Skip to content
جرمنی نے ترکیہ کو انتباہ کیا ہے کہ شامی کرد علاقے میں موجود کردوں کے مسلح گروپوں کے خلاف جنگ چھیڑنے سے باز رہے۔ جرمنی کی طرف سے یہ انتباہ پیر کے روز سامنے آیا ہے۔
شام میں بشارالاسد حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد شام کے امریکی حمایت یافتہ کرد گروپوں اور ترکیہ کے حامی گروپوں میں جھڑپوں کی کئی دنوں سے اطلاعات ہیں ۔ اس دوران چار روز قبل کردوں کے چار مسلح جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔
ترکیہ ان کرد مسلح گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے جبکہ امریکہ ان کی پشت پر کھڑا ہے۔ بلکہ علاقے میں انہیں امریکی اثاثے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے ان دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ کر دیا جائے۔ کیونکہ یہ دہشت گرد گروپ شامی بقا کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ ان گروپوں کو اسلامی جہادی اور کرد جنگجوؤں کا نام دیا جاتا ہے۔
جرمنی کی وزیر خارجہ اینا لینا بیئر باک نے کہا پیر کے روز ترکیہ کو ان گروپوں کے خلاف جنگ کرنے سے باز رہنے کے لیے خبر دار کیا ہے۔ کیونکہ اس وجہ سے علاقے میں داعش کو تقویت مل سکتی ہے۔ اس طرح داعش شام، ترکیہ اور یورپ کے ملکوں کے لیے خطرہ ہوگا۔
جرمنی کی وزیر خارجہ نے کہا یہ کرد گروپ ہی تھے جنہوں نے داعش کو پسپائی پر مجبور کیا تھا۔ جبکہ داعش خوفناک قتل عام کا ارتکاب کر رہی تھی۔ مگر ترکیہ ان کرد گروپوں کو دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے۔ کیونکہ ان کرد گروپوں نے ترکیہ میں کئی دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ترکیہ شام کی نئی صورت حال کو کردوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے استعمال نہ کرے۔ جو خطے میں ایک نئے تشدد کی راہ کھول دے۔
اینا لینا بیئر باک نے کہا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ یہ یقینی بنائیں کہ اب تشدد کا کوئی نیا سلسلہ نہیں ہوگا۔ تاکہ خطے کے لوگ محفوظ رہیں اور شام کو تقسیم ہونے سے بچایا جائے۔
Like this:
Like Loading...