Skip to content
اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے پیر کے روز یہ تسلیم کیا ہے کہ اسرائیل نے تہران میں کارروائی کرتے ہوئے حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کو قتل کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی کہ اسرائیلی فوج یمنی حوثیوں کی قیادت کا سر کاٹ دیں گے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ‘ہم حوثیوں پر زیادہ شدید بمباری کریں گے اور ان کی قیادت کا سر کاٹ کر رکھ دیں گے۔ جیسا ہم نے اسماعیل ھنیہ کے ساتھ کیا، جیسا ہم نے یحییٰ السنوار کے ساتھ کیا اور جیسا ہم نے حسن نصراللہ کے ساتھ کیا۔ یہی کام ہم الحدیدہ اور صنعاء میں کریں گے۔ ‘
اسرائیلی وزیر دفاع نے پہلی بار اس بات کو عوامی سطح پر تسلیم کیا ہے کہ 31 جولائی 2024 کو تہران میں اسماعیل ھنیہ کا قتل اسرائیل کے ہاتھوں ہوا تھا۔
کاٹز نے بہت سخت لہجے میں کھلے لفظوں میں کہا ‘اسرائیل کے خلاف جو ہاتھ اٹھے گا ہم اس کو کاٹ دیں گے اور اسرائیلی فوج کے لمبے ہاتھ ہر اس فرد تک پہنچیں گے اور اسے اسرائیل کے خلاف اپنی سرگرمیوں کا جوابدہ بنائیں گے۔’ اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان وزارت دفاع کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔
اب تک اسرائیل نے کبھی بھی باضابطہ طور پر اسماعیل ھنیہ کے قتل کو تسلیم نہیں کیا تھا نہ اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ البتہ ایران و حماس کی طرف سے یہ الزام اسرائیل پر ہی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ھنیہ کو اسرائیل نے قتل کیا۔
اسماعیل ھنیہ جو اسرائیل کی غزہ میں جنگ کو رکوانے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات میں اہم کر دار ادا کر رہے تھے ، انہیں 31 جولائی کو تہران میں ان کے بیڈروم میں ایک ڈیوائس کے ذریعے قتل کر دیا گیا تھا۔
اسماعیل ھنیہ نے ایک روز قبل تہران میں نئے صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی۔ بعدازاں 27 ستمبر کو اسرائیل نے حسن نصراللہ کو بیروت میں بمباری کر کے ہلاک کر دیا۔ جبکہ 16 اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے اسماعیل ھنیہ کے جانشین اور حماس کے سربراہ یحیٰ السنوار کو رفح میں قتل کیا۔
اسرائیل کے خیال میں یحییٰ السنوار سات اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔
Like this:
Like Loading...