Skip to content
شیکھر یادو: شیر کی کھال میں بکری
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
8 ؍ دسمبرکوہندوستان کی عدلیہ کی پیشانی پر لگنے والاکلنک صدیوں تک نہیں مٹ سکے گا۔ اس دن پریاگ راج میں وشوہندو پریشد کے قانونی شعبے کی تقریب میں موجود جج کی شرکت اور خطاب اپنے آپ میں ایک شرمناک واردات تھی ۔ اس پر انہوں نے جو کہا وہ کریلا نیم چڑھا ہوگیا۔ شیکھر یادو نے کمال ڈھٹائی سے کہا کہ ہندوستان صرف "اکثریت” کی خواہشات کے مطابق کام کرے گا۔ ایسا ہوتورہا ہے لیکن اس کا اعتراف کرنے میں لوگ شرم محسوس کرتے ہیں ۔ یادو جی تو بالکل برہنہ ہوگئے ۔ اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے حوالے سے ایسے قابل اعتراض تبصرے کیے کہ وی ایچ پی والے بھی شرمندہ ہوگئے ۔ اب تو یتی نرسنگھانند اور یوگی ادیتیہ ناتھ کے علاوہ کوئی بھی شیکھر یادو کے دائیں بائیں کھڑا نہیں ہے۔ یادو جی کو "یکساں سول کوڈ : ایک آئینی ضرورت ” پر بولنے کے لیے بلایا گیا تو 2026 میں ریٹائر ہو نےکے بعد بی جے پی کے ٹکٹ کی خاطر ہاتھ پیر مارنے لگےاور ایسا کرتے ہوئے انہوں نے متنازعہ اصطلاح "کٹھ ملا ” کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا ۔ .
جسٹس شیکھر یادو کی بات مان کر ملک اکثریت کی خواہشات کے مطابق ملک چلایا جائےتو ہر قضیہ چکانے کی خاطر استصواب کرانا کافی ہے۔ ایسے میں نہ کسی یکساں سیول کوڈ یا پرسنل لاء کی ضرورت اور نہ عدالت و جج کی حاجت باقی رہے گی ۔ ہر مسئلہ پر لوگ آن لائن اپنی رائے دے دیا کریں اور فیصلہ چکا دیا جائے ۔ مثلاً ایوان پارلیمان میں ’ ون نیشن ون الیکشن ‘پر بحث و مباحثے کے بجائے عوام سے پوچھ کر فیصلہ کر لیا جائے۔ اس سے آگے بڑھ کر گوتم اڈانی بدعنوانی کی بابت فیصلہ کرنے کے لیے عوام سے رائے طلب کی جائے اور اگر اکثریت یہ کہتی ہے کہ وہ کرپٹ ہے تو اس کی جائیداد کو سرکاری خزانے میں ڈال کر اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جائے ورنہ الزام لگا نے والوں کو پھانسی دے دی جائے۔ پچھلے گیارہ سال میں للت مودی اور نیرو مودی کو واپس لانے ناکام سرکار بھلا اڈانی کو کیا گرفتار کرے گی مگر جسٹس شیکھر یادوکے نفرت انگیز بیان کی وجہ سے جیل بھیجیے جانے کا قوی امکان ہے ۔
مسلمانوں کے عائلی مسائل پر تنقیدکرتے ہوئے یادو نے سوال کیا کہ جب بچوں کے سامنے بچپن سے ہی جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے تو وہ کیسے مہربان اور روادار بن سکتے ہیں؟ یہ بیان اس وقت دیا گیا جب اترپردیش کے اندر نکِتا سنگھانیا کی سفاکی کے سبب اس کا شوہر اتُل سبھاش مودی خودکشی کررہا تھا ۔ کاش کے یادو جی اپنے گریبان میں جھانکتے تو ان کی عقل ٹھکانے آجاتی۔ مسلمانوں پر تعدد ازدواج کا الزام رکھنے والے شیکھر یادو بھول گئے کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس کی شرح ہندووں میں زیادہ ہے۔ ہندو سماج میں یک زوجگی کی روایت پر لن ترانی کرنے والے شیکھر یادو بھول گئے راجہ دشرتھ نے چار عدد شادیاں کی تھیں اور دروپدی کے پانچ شوہر تھے ۔ تین طلاق کی مخالفت میں جدائی کو مشکل بنانے کے سبب ایک عورت گجرات میں شادی کے 6؍ ماہ بعد طلاق کے ساتھ 500کروڈ کا مطالبہ کرتی ہے اور ان کے جیسا جج نے12 کروڈ دلواتا ہے۔
