Skip to content
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اتوار کے روز شامی دارالحکومت دمشق کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر ان کی التحریر الشام کے سربراہ احمد الشرع کے ساتھ شام کی تازہ صورت حال، سرحدی امور اور دو طرفہ تعلقات کے موضوعات پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں شام سے جلد از جلد عالمی پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
احمد الشرع جن کو پہلے ابو محمد الجولانی نے نام سے جانا جاتا تھا تحریر الشام کے سربراہ ہیں اور ان کی قیادت میں التحریر الشام کے جنگجووں نے بشارالاسد حکومت کا تختہ الٹایا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فیدان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو شام کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کریں تاکہ شام دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے اور اس کے شہری بیرون ملک سے واپس لوٹ سکیں۔
دونوں طرف کے بعض دوسرے حکام بھی اس ملاقات میں شامل تھے۔
جمعہ کے روز ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کی نئی حکومت کی نئے دستور کی تشکیل سے لے کر دیگر امور میں بھی بھر پور مدد کرے گا۔ اس سلسلے میں وزیر خارجہ ترکیہ جلد شام جائیں گے۔
خیال رہے 12 دسمبر کو ترکیہ کے انٹیلی جنس کے چیف نے بھی شام کا دورہ کیا تھا۔ ان کا دورہ چار دن تک جاری رہا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بھی بحال ہو چکے ہیں۔ انقرہ نے شام میں خانہ جنگی سے اب تک مسلسل لاکھوں شامی شہریوں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔
اب وزیر خارجہ ترکیہ کا دورہ شام ترکیہ کی سرحد پر امریکی حمایت یافتہ کرد جنگجووں اور ترکیہ کے حامیوں کے درمیاں لڑائی کے واقعات کے بارے میں شامی قیادت سے تبادلہ خیال کر نے کے لیے تھا۔ دلچسپ بات ہے کہ امریکہ کی طرف سے شامی علاقوں میں بمباری کے علاوہ اس کی کرد”پراکسی’ بھی شامی سرحد پر جنگی حالت میں ہے۔
Like this:
Like Loading...