Skip to content
بنگلہ دیش میں تبلیغی جماعت کا آپسی جھگڑا
ازقلم: شیخ سلیم
پچھلے دنوں بنگلہ دیش میں تبلیغی جماعت کے ایک اجتماع کے موقع پر آپس میں اختلاف کی وجہ سے لڑائی ہوئی اور اس میں چار افراد جاں بحق ہوئے ۔اس واقع سے اُمت مسلمہ میں تشویشِ پائی جاتی ہے آخر تبلیغی جماعت میں معاملات اتنی انتہا تک کیوں پہونچے۔
تبلیغی جماعت ایک دینی اصلاحی تحریک ہے جو مسلمانوں کی اصلاح کرنا چاہتی ہے۔ لاکھوں افراد اس میں شامل ہوکر دین کی بنیادی تعلیمات سیکھتے ہیں بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش میں لوگوں کو بنیادی تعلیمات دینے میں تبلیغی جماعت ک بڑا رول ہے۔ اِنفرادی طور پر کچھ حضرات نے غیر مسلموں میں دعوت کا کام بھی کیا ہے اس سے فائدے بھی حاصل ہوئے ہیں اس جماعت کا بنیادی مشن لوگوں کو انفرادی طور پر دین کی طرف اعمال کی طرف راغب کرنا ہے۔ تبلیغی جماعت کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے دور میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو جن سختیوں اور مظالم کا سامنا کرنا پڑا، تبلیغی جماعت عملی سیاست سے دوری کے باعث کسی طرح کی آزمائش سے نہیں گزری اس دوران تبلیغی جماعت کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اتحاد، انصاف، اور بھلائی کی تلقین کی ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے: "سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو” (آل عمران: 103)۔ اسی طرح فرمایا: "تم میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہونے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائی سے روکیں” (آل عمران: 104)۔ تبلیغی جماعت اپنی غیرسیاسی پالیسی کی بنیاد پر صرف دینی تعلیمات کی تبلیغ کرتی ہے اور سیاسی معاملات سے کنارہ کشی اختیار کرتی ہے، ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرتی ہے ،لیکن بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے دور حکومت کے دوران پیش آنے والے واقعات نے اس خاموشی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
شیخ حسینہ کی حکومت پر بارہا انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے مذہبی و سیاسی آزادی کو دبانے کے الزامات لگائے ہیں۔ 2013 میں حفاظتِ اسلام کے مظاہرے کے دوران حکومتی کریک ڈاؤن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا۔ جماعت اسلامی کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کو جنگی جرائم کے مقدمات میں پھانسی کی سزائیں دی گئیں، اور اس جماعت پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ مساجد اور مذہبی تنظیموں کی سرگرمیوں پر بھی حکومت نے مختلف پابندیاں لگائیں۔
اس سب کے باوجود، تبلیغی جماعت نے نہ کسی حکومتی مظالم کے خلاف آواز بلند کی اور نہ ہی کسی سیاسی تحریک میں حصہ لیا۔خاموشی اختیار کی اس کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ جماعت کا مقصد صرف دین کی تبلیغ ہے اور وہ سیاسی معاملات میں مداخلت سے اپنے مشن کو نقصان پہنچنے سے بچاتی ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت کے اثر و رسوخ کو سماجی انصاف اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ 2019 کے تبلیغی اجتماع میں تقریباً 20 لاکھ افراد کی شرکت جماعت کے بڑے اثر و رسوخ کا ثبوت ہے، لیکن یہ اثر سماجی ناانصافیوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ ظلم کے خلاف اواز اٹھانے کے لئے نہیں ہوا۔
تبلیغی جماعت کی خاموشی اور غیرجانبداری نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ جہاں یہ رویہ اس کے غیرسیاسی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے، بنگلہ دیشی معاشرے کو سیاسی جماعتوں سے رہنمائی کی اُمید تھی کیا تبلیغی جماعت کو قرآن کے اصولوں کے مطابق نیکی کی دعوت کے ساتھ ساتھ ظلم اور برائی کے خلاف بھی کھڑا نہیں ہونا چاہیے تھا؟ یا اسے اپنی جماعت کو سیاسی تنازعات سے دور ہی رکھنا چاہیے؟ یہ سوالات آج بھی زیر بحث ہیں اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے غور و فکر کا باعث ہیں۔
بنگلا دیش میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کے موقع پر آپسی جھگڑوں میں چار افراد جاں بحق ہوئے ہیں اس نے کئی سوال اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپسی اختلافات کو پر امن طریقے سے سلجھانے کے ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اصلاح معاشرہ کے ساتھ سماج کے بنیادی مسائل کے حل اور ظلم کے خلاف خاموش رہنے کی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔رسولِ پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بہت واضح ہیں ظالم کو ممکن ہو تو ہاتھ سے روکنا چاہیے نہیں تو زبان سے تو برا ضرور بولنا چاہیے۔
قریب یہی صورت حال پاکستان میں بھی ہے جہاں الیکشن میں دھاندلی کے الزامات ہیں ریاستی ظلم و جبر ،رشوت خوری، اقربا پروری ،ریاستی اداروں کا جبر، لوگوں کو غائب کرنے کے معاملات جیسے بےپناہ مسائل سے پاکستان جھنجھ رہا ہے ایسے میں ایمانی غیرت کا تقاضا ہے دینی جماعتیں انصاف کے قیام کے لیے کام کریں ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ایسے میں خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں ہے۔
Like this:
Like Loading...