Skip to content
ظریفانہ: سنگھ پریوار پر سنتوں کی تلوار
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن آچاریہ نے کلن بھاگوت سے پوچھا بھیا مبارک ہو نیا سال (2025)شروع ہوا چاہتا ہے۔
کلن بولا ہم سناتن ہندو نہ تو انگریزی مہینہ مانتے ہیں اور نہ ان کا نیا سال مناتے ہیں ۔ ہمیں اپنی سنسکرتی پر گروو(فخر) ہے۔
اچھا تب تو تم لوگوں کو اپنی صد سالہ تقریبات تین سال قبل منالینا چاہیے تھا کیونکہ قمری حساب سے تم لوگ 103 سال کے ہوچکے ہو۔
کلن نے کہا بھیا تم کو نہیں معلوم ہم لوگ ہر تین سال میں ایک مہینہ بڑھا کر انگریزی سال کے ساتھ ایڈجسٹ کرلیتے ہیں۔
اچھا جب اپنی تہذیب پر اتنا ناز ہے تو ان کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی کیا ضرورت ؟ مسلمانوں کو دیکھو ۔ وہ تو ایسا نہیں کرتے؟؟
یار تم نے بھی کس کی مثال دے دی ۔ کہاں ہمارا قدیم ترین سناتن دھرم اور کہاں کل پیدا ہونے والا اسلام ؟ ان کا کیا مقابلہ ؟؟
یار کلن یہ بتاو تمہارا یہ چمچماتا آئی فون کون سا ماڈل ہے؟
یہ لیٹیسٹ ہے ابھی دوماہ قبل لانچ ہوا اور میں نے لائن لگا کر خرید لیا ۔
للن بولا اچھا اور میرا تین سال پرانا ہے بولو کون سا اچھا ہے؟ قدیم یا جدید؟؟
یار تم بھی بے تکی مثال دے دیتے ہو ۔ دھر م اور فون کے درمیان کیا مشترک ہے؟
سب کچھ مشترک ہے۔ میں اسی سے بھگتوں کو بھجن سناتا ہوں ، آن لائن آرتی میں شریک کرکے ان سے آن لائن دکشنا بھی لے لیتا ہوں ۔
توکیا سارا کرم کانڈ اس تین سال پرانے فون پر ہوجاتا ہے ؟
اور نہیں تو کیا؟ ہمارے بھگتوں کو مندر آنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرنی پڑتی اور میں بھی کئی بار ’ورک فرام ہوم‘ کرلیتا ہوں ۔
اچھا اور بھگتوں کو اس کا پتہ بھی نہیں چلتا ؟
جی نہیں میرے پیچھے مندر کی ’تھری ڈائمن شن‘ تصوریر اور سامنے ورچول مورتی ہوتی ہے ۔ بھکت سمجھتے ہیں میں مندر میں ہوں ۔
کلن آہ بھر کر بولا ہاں بھیا بھگوان تو سبھی جگہ ہیں ، مندر اور گھر میں کیا فرق ہے؟
یہی تو مسئلہ ہے کہ اصلی بھگت تو گھر بیٹھے بھگوان کے دور درشن پر اکتفاء کرلیتے ہیں اور جعلی بھگت مسجد کے نیچے شیولنگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں ۔
بھیا للن کیا بتائیں ؟ یہی بات ہمارے سنگھ چالک موہن بھاگوت کے منہ سے کیا نکل گئی کہ تمہاری برادری کے سادھو سنتوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ۔
اچھا ہمارے سادھو سنت تو فی الحال کمبھ میلے کی تیاری میں مصروف ہیں ۔ ان کو کیا معلوم کہ تمہارے سنگھ چالک کیا کہہ رہے ہیں ؟
کلن بولا وہی تو انہوں نے پونے کے اندر مراٹھی میں ایک تقریر کی اور اس پر وہ لوگ تبصرہ کررہے ہیں جو مراٹھی کا ’م‘ بھی نہیں جانتے۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر ایسا کیا کہہ دیا کہ ’ہنگامہ ہوگیا‘؟
وہ بولے رام مندر کی تعمیر کے بعد کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ نئی جگہوں پر ایسے ہی مسائل اٹھا کر ہندوؤں کے لیڈر بن سکتے ہیں۔
ہاں تو اس میں کیا غلط ہے؟ اسی چور دروازے سے تمہاری بی جے پی اقتدار پر فائز ہوئی ہے ۔
جی ہاں مگر بھاگوت جی نے یہ کہہ دیا کہ اب یہ قابل قبول نہیں ہے۔ ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے ۔
للن بولا یہ بات بھی معقول لگتی ہے کہیں نہ کہیں تو اس سلسلے کو رکنا ہی چاہیے۔
