Skip to content
غزہ : جنگ بندی معاہدہ قریب پہنچنے کے باوجود ابھی اختلافات موجود ہیں
غزہ :24دسمبر( ایجنسیز)
غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے قریب پہنچ گئے۔ البتہ بعض چھوٹے چھوٹے ایشوز طے کرنا باقی ہے۔ یہ بات اسرائیل اور حماس دونوں کے ذرائع سے بتائی گئی ہے اور پیر کے روز کہا گیا ہے کہ معاہدہ قریب ہے۔ اگرچہ بعض اہم اختلافات کا طے کیا جانا ابھی باقی ہے۔
واضح رہے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مصر، قطر اور امریکہ کے توسط سے مذاکرات کا ایک نیا سلسلہ جاری ہے۔ تاکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اسی ماہ ممکن ہو سکے۔ اگرچہ فی الوقت ابھی کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
ایک فلسطینی ذمہ دار نے جو ان مذاکرات کے معاملات سے باخبر ہے کا کہنا تھا کہ بعض مشکل نکات طے کر لیے گئے ہیں۔ تاہم اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کی رہائی کے حوالے سے کچھ ناموں پر اتفاق ہونا ابھی باقی ہے۔ اسی طرح غزہ میں اسرائیلی فوج کی تعیناتی کے مسئلے پر بھی ابھی اتفاق نہیں ہوا۔
اس بارے میں اسرائیلی وزیر ایمیچائے چکلی نے کہا ‘ابھی دونوں ایشوز پر مذاکرات جاری ہیں۔’ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ فریقین ایک معاہدے پر پہنچنے کے لیے پچھلے کئی ماہ کے مقابلے میں زیادہ قریب ہیں۔
چکلی نے کہا کہ یہ معاہدہ 6 ماہ تک جاری رہ سکتا ہے اور اگلے 10 سال کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے لازم ہے کہ زمین پر کیا حقائق ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ غزہ کو کنٹرول کون کرے گا اور غزہ کی تعمیر نو کون کرے گا جب جنگ ختم ہوگی۔
ایک فلسطینی ذمہ دار نے کہا کہ جنگ بندی کی مدت کا تعین بڑا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہ پچھلے مذاکرات کے ہر دور میں زیر بحث رہا ہے۔ لیکن اس پر کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ حماس جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے جبکہ اسرائیل حماس کا خاتمہ چاہتا ہے اور حماس کے غزہ میں اقتدار کا خاتمہ پہلے چاہتا ہے۔ اس لیے جنگ کے مکمل خاتمے کا یہ نکتہ ابھی طے نہیں ہو سکا ہے۔
اسرائیلی وزیر اور سیکیورٹی کابینہ کے بھی رکن زی ایلکن نے اسرائیلی فوجی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق کریں جو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں اختلافات کو روکے ۔
جبکہ اسرائیلی وزیر چکلی کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ انسانی بنیادوں پر رہائیوں کا ہو سکتا ہے جس میں یرغمالیوں کی رہائی ہوگی۔ یہ 42 روز تک جاری رہ سکتا ہے۔
وزارت صحت غزہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران اب تک 45200 سے زائد فلسطینی قتل ہوئے ہیں۔ جبکہ 23 لاکھ فلسطینی بےگھر ہو چکے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق پیر کے روز ہونے والی اسرائیلی بمباری میں 11 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔
کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ نے کہا ‘ہم روزانہ خطرات محسوس کرتے ہیں۔ اسرائیلی بمباری ہر طرف ہو رہی ہے جس سے ہسپتال کی عمارت و طبی عملہ کو زخمی فلسطینیوں سمیت شدید خطرات کا سامنا ہے۔ ‘
اسرائیلی فوج نے اس سلسے میں کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی سرگرمیوں کے لیے چیف ٹام فلیچر نے پیر کے روز کہا کہ شمالی غزہ میں بھوک و قحط ہے۔ جبکہ جنوبی غزہ بے گھر ہونے والے فلسطینیوں سے بھرا ہوا ہے۔ سردیوں میں یہاں انسانی بنیادوں پر امداد کی سخت ضرورت ہے۔
Post Views: 68
Like this:
Like Loading...