شیکھر کمار یادو کی متنازعہ تقریر پر سپریم کورٹ نے مواخذہ شروع کیا تو اترپردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نےان کادفاع کرکے اپنی بے عزتی کروالی ۔ یوگی نے حزب اختلاف کے رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ جسٹس یادوکو ہٹانے کا مطالبہ کر کے "آئین کا گلا گھونٹنے” کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئین کے بجائے اکثریت کی مرضی سے فیصلے کرنے کے قائل کو ہٹانا آئین کے خلاف کیسے ہوگیا ؟ یہ تو یوگی بابا ہی بتا سکتے ہیں جن کو نہیں معلوم کہ شیکھر یادو نے جج کے طرز عمل 1997 میں سپریم کورٹ کے اختیار کردہ ضابطہ اخلاق اور عدالتی زندگی کی اقدار کی خلاف ورزی کی ہے ۔ اس میں ہدایت کی گئی ہے کہ ججوں کو غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے ایسے طرز عمل سے گریز کرنا چاہیے جس سے عدالتی اداروں پر عوام کا اعتماد ختم ہو۔یہی وجہ ہے کہ معروف وکیل پرشانت بھوشن نے سی جے اے سے جسٹس یادو کو مختص عدالتی کام کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے طرز عمل کی تحقیقات کے لیے ایک ان ہاؤس کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کردیا ۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی رہنما برندا کرات نے سی جے آئی کو یہاں تک لکھ دیاکہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج کی تقریر ان کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے انصاف کی عدالت میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔انہیں آگے بڑھ کر یہ بھی کہنا چاہیے تھاایسے لوگوں کو جیل میں ہونا چاہیے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شیکھر کمار یادو کی وشو ہندو پریشد کی میٹنگ میں شرکت اور تقریر پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے لکھا کہ "وی ایچ پی پر کئی مواقع پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ یہ آر ایس ایس سے منسلک ہے، ایک ایسی تنظیم جس پر ولبھ بھائی پٹیل نے ‘نفرت اور تشدد کی طاقت’ ہونے کی وجہ سے پابندی عائد کی تھی۔ ہندوستان کا آئین عدالتی آزادی اور غیر جانبداری کا تقاضا کرتا ہے۔” موصوف نے کہا، "بھارت کا آئین اکثریتی نہیں بلکہ جمہوری ہے۔ جمہوریت میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔”
سپریم کورٹ نے ان بیانات کے پیش نظرجسٹس یادو کے متنازعہ بیان پر ازخود نوٹس لے کر ہائی کورٹ سے تفصیلات اور وضاحتیں طلب کر لیں نیز چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی قیادت والی کالجیم کے سامنے حاضری کا حکم دےدیا۔ راجیہ سبھا میں 55؍ ارکان پارلیمنٹ کے دستخط سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے مواخذے کا نوٹس دے دیا ۔ جسٹس یادو جب چہار جانب سے گھِر گئے ہیں اور ان کی ملازمت پر تلوار لٹکنے لگی تو گھبرا کر لنگڑے لولے جواز دینے لگے ۔ اس باوجود مدعی سست گواہ چست کی مصداق یوگی نے کہہ دیا ’’جو بھی سچ بولتا ہے، یہ لوگ (اپوزیشن) اسے تحریک مواخذہ سے ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں ،اس کے بعد آئین کی بات بھی کرتے ہیں۔ ان کا دہرا معیار تو دیکھو۔‘‘ یہ دراصل اپوزیشن کی نہیں بلکہ خود ان کی منافقت ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ایک اقتدار کابھوگی بھگوا چولہ اوڑھ کر یوگی بن جاتا ہے۔