ارے بھیا یہ تم کہہ رہے ہو مگر وہ جگت گرو رام بھدراچاریہ تو اس پر آگ بگولا ہوگئے اور نہ جانے کیا کیا اناپ شناپ بکنے لگے ۔
کیوں اس نابینا بابا نے کیا کہہ دیا ؟
ارے بھائی پہلے تو کہہ دیا کہ وہ اجازت دینے والے کون ہوتے ہیں ؟ وہ ایک تنظیم کے سربراہ ہیں ہندو دھرم کے ناظم نہیں ہیں۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر بھاگوت نے تو یہی کہا نا کہ ہر روز ایک نیا مسئلہ کھڑا نہ کیا جائے تو اس سے بھدراچاریہ کو کیا پریشانی ہے؟
ارے بھائی رام بھدراچاریہ کے مطابق موہن بھاگوت کے بیانات دور اندیشی سے عاری اور خوشامد سے متاثر ہیں ۔
اس میں کیا غلط ہے ؟ہم سب ہندووں کی نازبرداری کرکے اپنی اپنی دوکان چلاتے ہیں تم لوگ دکشنا میں ووٹ لیتے ہو ہم نوٹ پر گزارہ کرتے ہیں۔
یہی تو بھدراچاریہ کہتے ہیں کہ موہن بھاگوت اپنی سیاست کررہے ہیں یعنی مسلمانوں کی خوشامد کی جارہی ہے ۔
یار یہ تو سراسر غلط بات ہے ۔ رام مندر کی تعمیر میں سنگھ پریوار کے کردار سے کون انکار کرسکتا ہے؟
کون! کیا مطلب ؟ خودرام بھدراچاریہ اس کے منکر ہیں۔ ان کے مطابق رام مندر کی تعمیر میں سنگھ کا کوئی رول نہیں ہے۔
للن بولا یار یہ تو احسان فراموشی ہے ۔ رام مندر کے پران پرتشٹھان کو ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا اور یہ راگ شروع ہوگیا؟
اور نہیں تو کیا جگت گرو کہتے ہیں جب سنگھ کا وجود نہیں تھا تب بھی ہندو مذہب موجود تھا۔ رام مندر تحریک میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا۔
اچھا ؟ سنگھ کا نہیں تو کس کا تھا ؟
بھدراچاریہ تاریخ کو شاہد بناکر کہتے’ ہم نے گواہی دی، ہم 1984 سے لڑ رہے ہیں، اس میں سنگھ نے کچھ نہیں کیا‘۔
اچھا چلو مان لیا پہلے نہیں تھا مگر اس کی تعمیر اور افتتاح میں تو پردھان جی کے ساتھ سر سنگھ چالک موجود تھے ۔
اس پر بھی ان کو اعتراض ہے کہ جب ان کی کوششوں سے مندر بن گیا تو انہیں درکنار کرکےوہ دونوں لوگ فیتہ کاٹنے کے لیے وارد ہوگئے ۔
اچھا تو کیا وہ اسے اپنی حق تلفی مانتے ہیں ؟ حالانکہ اگر مودی سرکار نے جسٹس رنجن گوگوئی کو بلیک میل نہیں کیا ہوتا تو یہ فیصلہ ناممکن تھا ۔
ہاں بھائی حقیقت تو یہی ہے لیکن اگر کوئی مخالفت پر اتر ا آئے تو اس کا کیا کیا جائے؟
اچھا خیر اب آگے کے لیے جگت گرو کا کیا مارگ درشن ہے؟
رام بھدراچاریہ کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے ماضی کو یاد رکھنا چاہیے،اگر ہمارے مندروں کو گرایا گیاہے تو ہمیں اپنے مندروں کو یاد رکھنا چاہیے۔
للن بولا ان کو یاد رکھنے سے کون منع کرتا ہے ؟ لیکن اب اسے واپس لینے کی کوشش کی جائے گی تو خون خرابہ ہوگا ۔ اس کا کیا فائدہ؟
یہی تو موہن بھاگوت کہہ رہے ہیں کہ ’وشووگرو‘ بننے کے لیے ہندوستان کو یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ ہم ساتھ رہ سکتے ہیں۔
للن نے سوال کیا اچھا یہی بات تھی تو رام مندر کے نام پر پورے ملک میں آگ اور خون کی ہولی کیوں کھیلی گئی ؟
موہن بھاگوت کے پاس اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تمام ہندوؤں کے لیے عقیدہ کا معاملہ تھا۔
جی ہاں یہی بات عدالت نے بھی کہی کہ اسے رام مندر کا کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن اگر عدلیہ بھی شواہد کے بجائے عقائد پر فیصلہ کرنے لگے تو کیا ہو؟
