناخت پر حملہ کر رہے ہیں۔ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں انہیں حکومت کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ عدالتیں بھی ان کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔ دستور میں کہا ہے کہ عدلیہ آزاد ہو مگر ایسا حقیقت میں نہیں ہے انہوں نے سوال اٹھایا کہ عبادت گاہ قانون 1991 میں بابری مسجد کو کیوں مستشنی رکھا گیا ؟اس کی وجہ سے تنازعات کا ایک نیا باب کھلا ہے ۔ درحلا نکہ بابری مسجد 15 ویں صدی کی مسجد تھی۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد فیصلے میں ایک بات مزیدار اور دردناک ہے وہ یہ کہ شہادت ہوئی، وہ تو شرم کی بات ہے، مگر جن لوگوں نے غلطی کی ان کے حق میں فیصلہ دے دیا گیا ۔ موصوفہ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سروے کیوں کروایا جا رہا ہے ؟ اور عدالت ایسے سروے کرنے کی اجازت کیوں اتنی آسانی سے دے رہی ہے؟ کیا کسی کو کوئی امتحان کی تیاری کرنی ہے؟ کیا کوئی ان سروے کے ذریعے ریسرچ پیپر تیار کر رہا ہے؟ کیا کوئی اکیڈمک ورک ہو رہا ہے؟ جسٹس چندر چوڈ نے ایسا کیوں کیا؟ اور اس قانون کے معنی بدل کے رکھ دیے۔ جب آپ سروے کریں گے تو بات سروے سے آگے بڑھے گی، اور عمارت کی حیثیت بدلنے کے سوال اٹھیں گے، جو اٹھ رہے ہیں۔ جسٹس چندر چوڑ کے اس حکم کے بعد سروے ایپلیکیشن کی باڑ ھ آگئی ہے۔
ایک قوم کے مذہبی مقامات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ورشپ ایکٹ کی دستوری حیثیت کے بارے میں عرضی پینڈنگ تھی اس کا فیصلہ جسٹس چندر چوڈ نے نہیں دیا بلکہ سروے کا حکم دیا۔ سنبھل میں جو لوگ مارے گئے ان کے قتل کا ذمہ دار کورٹ ہے۔ عدالت کو سمجھ نہیں کہ ان کے حکم کے کتنے گمبھیر اثرات ہوتے ہیں۔ عام لوگ پر اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ان تنازعات کو کیسے روکا جائے اس پر موصوفہ کہتی ہے کہ ہمیں بیداری لانی ہوگی۔ اس طرح کے پروگرام ہر جگہ کروانے ہوں گے ۔ بولنا ہوگا، لکھنا ہوگا ، عدالتوں سے سوال اٹھانا پڑے گا ۔ ججوں کو چٹھیاں لکھ کر سوال پوچھنا پڑے گا کہ وہ ایسے معاملات میں کیوں فعال ہیں؟ جس سے ماحول خراب ہوتا ہے اور ایک فرقے کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں بلکہ مذہبی حقوق پامال ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر عدالت نے اس قانون کو غیر دستوری قرار دیا تو ہم کیا کریں گے ؟ سوچیے، بولیے، لکھتے رہیے۔ پروگرام کرتے رہیے۔ خاموش نہ رہیے۔ اس پروگرام میں گھریلو پریشانی اچانک آ جانے کے سبب بامبے ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل ایڈوکیٹ مہیر دیسائی شریک نہ ہو سکے۔ گیان واپی مسجد میں جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ نے یہ کہہ کر سروے کی اجازت دی کہ اس سے مسجد کی ہیت نہیں بدلے گی لیکن آگے چل کر اس سروے رپورٹ کی بنیاد پر پوری مسجد کو مندر میں بدل دینے کی بات کی جائے گی ۔
ایڈوکیٹ واحد شیخ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ مغلیہ سلطنت میں مختلف بادشاہوں نے مندروں کو توڑ کر مسجدوں کی تعمیر کی، انھوں نے سوال اٹھایا کہ جب مغلیہ بادشاہ اکھنڈ بھارت کے سیاہ و سفید کے مالک تھے، ملک کی پوری زمین ان کے دسترس میں تھی، وہ جہاں چاہے مسجد بنا سکتے تھے تو آخر کیوں انہوں نے مندر توڑ کر مسجد بنائی؟ جس کی اسلام بھی اجازت نہیں دیتا اور جسے کوئی مسلمان پسند نہیں کرتا اور ایسی بنائی ہوئی مسجدوں میں کوئی مسلمان نماز ادا کرنا بھی نہیں چاہتا۔ اگر مغلیہ سلطنت کے بادشاہوں نے ملک کی مندر توڑنے کے احکامات جاری کیے ہوتے تا آج ملک میں ایک بھی مندر نظر نہیں آتا ۔ بابری مسجد کیس میں چندر چوڈ نے اپنے فیصلے میں عبادت کا قانون 1991 کا حوالہ دے کر کئی صفحات اس کی تعریف میں لکھے ہیں۔ لیکن اس فیصلے کے بعد وہی چندرچوڈ سروے کا حکم دے کر اس قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ۔ جن لوگوں نے بابری مسجد کا فیصلہ دیا ان ججوں کو حکومت نے آگے چل کر بڑے اہم منصف پر فائض کیا۔ شاید اسی طرح کے لوگوں کے لیے فیض احمد فیض نے کہا تھا
