Skip to content
شام کی عبوری حکومت کے قائد احمد الشرع نے منگل کے روز اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپوں کو ختم کرنے پر تمام گروپوں کو راضی کر لیا ہے۔ اب یہ تمام اپنی شناخت ختم کر کے وزارت دفاع کے تحت یکجہت ہو کر نئی شامی فوج کا حصہ بن جائیں گے۔
یہ اعلان شام کی عبوری حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا گیا ہے۔
شام کے عبوری وزیر اعظم محمد البشیر نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ وزارت نئے سرے سے اپوزیشن کے جنگجو گروپوں کو ایک ڈھانچے میں تبدیل کرے گی۔ ان گروپوں سے متعلق ارکان کے افسروں کی ایک نئی صف بندی ہوگی۔
احمد الشرع کو بطور عبوری حکومت کے قائد کے ایک مشکل مرحلہ درپیش تھا جس میں وہ کسی تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاکہ سب کو ساتھ لے کر چل سکیں اور بےشمار گروپوں کو ایک پرچم تلے جمع کر سکیں۔
ملک کے نئے حکمرانوں میں سے ایک ابو کسرہ جنہوں نے بشار الاسد کی حکومت کو گرانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، وہ عبوری حکومت میں وزیر دفاع ہوں گے۔
احمد الشرع نے مغربی ملکوں کے دورہ کرنے والے حکام کو بتایا ہے کہ ‘التحریر الشام’ کا القاعدہ سے اب تعلق نہیں ہے نہ ہی وہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ خواہ اس کا تعلق پچھلی رجیم سے ہو یا مذہبی فرقے، کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا۔
‘التحریر الشام’ کے زیر کمان جنگجوؤں نے 8 دسمبر کو دمشق کا کنٹرول سنبھالا تھا اور 13 سالہ بشار الاسد کی حکومت کو ہٹا دیا تھا۔
Like this:
Like Loading...