بھاگوت کے خیال میں دین کا ناقص اور نامکمل علم بددیانتی کی طرف لے جاتا ہے۔
یار تمہارے سر سنگھ چالک نے اتنی بڑی بات کردی۔ اس پر انہیں مبارکباد دی جانی چاہیے۔
جی ہاں اوربھاگوت یہ بھی بولے کہ دنیا بھر میں مذہب کے نام پر جتنے بھی مظالم ہوئے ہیں وہ دراصل مذہب کی غلط فہمی کے سبب ہوئے ۔
اچھا تو اس دانشمندی کی بات پر رام بھدراچاریہ نے کچھ کہا یا نہیں؟
ارے وہ تو کہتے ہیں موہن بھاگوت ہندوؤں کے قائد نہیں ہو سکتے،یہ مقام و مرتبہ تو صرف آچاریہ حضرات کے لیے مختص ہے۔
للن نے پوچھا اچھا تو کیا وہاں بھی ریزرویشن ہے؟ موہن بھاگوت ہندو سماج کی قیادت کیوں نہیں کرسکتے؟
جگت گرو کے مطابق بھاگوت ہندو مذہب کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ ان کا بیان افسوس ناک ہے۔سنگھ صرف سیاست کی روٹی سینکتا ہے۔
مجھے تو لگتا ہے کہ یہ جگت گرو راہُل گاندھی کا آدمی ہےکیونکہ انہیں کی بولی بول رہا ہے۔
ارے بھائی پورا سنت سماج بھاگوت جی کے اوپر راشن پانی لے کر چڑھ گیا ہے۔ کوئی انہیں سیکولر کہہ رہا اور کوئی سٹھیا جانے کا طعنہ دے رہا ہے۔
اچھا ! تو یہ لوگ چاہتے کیا ہیں ؟
یہ چاہتے ہیں کہ سرسنگھ چالک اپنا بیان واپس لیں اور پورے ہندو سماج سے معافی مانگیں ۔
اچھا! بات یہاں تک پہنچ گئی ؟ لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر گودی میڈیا ان سادھو سنتوں کو نظر انداز کیوں نہیں کررہا ہے ؟
جی ہاں اگر میڈیا ان کے پاس نہ جائے تو کسی کو پتہ ہی نہ چلے کہ وہ کیا بک بک کررہے ہیں ؟
مجھے تو لگتا ہے دال میں کچھ کالا ہے ورنہ یوگی اور مودی کے ہوتے کس کی مجال ہے کہ موہن بھاگوت کی توہین کرے ؟
جی ہاں یوگی نے تو اپنے حریف شاہ پر تنقید کرنے والے صحافی کو بھی جیل بھیج دیا ۔
اچھا اور ان لوگوں پر کوئی روک ٹوک نہیں جو سنگھ کی بخیہ ادھیڑ رہے ہیں ۔
ہاں یار ہم لوگوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ سنگھ کے سوسال کی محنت کے بعد ڈبل انجن سرکار کے چلتے ہمارے سنگھ چالک کی یہ درگت ہوگی؟
یار کلن یہ بتاو کہ پردھان جی کا چھپن انچ کا سینہ اور لال لال آنکھیں کہاں چلی گئیں ؟ وہ ان سادھو سنتوں کو ڈراتے کیوں نہیں ؟
بھائی اندر کی بات بتاوں ۔ مجھے تو شک ہے کہ یہ ناٹک انہیں کے اشارے اور آشیرواد سے کھیلا جارہا ہے۔
پردھان جی کے اشارے سے سرسنگھ چالک کی توہیں ناقابلِ فہم ہے؟
ارے بھائی ان دونوں کے درمیان پرانی حریفائی ہے۔2024 پہلے پردھان جی ان کو اہمیت نہیں دیتے تھے بعد میں بھاگوت تنقید کرنے لگے ۔
ہاں یار پچھلے الیکشن کے بعد آہنکار اور بھگوان والے بیانات سے پردھان کی بہت سبکی ہوئی تھی۔
مجھے تو لگتا ہے اسی کا انتقام لیا جارہا ہے ۔
ہاں مگر اس مہا بھارت کا انجام کیا ہوگا؟
کلن بولا کیا تم بھول گئے کہ اڈوانی کی سیاسی زندگی بھی اسی طرح کی صاف گوئی کے نذر ہوگئی تھی ۔
جی ہاں اس وقت سنگھ نےان کو سمجھداری کی سزا دے کر سنیاس لینے پر مجبور کردیا تھا ۔
لیکن اب تو الٹا ہورہا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
بھائی اس وقت ہمارے پاس اقتدار نہیں تھا اس لیے سنگھ پریوارکا بول بالا ہوگیا اب چونکہ اقتدار ہے اس لیے سرکار غالب ہوگئی ۔
یار لیکن یہ سرکار بھی تو تمہاری اپنی ہی ہے؟
یہ تم جیسے بھولے بھالے لوگوں کا خیال ہے۔ سچ تو یہ ہے سرکار دربار کسی کا نہیں ہوتا ۔
Post Views: 217
Like this:
Like Loading...