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کرے کس سے منصفی چاہیں
موصوف نے بتایا کہ بابری مسجد کا فیصلے دینے والے جسٹس عبدالنظیر کو آندھرا پردیش کا گورنر بنایا گیا ۔ جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا میں ممبر آف پارلیمنٹ بنایا گیا ۔ ساتھ ہی ساتھ چندر چوڈ کو نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کا چیئرمین یا انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں بھیجنے کی باتیں ہو رہی ہے۔ دوسری طرف اس کیس کے جسٹس اشوک بھوشان کو نیشنل کمپنی لاء ایپلاءٹ ٹریبونل کا چیئرمین بنایا گیا۔ تو ایسی حقیر پوسٹ حاصل کرنے کے لیے کیا ان ججوں نے بابری مسجد کا سودا کیا اور غلط فیصلہ سنایا ہے؟
انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں نے بھارت میں ہمیشہ ہندو مسلم ہم آہنگی قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ دہلی کی معروف تنظیم خدائی خدمت گار کے لوگوں نے مسجد اور مندروں میں جا کر ہندو مسلم بھائی چارہ کی بات کی ۔ متھرا میں نند بابا مندر میں پجاری سے ملنے گئے نماز کا وقت ہوا ۔ پجاری سے اجازت لے کر انھوں نے مندر کے احاطے میں نماز ادا کی۔ اس کا واویلا کھڑا کیا گیا ۔ اور ایسے مسلمانوں پر ایف آئی آر بنا کر جیل میں بھیج دیا گیا جو اس ملک میں ہندو مسلم بھائی چارگی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ آئے دن مسجد کے نیچے مندر ہونے کا دعوی کر کے سروے کا مطالبہ کرتے ہیں ، عدالتیں ان کی ستائش کرتی ہے۔ ان کی ایپلیکیشن کو قبول کیا جاتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی مذہبی مقام کو تبدیل کرنے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں کبھی کسی عبادت گا ہ کی بے حرمتی نہیں کی گئی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فتح مکہ کیا تو کعبہ کے اندر رکھی مورتیاں ہٹائی لیکن کعبہ کے ہئیت کو نہیں بدلا گیا۔ انہوں نے کئی تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح سے مسلم خلیفہ اور حکمرانوں نے جس علاقے کو بھی فتح کیا وہاں کے عبادت گاہوں کو چاہے وہ چرچ ہو یا دوسری عبادت گاہیں، ان کے تحفظ کی ضمانت دی اور تحریری ضمانت دی گئی۔
اس موقع پر پانچ مطالبات کیے گئے پہلا مطالبہ اس پروگرام میں یہ کیا گیا کہ بابری مسجد کی جگہ مندر کو دے کر جو غلطی عدالت نے کی ہے جس کے بعد سے یہ سلسلہ دراز ہوا ہے اس غلطی کو درست کیا جائے۔ دوم، سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ کسی مندر کو توڑ کر بابری مسجد نہیں بنائی گئی تو پھر مندر کو جگہ کیوں دے دی گئی ہمارا مطالبہ ہے کہ بابری مسجد واپس مسلمانوں کے حوالے کی جائے۔ سوم، ملک بھر میں جہاں جہاں مسجدوں اور درگاہوں کے نیچے مندر ہونے کا دعوی کرنے والی عرضیاں کی جا رہی ہیں، یہ عبادت گاہ قانون کا کھلا وائلیشن ہے ان سب کو کالعدم قرار دیا جائے۔ چہارم، جو لوگ ایسی عرضیاں کر کے نقص امن کا کام کر رہے ہیں ان کو سیکشن 6 عبادت گاہ قانون 1991 کے تحت تین سال کی سزا اور جرمانہ لگایا جائے۔ پنجم، جو ہندو تنظیمیں مسجدوں کے نیچے مندر ہونے کا شوشہ چھوڑ کر سروے کا مطالبہ کر رہی ہیں ایسی تمام تنظیموں کو ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے یو اے پی اے کے تحت پابند کرنا چاہیے۔ پروگرام کا افتتاح مولانا ابو عبیدہ امام و خطیب دارالفلاح مسجد گوونڈی کے تلاوت و ترجمہ قران سے ہوا۔ اس کے بعد پروگرام کی غرض و غایت عباس شیخ صاحب نے پیش کی۔ اظہار تشکر ڈاکٹر فرید شیخ نے ادا کیا اور دعا پر اس پروگرام کا اختتام ہوا۔
Post Views: 68
Like this:
Like Loading...