یوگی کی حمایت جسٹس یادو کوجوابدہی سے نہیں بچاسکے گی کیونکہ اب تک کی روایت کے مطابق متنازع معاملے میں جب سپریم کورٹ کی کالیجیم ہائی کورٹ سے کسی جج کے خلاف رپورٹ طلب کرتی ہے تو اس کو ذاتی طور پر حاضر ہوکر اپنا موقف پیش کرنا لازم ہوتاہے ۔ جسٹس شیکھر یادو کی بھی طلبی اور سرزنش دونوں ہوئی؟ سی جے آئی سنجیو کھنہ کی قیادت میں پانچ ججوں کے کالجیم نے ان سے کم از کم 45 منٹ تک استفسار کیا اور پھر سے بلایا جا ئے گا۔ اس دوران انہیں اپنے آئینی عہدے کے وقار کو برقرار رکھنے اور عوامی تقریر کرتے وقت محتاط برنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔ جسٹس شیکھر یادو نے کالجیم کے سامنے اپنی تقریر کے مقصد، معنی اور سیاق و سباق کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے میڈیا پر الزام لگایا کہ اس نے غیر ضروری تنازعہ کھڑا کرنے کے لیے ان کی تقریر کے منتخب اقتباسات پیش کیے ہیں۔اس طرح شیر کی کھال سے بکری باہر آکر ممیانے لگی ۔
جسٹس یادو میں اگر ہمت ہوتی تو کہہ دیتے کہ میں اپنے موقف پر قائم ہوں ۔ غیرت ہوتی تو استعفیٰ دے مارتے۔ اس طرح بی جے ہی انہیں 2027 میں ٹکٹ دے کر کامیاب کروا دیتی لیکن انہیں تو اب ہندووں میں بھی کٹھ ملے دکھائی دینے لگے مگر کالجیم نے اس وضاحت سے اتفاق نہیں کیا۔ عدالت عظمیٰ کے کالجیم نےجب کہا کہ آئینی عہدہ پر فائز، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کے طرز عمل، برتاؤ اور تقریر کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے تو یادو جی ہوش ٹھکانے آئےْ۔ان سے توقع کی گئی کہ وہ اعلیٰ عہدے کے وقار کو برقرار رکھیں ۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ گنیش کی آرتی کرنے والےسابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے جسٹس شیکھر کمار یادو کے بارے میں ایک بڑا انکشاف کرکے ان کی پیٹھ میں ترشول بھونک دیا۔
سابق چیف جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ وہ شروع سے ہی جسٹس شیکھر یادو کی تقرری کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اس کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس جے آئی رنجن گوگوئی کی سربراہی والی کالجیم کو خط لکھ کر سختی سے مخالفت کی تھی۔ جسٹس شیکھر یادو کے حالیہ متنازعہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے چندرچوڑ نے کہا کہ ایک موجودہ جج کو عدالت کے اندر یا باہر ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ کیا کہتے ہیں ؟ جج کے بیان سے ایسا پیغام نہیں جانا چاہیے کہ عدلیہ کو جانبدار سمجھا جائے۔یہ بیان وہ شخص دے رہا ہے جس نے بابری مسجد کے قضیہ پر نہایت جانبدارانہ فیصلہ کیا۔ سابق سی جے آئی نے تبدیلیٔ مذہب کو نہ روکنے کی صورت میں اکثریتی آبادی کےاقلیت میں آجانے کی دلیل مسترد کردی۔ انہوں نے نصیحت کی کہ عدالت کو کسی برادری کے خلاف متعصب نہیں ہونا چاہیے لیکن وہ نہیں جانتے کہ شیکھر اور یوگی جیسے لوگوں کے لیے اقبال نے کیا کہا ہے؎
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
Post Views: 252
Like this:
Like Loading...